مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : ¤ كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنِي عَنِ الْخَوَارِجِ ، فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا بَرْزَةَ ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ فِي الْخَوَارِجِ . قَالَ : أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَرَأَتْ عَيْنَايَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَنَانِيرَ يُقَسِّمُهَا ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ أَسْوَدُ ، مَطْمُومُ الشَّعْرِ ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ ، فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا ، فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ يَمِينِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ مُنْذُ الْيَوْمِ . فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضَبًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي " قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ - كَانَ هَذَا مِنْهُمْ - هَدْيُهُمْ هَكَذَا ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، لَا يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ " . وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ " سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ ، لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ " قَالَهَا ثَلَاثًا " شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ " قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ وَقَالَ حَمَّادٌ : " لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ " . ¤شریک بن شہاب بیان کرتے ہیں میری یہ خواہش تھی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی صاحب سے ملوں جو مجھے خوارج کے بارے میں کوئی حدیث بیان کریں ایک مرتبہ عرفہ کے دن میری ملاقات سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے میں نے کہا: اے سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کے بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہو ، تو انہوں نے جواب دیا : میں تمہیں وہ حدیث بیان کروں گا ، جو میرے کانوں نے سنی ہے ، اور میری آنکھیں اس وقت دیکھ رہی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دینا رلائے گئے آپ نے انہیں تقسیم کرنا شروع کیا آپ کے پاس ایک سیاہ فام شخص موجود تھا جس کے بال مونڈے ہوئے تھے اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سجدے کا نشان موجود تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا وہ سامنے کی طرف سے آپ کے پاس آیا تو آپ نے اسے کچھ نہیں دیا پھر وہ دائیں طرف سے آپ کے پاس آیا تو آپ نے اسے کچھ نہیں دیا پھر وہ پیچھے کی طرف سے آپ کی طرف آیا تو آپ نے اسے کچھ نہیں دیا اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کی قسم آج آپ نے تقسیم کرتے ہوئے عدل سے کام نہیں لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید غصے میں آ گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم تم میرے بعد کسی ایسے شخص کو نہیں پاؤ گے ، جو تمہارے لئے مجھ سے زیادہ عادل ہو یہ کلمات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا : مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے یہ بھی ان میں سے ایک لگتا ہے ان کی ظاہری ہیئت اس کی مانند ہو گی وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے پھر وہ دین کی طرف واپس نہیں آئیں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یا راوی صحابی نے ) اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا ( اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ان کی مخصوص نشانی سر مونڈوانا ہو گی وہ مسلسل دین سے نکلتے رہیں گے ، یہاں تک کہ ان کا آخری فرد بھی دین سے نکل جائے گا جب تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دینا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی : ( اور پھر فرمایا : ) وہ خلق اور خلیقہ ( یعنی ہر قسم کی ساری مخلوق ) میں بدترین ہوں گے یہ بات بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہاں حماد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ اس ( دین ) میں واپس نہیں آئیں گے “ ۔