مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ قَالَ : ¤ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مَجْزُوزُ الرَّأْسِ - أَوْ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ - قَالَ : مَا عَدَلْتَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ أَنَا ؟ " . ¤ قَالَ : فَغَفَلَ عَنِ الرَّجُلِ ، فَذَهَبَ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الرَّجُلُ ؟ " . فَطُلِبَ فَلَمْ يُدْرَكْ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي قَوْمٌ سِيمَاهُمْ سِيمَا هَذَا ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَنْظُرُ فِي قِدْحِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، يَنْظُرُ فِي رِصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، يَنْظُرُ فِي فَوْقِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کا سر مونڈا ہوا تھا اس نے کہا: آپ نے عدل سے کام نہیں لیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میں عدل نہیں کروں گا ، تو پھر کون عدل کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اس شخص سے ہٹ گئی اور وہ شخص چلا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ شخص کہاں ہے لوگوں نے اسے تلاش کیا لیکن وہ اس تک نہیں پہنچ پائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے جن کی مخصوص نشانی اس کے جیسی ہو گی ( یعنی وہ سر مونڈواتے ہوں گے ) وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے اگر آدمی تیر کی لکڑی کا جائزہ لے ، تو اسے کچھ نظر نہیں آتا ہے ، اگر وہ اس کے پروں کو دیکھے ، تو اسے کچھ نظر نہیں آتا ہے ، اگر وہ اس کے فوق کو دیکھے تو اسے کچھ نظر نہیں آتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔