حدیث نمبر: 10373
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : سَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَجُلًا يَقُولُ : أَيْنَ الزَّاهِدُونَ فِي الدُّنْيَا الرَّاغِبُونَ فِي الْآخِرَةِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أُولَئِكَ ذَهَبُوا ، أَصْحَابُ الْجَابِيَةِ . اشْتَرَطَ خَمْسُمِائَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ لَا يَرْجِعُوا حَتَّى يُقْتَلُوا ، فَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَقُتِلُوا ، إِلَّا مُخْبِرًا عَنْهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَهُوَ كَثِيرُ الْخَطَأِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : دنیا سے بے رغبتی رکھنے والے اور آخرت سے رغبت رکھنے والے لوگ کہاں ہیں ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ لوگ تو چلے گئے ہیں یہ جابیہ والے لوگ تھے پانچ سو مسلمانوں نے یہ طے کیا تھا کہ وہ واپس نہیں جائیں گے ، یہاں تک کہ شہید ہو جائیں گے انہوں نے اپنے سر مونڈ لئے تھے دشمن کا سامنا کیا تھا ، اور سب شہید ہو گئے تھے صرف وہ شخص بچا تھا جس نے ان کے بارے میں خبر دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے وہ بکثرت غلطی کرنے والا شخص ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10373
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف