حدیث نمبر: 10405
وَعَنْ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : ¤ خَرَجْتُ أَنَا وَتَلِيدُ بْنُ كِلَابٍ اللَّيْثِيُّ حَتَّى أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ مُعَلِّقًا نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ ، فَقُلْنَا لَهُ : هَلْ حَضَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ كَلَّمَهُ التَّمِيمِيُّ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يُقَالُ لَهُ : ذُو الْخُوَيْصِرَةِ ، فَوَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُعْطِي النَّاسَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قَدْ رَأَيْتُ مَا صَنَعْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجَلْ ، فَكَيْفَ رَأَيْتَ ؟ " . قَالَ : لَمْ أَرَكَ عَدَلْتَ . قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " وَيْحَكَ ، إِنْ لَمْ يَكُنِ الْعَدْلُ عِنْدِي ، فَعِنْدَ مَنْ يَكُونُ ؟ " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَحِمَهُ اللَّهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَقْتُلُهُ ؟ قَالَ : " لَا ، دَعُوهُ ، فَإِنَّ لَهُ شِيعَةً يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهُ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا ، ثُمَّ فِي الْقَدَحِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ، ثُمَّ فِي الْفَوْقِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ سِوَى الْفَرْثِ وَالدَّمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن حارث بن نوفل رضی اللہ عنہ کے غلام مقسم بیان کرتے ہیں : میں اور تلید بن کلاب لیثی ، ہم نکلے اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جو بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور انہوں نے اپنے جوتے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے ہم نے ان سے کہا: کیا آپ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب غزوہ حنین کے ( مال غنیمت کی تقسیم ) کے دن تمیمی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گفتگو کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں بنو تمیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس کا نام ذوالخویصرہ تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو ادائیگیاں کر رہے تھے اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صبح سے جو کر رہے ہیں وہ میں دیکھ رہا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے تم نے کیا دیکھا ہے اس نے کہا: آپ کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو اگر عدل میرے پاس نہیں ہو گا ، تو پھر کس کے پاس ہو گا ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کے کچھ ساتھی ہوں گے ، جو دین میں تعمق اختیار کریں گے ، یہاں تک کہ وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے آدمی اس کے پھل کا جائزہ لیتا ہے ، تو اسے کچھ نظر نہیں آتا پھر آدمی اس کی لکڑی کا جائزہ لیتا ہے ، تو کوئی چیز نہیں پائی جاتی ، پھر آدمی تار میں تیر کے لگنے کی جگہ کو دیکھتا ہے ، تو اس میں کوئی چیز نہیں پائی جاتی حالانکہ وہ لید اور خون میں سے گزرا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10405
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7038)»