مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : ¤ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ ، فَقَالُوا فِيهِ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ يَقْتُلُهُ ؟ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا ، فَذَهَبَ فَوَجَدَهُ قَدْ خَطَّ عَلَى نَفْسِهِ خُطَّةً وَهُوَ يُصَلِّي فِيهَا ، فَلَمَّا رَآهُ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ رَجَعَ وَلَمْ يَقْتُلْهُ . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَقْتُلُهُ ؟ " . فَقَالَ عُمَرُ : أَنَا ، فَذَهَبَ فَرَآهُ فِي خَطِّهِ قَائِمًا يُصَلِّي ، فَرَجَعَ وَلَمْ يَقْتُلْهُ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَهُ - أَوْ : مَنْ يَقْتُلُهُ - ؟ " فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ ، وَلَا أَرَاكَ تُدْرِكُهُ " . فَانْطَلَقَ فَرَآهُ قَدْ ذَهَبَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا لوگوں نے اس کے بارے میں کوئی بات کی اور اس کی تعریف بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون اسے قتل کرے گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ، وہ گئے انہوں نے اس شخص کو پایا کہ اس نے اپنے لئے ایک لکیر لگائی ہے ، اور وہاں نماز ادا کر رہا ہے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اس حالت میں دیکھا تو وہ واپس آ گئے ، اور انہوں نے اسے قتل نہیں کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون اسے قتل کرے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ، وہ گئے انہوں نے اس لکیر کو دیکھا کہ وہ شخص نماز ادا کر رہا ہے ، تو وہ واپس آ گئے ، اور انہوں نے اسے قتل نہیں کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون اسے سنبھالے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کون اسے قتل کرے گا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کر دو گے ، لیکن تمہارے بارے میں میرا یہ نہیں خیال کہ تم اس تک پہنچ پاؤ گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے ، تو انہوں نے دیکھا کہ وہ شخص جا چکا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔