حدیث نمبر: 10420
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ : هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ أَحِدَّاءُ ، ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ ، لَا يَتَجَاوَزُ تَرَاقِيَهُمْ ، أَلَا إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ ، إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ ، فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ رَوَاهُ أَيْضًا ، وَكَذَلِكَ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مسلم بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے سوال کیا : کیا آپ نے خوارج کے بارے میں کوئی بات سنی ہے ۔ انہوں نے بتایا : میں نے اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” خبردار ! عنقریب میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے ، جو سخت اور تیز ہوں گے ، اُن کی زبانیں قرآن کے حوالے سے بلیغ ( یا تیز ہوں گی اور وہ قرآن اُن کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، خبردار ! جب تم انہیں دیکھو تو انہیں مار دینا ، جب تم انہیں دیکھو ، تو انہیں مار دینا ، کیونکہ ان کو قتل کرنے والے کو اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اور اسی طرح امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10420
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1859) اخرجه احمد فى المسند (44/5)»