مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " تَكُونُ خَلَفٌ بَعْدَ السِّتِّينَ أَضَاعُوا الصَّلَوَاتِ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ، ثُمَّ يَكُونُ خَلَفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ : مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ " . ¤ قَالَ بَشِيرٌ : فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ : مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ ؟ قَالَ : الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ ، وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ كَذَلِكَ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ساٹھ ( سال ) کے بعد ایسے لوگ آئیں گے ، جو نماز ضائع کریں گے نفسانی خواہشات کی پیروی کریں گے ، اور وہ عنقریب جہنم میں پہنچ جائیں گے پھر ایسے لوگ آئیں گے ، جو قرآن پڑھیں گے ، اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا قرآن تین قسم کے لوگ پڑھیں گے مومن ، منافق اور فاجر “ ۔ بشیر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے ولید سے دریافت کیا : ان تین قسم کے لوگوں سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : منافق سے مراد وہ شخص ہے ، جو اس کا انکار کرتا ہو فاجر سے مراد وہ شخص ہے ، جو اس کا معاوضہ کھاتا ہو ، اور مومن سے مراد وہ شخص ہے ، جو اس پر ایمان رکھتا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ۔