حدیث نمبر: 10356
وَعَنْ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ : " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا " . فَبَعَثَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ وَأَمَرَنَا بِذَلِكَ ، فَخَرَجْنَا نَسِيرُ بِأَرْضِ تِهَامَةَ ، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا يَسُوقُ ظَعَائِنَ فَعَرَضْنَا عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ ، فَقُلْنَا : أَمُسْلِمٌ أَنْتَ ؟ ، فَقَالَ : وَمَا الْإِسْلَامُ ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَإِذَا هُوَ لَا يَعْرِفُهُ ، قَالَ : إِنْ لَمْ أَفْعَلْ فَمَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ ؟ قُلْنَا : نَقْتُلُكَ . ¤ قَالَ : هَلْ أَنْتُمْ مُنْظِرِيَّ حَتَّى أُدْرِكَ الظَّعَائِنَ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ ، وَنَحْنُ مُدْرِكُوهُ ، فَخَرَجَ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا ، فَقَالَ : أَسْلِمِي حُبَيْشُ قَبْلَ انْقِطَاعِ الْعَيْشِ . فَقَالَتْ : أُسْلِمُ عَشْرًا وَتِسْعًا تَتْرَى . ثُمَّ قَالَ : ¤ أَتَذْكُرُ إِذْ طَالَبْتُكُمْ فَوَجَدْتُكُمْ بِحَلْبَةٍ أَوْ أَدْرَكْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ فَلَمْ يَكُ حَقًّا أَنْ يَنُولَ عَاشِقٌ ¤ تَكَلَّفَ إِدْلَاجَ السُّرَى وَالْوَدَائِقِ فَلَا ذَنْبَ لِي إِذْ قُلْتُ إِذْ أَهْلُنَا مَعًا ¤ أَثِيبِي بِوِدٍّ قَبْلَ إِحْدَى الْمَضَائِقِ أَثِيبِي بِوِدٍّ قَبْلَ أَنْ يُشْحِطَ النَّوَى ¤ وَيَنْأَى الْأَمِيرُ بِالْحَبِيبِ الْمُفَارِقِ ثُمَّ أَتَانَا فَقَالَ : شَأْنُكُمْ . فَقَدَّمْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ ، وَنَزَلَتِ الْأُخْرَى مِنْ هَوْدَجِهَا فَجَثَتْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَتْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عصام مزنی رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر یا ایک جنگی مہم روانہ کی آپ نے ان سے فرمایا جب تم لوگ کوئی مسجد دیکھو یا کہیں سے مؤذن کو سنو تو کسی کو قتل نہ کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیج دیا ، اور ہمیں یہ حکم دیا ، تو ہم لوگ تہامہ کی سرزمین پر سفر کرتے ہوئے جا رہے تھے ہمیں ایک شخص ملا جو کچھ عورتوں کے اونٹوں کو لے کے جا رہا تھا ہم نے اسے اسلام کی پیشکش کی ہم نے دریافت کیا : کیا تم مسلمان ہو ۔ اس نے کہا: اسلام کیا ہوتا ہے ہم نے اسے اس بارے میں بتایا تو وہ اس سے واقف نہیں تھا اس نے دریافت کیا : اگر میں ایسا نہیں کرتا تو تم لوگ کیا کرو گے ہم نے کہا: ہم تمہیں قتل کر دیں گے اس نے کہا: کیا تم مجھے موقع دو گے کہ میں ان خواتین کے پاس چلا جاؤں ہم نے کہا: ٹھیک ہے ہم اس تک پہنچ سکتے تھے وہ شخص گیا وہاں ایک عورت اپنے ہودج میں موجود تھی اس شخص نے کہا: اے حبیش تم اسلام قبول کر لو اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہو جائے ، تو اس عورت نے کہا: میں دسویں عورت مسلمان ہو جاؤں اور باقی نو بکھری رہیں ۔ پھر اس نے یہ اشعار کہے : ” کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ جب میں نے تمہیں تلاش کیا تھا تو ہے حلیہ کے مقام پر پایا تھا یا خوانق کے مقام پر میں تم تک پہنچا تھا کیا یہ حق نہیں ہے کہ عاشق کو یہ چیز نصیب ہو کہ وہ رات کا زیادہ تر حصہ اور دن چڑھے کا وقت سفر کرتا رہے تو میرا کوئی گناہ نہیں ہے اگر میں نے یہ کہا: کہ جب ہم اکٹھے ہوں تو وہ میرے پاس ایسی محبت لے کر آئے جو کسی قسم کی تنگی سے پہلے ہو وہ میرے پاس ایسے وصل کے ہمراہ آئے جو دوری سے پہلے ہو اور امیر جدا ہونے والے محبوب سے دور ہو جائے “ ۔ پھر وہ ہمارے پاس آیا اس نے کہا: اب تم نے جو کرنا ہے کر لو ہم نے اسے آگے کر کے اس کی گردن اڑا دی پھر دوسری عورت ہودج سے اتری اور اس پر آ کر گر گئی ، یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10356
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔