مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : ¤ لَمَّا قَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَنَائِمَ هَوَازِنَ ، قَامَ رَجُلٌ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَقُومُ فَأَقْتُلُ هَذَا الْمُنَافِقَ ؟ قَالَ : " مَعَاذَ اللَّهِ ، أَتَتَسَامَعُ الْأُمَمُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کا مال غنیمت تقسیم کیا ، تو ایک شخص کھڑا ہوا راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اٹھ کر اس منافق کو قتل نہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو یہ کہتے پھریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔