مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : ¤ أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَنَانِيرَ ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَةً قَبْضَةً ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ ، كَأَنَّهُ يُؤَامِرُ أَحَدًا مَنْ يُعْطِي - قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : يُؤَامِرُ أَحَدًا ثُمَّ يُعْطِي - وَرَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ ، فَقَالَ : مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ . فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " مَنْ يَعْدِلُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَقْتُلُهُ ؟ قَالَ : " لَا " . ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، لَا يَتَعَلَّقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دینار لائے گئے آپ انہیں مٹھی میں بھر بھر کے دیکھنے لگے پھر آپ نے اپنے دائیں طرف دیکھا جیسے آپ کسی شخص کو دینے کے بارے میں سوچ رہے ہوں یہاں عفان نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : کہ آپ کسی شخص کے بارے میں جائزہ لے رہے تھے کہ آپ وہ کس شخص کو دیں اسی دوران ایک سیاہ فام شخص جس کا سر مونڈا ہوا تھا ، اور اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سجدے کا نشان موجود تھا اس نے کہا: آپ نے تقسیم کرتے ہوئے عدل سے کام نہیں لیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے آپ نے فرمایا : میرے بعد تمہارے ساتھ کون عدل کرے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : یہ اور اس کے ساتھی دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ، اور ان کا اسلام کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔