مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ : ¤ لَمَّا جَاءَتْنَا بَيْعَةُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَأُخْبِرْتُ بِمَقَامٍ يَقُومُهُ نَوْفٌ فَجِئْتُهُ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاشْتَدَّ النَّاسُ ، عَلَيْهِ خَمِيصَةٌ ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَلَمَّا رَآهُ نَوْفٌ أَمْسَكَ عَنِ الْحَدِيثِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ ، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ " . حَتَّى عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَى عَشْرِ مَرَّاتٍ : " كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ مِنْهُمْ قُطِعَ ، حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ . وَشَهَرٌ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : جب یزید بن معاویہ کی بیعت ہمارے پاس آئی ، تو میں شام آیا مجھے اس جگہ کے بارے میں بتایا گیا جہاں نوف کھڑے ہوتے تھے میں ان کے پاس آیا اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا لوگوں نے جلدی کی اس شخص کے جسم پر ایک چادر تھی وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تھے جب نوف نے انہیں دیکھا تو حدیث بیان کرنے سے رک گیا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مشرق کی طرف سے عنقریب میری امت میں سے کچھ لوگ نکلیں گے ، جو قرآن کی تلاوت کریں گے ، اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ان میں سے جب بھی کوئی گروہ نکلے گا ، تو وہ مار دیا جائے گا جب دوسرا گروہ نکلے گا ، تو وہ مار دیا جائے گا “ ۔ یہاں تک کہ انہوں نے دس سے زیادہ مرتبہ اس چیز کو شمار کروایا کہ جب بھی ان میں سے کوئی گروہ نکلے گا ، تو اسے مار دیا جائے گا ، یہاں تک کہ ان کے باقی بچ جانے والے لوگوں میں دجال نکلے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے شہر بن حوشب نامی راوی ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔