حدیث نمبر: 10422
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ السَّلِيحِيُّ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا قَرِيبًا مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَخَرَجَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ ، فَاسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَخَطَبَ ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ، وَكَانَ مَنْ أَقْرَأِ النَّاسِ . فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالملک بن ملیل سلیحی بیان کرتے ہیں : جمعہ کے دن میں منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا محمد بن ابوحذیفہ نکلا اور منبر پر کھڑا ہو گیا اس نے خطبہ دینا شروع کیا پھر اس نے لوگوں کے سامنے قرآن کی کوئی سورت تلاوت کی اور وہ سب سے عمدہ تلاوت کرتا تھا تو سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کچھ ایسے لوگ ضرور قرآن پڑھیں گے کہ وہ قرآن ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10422
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (325/17) اخرجه احمد فى المسند (145/4)»