مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ قَالَ : ¤ كَانَ صَاحِبٌ لِي يُحَدِّثُنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي شَأْنِ الْخَوَارِجِ ، فَحَجَجْتُ ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَقُلْتُ : إِنَّكَ بَقِيَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ عِنْدَكَ عِلْمًا ، إِنَّ نَاسًا يَطْعَنُونَ عَلَى أُمَرَائِهِمْ ، وَيَشْهَدُونَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ ، قَالَ : عَلَى أُولَئِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسِقَايَةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ، فَجَعَلَ يُقَسِّمُهَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَئِنْ كَانَ اللَّهُ أَمَرَكَ بِالْعَدْلِ ، فَلَمْ تَعْدِلْ . فَقَالَ : " وَيْلَكَ ، فَمَنْ يَعْدِلُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي ؟ " . فَلَمَّا أَدْبَرَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ فِي أُمَّتِي أَشْبَاهَ هَذَا ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، فَإِنْ خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ، ثُمَّ إِنْ خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ " قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عقبہ بن وساج بیان کرتے ہیں : میرے ایک ساتھی نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خوارج کے بارے میں حدیث بیان کی ہے میں حج کے لئے گیا میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے باقی رہ جانے والے افراد میں سے ایک ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم سے نوازا ہے کچھ لوگ اپنے حکمرانوں پر طعن کرتے ہیں ، اور ان کے بارے میں گمراہی کی گواہی دیتے ہیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے یا چاندی کا ایک تھیلا لایا گیا آپ نے اسے اپنے اصحاب کے درمیان تقسیم کرنا شروع کیا ، تو ایک دیہاتی شخص کھڑا ہوا اور بولا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ نے آپ کو عدل کرنے کا حکم دیا ہے ، اور آپ پھر بھی عدل سے کام نہیں لے رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو میرے بعد تمہارے ساتھ کون عدل کرے گا ؟ جب وہ شخص واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں اس جیسے لوگ ہوں گے وہ قرآن پڑھیں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا اگر وہ خروج کریں تو تم انہیں قتل کر دینا پھر اگر وہ خروج کریں تو تم انہیں قتل کر دینا “ ۔ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔