مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قِتَالِ فَارِسَ وَالرُّومِ وَعَدَاوَتِهِمْ باب: ایرانیوں اور رومیوں سے جنگ کرنا اور ان سے عداوت رکھنا
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْفَقْرَ وَالْعُرْيَ وَقِلَّةَ الشَّيْءِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَبْشِرُوا فَوَاللَّهِ لَأَنَا لِكَثْرَةِ الشَّيْءِ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِلَّتِهِ ، وَاللَّهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِيكُمْ حَتَّى يُفْتَحَ لَكُمْ جُنْدٌ بِالشَّامِ ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ الْمِائَةَ فَيَسْخَطُهَا " . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ : وَمَتَى نَسْتَطِيعُ الشَّامَ مَعَ الرُّومِ ذَاتِ الْقُرُونِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَفْتَحُهَا لَكُمْ ، وَيَسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا حَتَّى تَظَلَّ الْعِصَابَةُ مِنْهَا الْبِيضَ قُمُصُهُمْ ، الْمُحَلَّقَةُ أَقْفَاؤُهُمْ ، قِيَامًا عَلَى الرُّوَيْجِلِ الْأُسَيْوِدِ مِنْكُمْ ، مَا أَمَرَهُمْ بِشَيْءٍ فَعَلُوهُ ، وَإِنَّ بِهَا الْيَوْمَ رِجَالًا لَأَنْتُمْ أَحْقَرُ فِي أَعْيُنِهِمْ مِنَ الْقِرْدَانِ فِي أَعْجَازِ الْإِبِلِ " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے لوگوں نے آپ کے سامنے غربت اور مناسب لباس نہ ہونے کی شکایت کی اور چیزوں کی کمی کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ اللہ کی قسم مجھے تم لوگوں کے حوالے سے چیزوں کی کمی کی بجائے ان کی کثرت کا زیادہ اندیشہ ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس معاملے کو مسلسل تمہارے درمیان رکھے گا ، یہاں تک کہ شام میں ایک لشکر تمہارے لئے فتح ہو جائے گا عراق میں ایک لشکر فتح ہو جائے یمن میں ایک لشکر فتح ہو جائے گا ، یہاں تک کہ کسی شخص کو ایک سو ( درہم یا دینار یا اونٹ ) دیئے جائیں گے ، تو وہ اس سے ناراض ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم رومیوں کے ساتھ شامیوں پر ق ابوپائیں گے جبکہ وہ لڑاکے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تمہارے لئے فتح ہو گا اور تم وہاں پر حکمران بنو گے ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک گروہ ایسا آئے گا جن کی قمیصیں سفید ہوں گی اور ان کی گدیاں مونڈی ہوئی ہوں گی وہ چھوٹی ٹانگوں پر کھڑے ہوں گے ، لوگ انہیں جو بھی حکم دیں گے وہ اس کو پورا کریں گے ، اور آج وہاں ایسے لوگ ہیں کہ ان کی نظروں میں تم اس سے زیادہ حقیر ہو کہ جتنا اونٹ کی پشت پر موجود کوئی چیچڑی ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف نصر بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔