مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي سَرَايَاهُ باب: آپ ﷺ کی بھیجی ہوئی مہمات
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ سَرِيَّةً فَغَنِمُوا وَفِيهِمْ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّي لَسْتُ مِنْهُمْ ، عَشِقْتُ مِنْهُمُ امْرَأَةً فَلَحِقْتُهَا ، فَدَعُونِي أَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ اصْنَعُوا بِي مَا بَدَا لَكُمْ . فَأَتَى امْرَأَةً طَوِيلَةً أَدْمَاءَ فَقَالَ لَهَا : أَسْلِمِي حُبَيْشُ قَبْلَ نَفَادِ الْعَيْشِ . ¤ أَرَأَيْتِ لَوْ تَبِعْتُكُمْ فَلَحِقْتُكُمْ بِحَلْبَةٍ أَوْ أَلْفَيْتُكُمْ بِالْخَوَانِقْ أَمَا كَانَ حَقًّا أَنْ يَنُولَ عَاشِقٌ ¤ تَكَلَّفَ إِدْلَاجَ السَّرَى وَالْوَدَائِقْ قَالَتْ : نَعَمْ فَدَيْتُكَ . ¤ فَقَدَّمُوهُ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ ، فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ فَشَهِقَتْ شَهْقَةً أَوْ شَهْقَتَيْنِ ثُمَّ مَاتَتْ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَحِيمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی ان لوگوں کو مال غنیمت حاصل ہوا ان میں ایک شخص موجود تھا اس نے کہا: میں ان میں سے نہیں ہوں میں ان میں سے ایک عورت کے ساتھ عشق کرتا تھا تو میں اس سے جا ملا آپ لوگ مجھے موقع دیں کہ میں اسے دیکھ لوں پھر آپ میرے ساتھ جو مناسب ہو گا ؤہ کر لیجئے گا پھر وہ ایک طویل القامت گندمی رنگ کی عورت کے پاس آیا اور اس سے کہا: حبیش تم اسلام قبول کر لو اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہو جائے ۔ ( اس کے بعد یہ اشعار کہے : ) ” کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ جب میں نے تمہیں تلاش کیا تھا تو ہے حلیہ کے مقام پر پایا تھا یا خوانق کے مقام پر میں تم تک پہنچا تھا کیا یہ حق نہیں ہے کہ عاشق کو یہ چیز نصیب ہو کہ وہ رات کا زیادہ تر حصہ اور دن چڑھے کا وقت سفر کرتا رہے “ ۔ اس عورت نے کہا: ٹھیک ہے میں تم پر فدا ہو جاؤں پھر ان لوگوں نے اسے آگے کیا اور اس کی گردن اڑا دی پھر وہ عورت آئی اور اس پر گر گئی اس نے ایک یا دو مرتبہ جھر جھری لی اور پھر مر گئی جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارے درمیان کوئی رحم دل شخص نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔