حدیث نمبر: 10401
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ¤ كَانَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجَعَ وَحَطَّ عَنْ رَاحِلَتِهِ عَمَدَ إِلَى مَسْجِدِ الرَّسُولِ ، فَجَعَلَ يُصَلِّي فِيهِ ، فَيُطِيلُ الصَّلَاةَ حَتَّى جَعَلَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرَوْنَ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَيْهِمْ . فَمَرَّ يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ فِي أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ ذَاكَ الرَّجُلُ ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِمَّا جَاءَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقْبِلًا ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ سَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ " . فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى الْمَجْلِسِ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَقُلْتَ فِي نَفْسِكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَى الْمَجْلِسِ : لَيْسَ فِي الْقَوْمِ خَيْرٌ مِنِّي ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى نَاحِيَةً مِنَ الْمَسْجِدِ فَخَطَّ خَطًّا بِرِجْلِهِ ، ثُمَّ صَفَّ كَعْبَيْهِ فَقَامَ يُصَلِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ ؟ " . فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ ؟ " فَقَالَ : وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَهِبْتُهُ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ ؟ " فَقَالَ عُمَرُ : أَنَا ، وَأَخَذَ السَّيْفَ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي فَرَجَعَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ : " أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَهِبْتُهُ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ ؟ " . قَالَ عَلِيٌّ : أَنَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ لَهُ إِنْ أَدْرَكْتَهُ " . فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَجِدْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ ؟ " . قَالَ : لَمْ أَدْرِ أَيْنَ سَلَكَ مِنَ الْأَرْضِ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا أَوَّلُ قَرْنٍ خَرَجَ فِي أُمَّتِي " . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ قَتَلْتَهُ - أَوْ قَتَلَهُ - مَا اخْتَلَفَ فِي أُمَّتِي اثْنَانِ ، إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ - يَعْنِي أُمَّتَهُ - سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا فِرْقَةً وَاحِدَةً " . قُلْنَا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَنْ تِلْكَ الْفِرْقَةُ ؟ قَالَ : " الْجَمَاعَةُ " . ¤ قَالَ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ : فَقُلْتُ لِأَنَسٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، فَأَيْنَ الْجَمَاعَةُ ؟ قَالَ : مَعَ أُمَرَائِكُمْ مَعَ أُمَرَائِكُمْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَيَزِيدُ الرِّقَاشِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ صَحَّ قَبْلَهُ حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوا جب آپ واپس تشریف لائے ، تو وہ شخص اپنی سواری سے اترا اور مسجد نبوی کی طرف گیا اور اس میں نماز ادا کرنے لگا اس نے نماز کو طول دیا ، یہاں تک کہ صحابہ کرام یہ سمجھنے لگے کہ اس شخص کو سب لوگوں پر فضیلت حاصل ہے ایک دن وہ شخص گزرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے آپ کے کسی صحابی نے آپ کی خدمت میں عرضی کی : یا رسول اللہ ! یہ وہی شخص ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا ، یا وہ شخص خود اس طرف آ گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آتے ہوئے ملاحظہ کیا ، تو ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان شیطان کا شیطان کا داغ ( یا ٹھپہ ) ہے ، جب وہ شخص اس محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : جب تم اس محفل کے پاس آ کر ٹھہرے تھے ، تو کیا تم نے من میں یہ سوچا تھا کہ ان لوگوں میں کوئی بھی مجھ سے بہتر نہیں ہے اس نے جواب دیا : جی ہاں پھر وہ شخص چلا گیا وہ مسجد کے ایک کونے میں آیا اس نے اپنے پاؤں کے ذریعے ایک لکیر کھینچی اپنی ایڑیاں درست کیں اور پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کون اٹھ کر اس کی طرف جا کر اسے قتل کرے گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو میں اس سے ڈر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کون اٹھ کر اس کی طرف جائے گا اور اسے قتل کر دے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ، انہوں نے تلوار لی انہوں نے اس شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو وہ بھی واپس آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو میں اس سے ڈر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کون اٹھ کر اس شخص کی طرف جائے گا اور قتل کر دے گا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے کر دو گے اگر تم نے اسے پایا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے ، تو انہوں نے اس شخص کو نہیں پایا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ زمین میں کہاں چلا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ میری امت میں خروج کرنے والا پہلا گروہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : اگر تم اسے قتل کر دیتے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو میری امت کے دو افراد کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہونا تھا بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور یہ امت ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ) عنقریب بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی ایک گروہ کے علاوہ باقی سب جہنم میں جائیں گے ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! وہ ایک گروہ کون سا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الجماعة یزید رقاشی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے ابوحمزہ ! جماعت کہاں ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تمہارے حکمرانوں کے ساتھ تمہارے حکمرانوں کے ساتھ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے یزید رقاشی نامی راوی کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اس کی کمزوری توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مستند روایت گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10401
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (90)»