مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصَرِيِّ : إِنَّ الصُّرَيْمَ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ بِالْبِدَارِ - قَرْيَةٍ بِالْبَصْرَةِ - وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى عَلِيٍّ بِالْكُوفَةِ ، مَعَهُ امْرَأَتُهُ وَوَلَدُهُ وَجَارِيَتُهُ ، فَقَالَ : هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسْأَلُهُ عَنْ حَالِنَا وَأَمْرِنَا وَمَخْرَجِنَا ؟ فَقَالُوا : بَلَى . فَانْصَرَفُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا : أَلَا تُخْبِرُنَا هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا شَيْئًا ؟ فَقَالَ : أَمَّا فِيكُمْ بِأَعْيَانِكُمْ فَلَا ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فَوْقِهِ ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ ، شَرُّ قَتْلَى أَظَلَّتْهُمُ السَّمَاءُ وَأَقَلَّتْهُمُ الْأَرْضُ ، كِلَابُ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْكَلَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَيَأْتِي لَهُ حَدِيثٌ فِي الْفِتَنِ . ¤حسن بن ابوالحسن بصری بیان کرتے ہیں : صریم کی ملاقات ” بدار “ کے مقام پر عبداللہ بن خباب سے ہوئی یہ بصرہ کی ایک بستی ہے وہ صاحب اس وقت کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف جا رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کی بیوی اور بچے اور کنیز بھی تھے انہوں نے کہا: یہ اللہ کے رسول کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ہیں ہمیں ان سے اپنی حالت اپنے معاملے اور اپنے نکلنے کے بارے میں دریافت کرنا چاہیے لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے وہ لوگ ان کی طرف چلے گئے انہوں نے کہا: کیا آپ ہمیں بتائیں گے نہیں کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے بارے میں کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ۔ انہوں نے فرمایا : جہاں تک بطور خاص تمہارے بارے میں کا تعلق ہے وہ تو نہیں سنا لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے ، جو قرآن کی تلاوت کریں گے وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے نکل جائیں گے ، اور پھر وہ دوبارہ اس میں اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک تیر اپنے نکلنے کی جگہ تک واپس نہیں آتا اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جو انہیں قتل کرے گا اور اس شخص کے لئے بھی مبارکباد ہے ۔ جسے وہ لوگ قتل کریں گے وہ ( یعنی خوارج ) آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر موجود بدترین مقتول ہوں گے ، اور جہنم کے کتے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر کلاعی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ان صحابی کے حوالے سے منقول ایک حدیث فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔