مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ¤ كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يُعْجِبُنَا تَعَبُّدُهُ وَاجْتِهَادُهُ ، فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِاسْمِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، وَوَصَفْنَاهُ بِصِفَتِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَذْكُرُهُ إِذْ طَلَعَ الرَّجُلُ ، قُلْنَا : هَا هُوَ ذَا . قَالَ : " إِنَّكُمْ لَتُخْبِرُونِي عَنْ رَجُلٍ إِنَّ عَلَى وَجْهِهِ سَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ " . ¤ فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُسَلِّمْ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ ، هَلْ قُلْتَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَى الْمَجْلِسِ : مَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلُ مِنِّي ؟ " قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، ثُمَّ دَخَلَ يُصَلِّي . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ ؟ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَوَجَدَهُ قَائِمًا يُصَلِّي ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! أَقْتُلُ رَجُلًا يُصَلِّي ، وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ ؟ فَخَرَجَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " مَا فَعَلْتَ ؟ " . قَالَ : كَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ وَهُوَ يُصَلِّي ، وَقَدْ نَهَيْتَ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ . ¤ قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، فَدَخَلَ فَوَجَدَهُ وَاضِعًا وَجْهَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَبُو بَكْرٍ أَفْضَلُ مِنِّي . فَخَرَجَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَهْ ؟ " قَالَ : وَجَدْتُهُ وَاضِعًا وَجْهَهُ فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ . ¤ فَقَالَ : " مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ ؟ " . فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا . فَقَالَ : " أَنْتَ إِنْ أَدْرَكْتَهُ " . قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَوَجَدَهُ قَدْ خَرَجَ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَهْ " . قَالَ : مَا وَجَدْتُهُ . ¤ قَالَ : " لَوْ قُتِلَ مَا اخْتَلَفَ فِي أُمَّتِي رَجُلَانِ ، كَانَ أَوَّلَهُمْ وَآخِرَهُمْ " . ¤ قَالَ مُوسَى : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ : هُوَ الَّذِي قَتَلَهُ عَلِيٌّ ، ذُو الثِّدْيَةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤ وَلَهُ طَرِيقٌ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ الْفِتَنِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا جس کی عبادت گزاری اور عبادت میں محنت ہمیں اچھی لگتی تھی ہم نے اس کا نام لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا ، تو نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پہچانا ہم نے اس کا حلیہ بیان کیا ، تو آپ نے اسے نہیں پہچانا ابھی ہم اس کا ذکر کر ہی رہے تھے کہ اسی دوران وہ شخص سامنے آ گیا ہم نے عرض کی : وہ یہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے مجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتایا ہے ، جس کے چہرے پر شیطان کا داغ ( یا ٹھپہ ) ہے ، وہ شخص آیا اور ان حضرات کے پاس ٹھہر گیا اس نے سلام نہیں کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جب تم اس محفل کے پاس آ کر ٹھہرے تھے ، تو کیا تم نے من میں یہ سوچا تھا کہ ان لوگوں میں کوئی بھی مجھ سے زیادہ فضلیت نہیں رکھتا ہے اس نے جواب دیا اللہ جانتا ہے جی ہاں پھر وہ شخص اندر گیا اور نماز ادا کرنے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون اس شخص کو قتل کرے گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے ، تو انہوں نے اس شخص کو کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو انہوں نے سوچا سبحان اللہ کیا میں نماز ادا کرنے والے شخص کو قتل کر دوں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے وہ باہر آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کیا کیا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اس کو قتل کرنے کو ناپسند کیا کیونکہ وہ نماز ادا کر رہا تھا ، اور آپ نے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ایسا کروں گا وہ اندر گئے ، تو انہوں نے اس شخص کو پایا کہ اس نے پیشانی زمین پر رکھی ہوئی تھی ( یعنی سجدے کی حالت میں تھا ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ( اگر انہوں نے اسے قتل نہیں کیا ، تو میں بھی نہیں کرتا ) پھر وہ باہر آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اسے پایا کہ اس نے اپنی پیشانی رکھی ہوئی تھی ، تو میں نے اس کو قتل کرنے کو ناپسند کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون اسے قتل کرے گا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کر دو گے اگر تم اس تک پہنچ پائے راوی کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر گئے ، تو انہوں نے اس شخص کو پایا کہ وہ جا چکا تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اسے نہیں پایا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر یہ شخص قتل ہو جاتا تو میری امت کے دو آدمیوں میں بھی اختلاف نہیں ہونا تھا یہ ان ( اختلاف کرنے والوں میں ) پہلا اور آخری فرد ہونا تھا “ ۔ موسیٰ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن کعب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جس شخص کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا وہ ذو ثدیہ تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال میں سے بعض رجال کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو اس سے زیادہ طویل ہے ، اور وہ فتنوں سے متعلق باب میں آئے گا ۔