حدیث نمبر: 10339
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَ مِنْ شَأْنِ خُبَيْبِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَعَاصِمِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَزَيْدِ بْنِ الدِّثِنَةِ الْأَنْصَارِيِّ مَنْ بَنِي بَيَاضَةَ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُمْ عُيُونًا بِمَكَّةَ ; لِيُخْبِرُوهُ خَبَرَ قُرَيْشٍ . فَسَلَكُوا عَلَى النَّجْدِيَّةِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالرَّجِيعِ مِنْ نَجْدٍ ، اعْتَرَضَتْ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ ، فَأَمَّا عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ فَضَارَبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى قُتِلَ ، وَأَمَّا خُبَيْبٌ وَزَيْدُ بْنُ الدِّثِنَةِ فَأَصْعَدَا فِي الْجَبَلِ فَلَمْ يَسْتَطِعْهُمَا الْقَوْمُ حَتَّى جَعَلُوا لَهُمُ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ ، فَنَزَلَا إِلَيْهِمْ فَأَوْثَقُوهُمَا رِبَاطًا ، ثُمَّ أَقْبَلُوا بِهِمَا إِلَى مَكَّةَ فَبَاعُوهُمَا مِنْ قُرَيْشٍ . ¤ فَأَمَّا خُبَيْبٌ فَاشْتَرَاهُ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَشَرَكَهُ فِي ابْتِيَاعِهِ أَبُو إِهَابِ بْنُ عَزِيزِ بْنِ قَيْسِ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَدْسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَارِمٍ ، وَكَانَ قَيْسُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ رَبِيعَةَ أَخَا عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ لِأُمِّهِ ، أُمُّهُمَا بِنْتُ نَهْشَلٍ التَّمِيمِيَّةُ . [ وَعِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ ، وَالْأَخْنَسُ بْنُ شَرْنُونَ بْنِ عِلَاجِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ ] وَعُبَيْدَةُ بْنُ حَكِيمٍ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ أَبِي عُتْبَةَ بْنِ هَمَّامِ بْنِ حَنْظَلَةَ مِنْ بَنِي دَارِمٍ وَبَنُو الْحَضْرَمِيِّ ، وَسَعْيَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفِ بْنِ وَهْبٍ الْجُمَحِيُّ ، فَدَفَعُوهُ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ فَسَجَنَهُ عِنْدَهُ فِي دَارِهِ ، فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ . ¤ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ آلِ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَامِرٍ تَفْتَحُ عَنْهُ وَتُطْعِمُهُ ، فَقَالَ لَهَا : إِذَا أَرَادَ الْقَوْمُ قَتْلِي فَآذِنِينِي قَبْلَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا أَرَادُوا قَتْلَهُ أَخْبَرَتْهُ ، فَقَالَ : ابْغِينِي حَدِيدَةً أَسْتَدِفُّ بِهَا - يَعْنِي أَحْلِقُ عَانَتِي - فَدَخَلَ ابْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَتْ تُنْجِدُهُ وَالْمُوسَى فِي يَدِهِ ، فَأَخَذَ بِيَدِ الْغُلَامِ فَقَالَ : هَلْ أَمْكَنَ اللَّهُ مِنْكُمْ ؟ فَقَالَتْ : مَا هَذَا ظَنِّي بِكَ . ثُمَّ نَاوَلَهَا الْمُوسَى وَقَالَ : إِنَّمَا كُنْتُ مَازِحًا . ¤ وَخَرَجَ بِهِ الْقَوْمُ الَّذِينَ شَرِكُوا فِيهِ ، وَخَرَجَ مَعَهُمْ أَهْلُ مَكَّةَ ، وَخَرَجُوا مَعَهُمْ بِخَشَبَةٍ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالتَّنْعِيمِ نَصَبُوا تِلْكَ الْخَشَبَةَ فَصَلَبُوهُ عَلَيْهَا ، وَكَانَ الَّذِي وَلِيَ قَتْلَهُ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَكَانَ أَبُو الْحُسَيْنِ صَغِيرًا وَكَانَ مَعَ الْقَوْمِ ، وَإِنَّمَا قَتَلُوهُ بِالْحَارِثِ بْنِ عَامِرٍ ، وَكَانَ قُتِلَ يَوْمِ بَدْرٍ كَافِرًا . وَقَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ عِنْدَ قَتْلِهِ : أَطْلِقُونِي مِنَ الرِّبَاطِ حَتَّى أُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ . فَأَطْلَقُوهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنْ تَظُنُّوا أَنَّ بِي جَزَعًا مِنَ الْمَوْتِ لَطَوَّلْتُهُمَا ، وَلِذَلِكَ خَفَّفْتُهُمَا . ¤ وَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَنْظُرُ إِلَّا فِي وَجْهِ عَدُوٍّ ، اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَجِدُ رَسُولًا إِلَى رَسُولِكَ فَبَلِّغْهُ عَنِّي السَّلَامَ ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ . ¤ وَقَالَ خُبَيْبٌ وَهُمْ يَرْفَعُونَهُ عَلَى الْخَشَبَةِ : اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا ، وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا ، وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا . ¤ وَقَتَلَ خُبَيْبًا أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ ، فَلَمَّا وَضَعُوا فِيهِ السِّلَاحَ وَهُوَ مَصْلُوبٌ نَادَوْهُ وَنَاشَدُوهُ : أَتُحِبُّ أَنَّ مُحَمَّدًا مَكَانَكَ ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ الْعَظِيمِ ، مَا أُحِبُّ أَنْ يَفْدِيَنِي بِشَوْكَةٍ يُشَاكُهَا فِي قَدَمِهِ . فَضَحِكُوا ، وَقَالَ خُبَيْبٌ حِينَ رَفَعُوهُ إِلَى الْخَشَبَةِ : ¤ لَقَدْ جَمَعَ الْأَحْزَابُ حَوْلِي وَأَلَّبُوا قَبَائِلَهُمْ وَاسْتَجْمَعُوا كُلَّ مَجْمَعِ وَقَدْ جَمَعُوا أَبْنَاءَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ وَقُرِّبْتُ ¤ مِنْ جِذْعٍ طَوِيلٍ مُمَنَّعِ إِلَى اللَّهِ أَشْكُو غُرْبَتِي ثُمَّ كُرْبَتِي ¤ وَمَا أَرْصَدَ الْأَحْزَابُ لِي عِنْدَ مَصْرَعِي فَذَا الْعَرْشِ صَبِّرْنِي عَلَى مَا يُرَادُ بِي ¤ فَقَدْ بَضَعُوا لَحْمِي وَقَدْ بَانَ مَطْمَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ ¤ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ لَعَمْرِي مَا أَحْفُلُ إِذَا مُتُّ مُسْلِمًا ¤ عَلَى أَيِّ حَالٍ كَانَ لِلَّهِ مَضْجَعِي . ¤ وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ فَاشْتَرَاهُ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فَقَتَلَهُ بِأَبِيهِ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ ، قَتَلَهُ نِيطَاسُ مَوْلَى بَنِي جُمَحَ ، وَقُتِلَا بِالتَّنْعِيمِ ، فَدَفَنَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ خُبَيْبًا ، وَقَالَ حَسَّانُ فِي شَأْنِ خُبَيْبٍ : ¤ وَلَيْتَ خُبَيْبًا لَمْ يَخُنْهُ ذِمَامُهُ وَلَيْتَ خُبَيْبًا كَانَ بِالْقَوْمِ عَالِمَا ¤ شِرَاكُ زُهَيْرِ بْنِ الْأَغَرِّ وَجَامِعٍ وَكَانَا قَدِيمًا يَرْكَبَانِ الْمَحَارِمَا ¤ أَجَرْتُمْ فَلَمَّا أَنْ أَجَرْتُمْ غَدَرْتُمْ وَكُنْتُمْ بِأَكْنَافِ الرَّجِيعِ لَهَازِمَا ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا حبیب بن عدی بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ، اور سیدنا عاصم بن ثابت بن ابواقلح بن عمرو بن عوف اور سیدنا زید بن دثنہ انصاری رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو بیاضہ سے ہے ان لوگوں کا واقعہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مکہ میں جاسوسی کے لئے بھیجا تھا تاکہ وہ لوگ آپ کو قریش کے بارے میں اطلاعات پہنچائیں یہ لوگ نجدیہ کے راستے پر چلتے ہوئے نجد کے مقام رجیع تک پہنچے تو بنو لحیان قبیلے کے لوگ جو ہذیل قبیلے کی شاخ ہے وہ ان کے سامنے آ گئے عاصم بن ثابت نے اپنی تلوار کے ذریعے مقابلہ کیا ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے سیدنا خبیب اور سیدنا زید بن دثنہ پہاڑ پر چڑھ گئے لوگ ان تک نہیں پہنچ سکتے تھے ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے ان حضرات کے ساتھ یہ عہد کیا ( کہ وہ انہیں کچھ نہیں کہیں گے ) تو یہ دونوں حضرات نیچے اتر کر ان کے پاس آ گئے ان لوگوں نے ان دونوں حضرات کو باندھ دیا پھر وہ ان دونوں کو لے کے مکہ آ گئے ، اور ان دونوں کو قریش کے ہاتھ فروخت کر دیا جہاں تک سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ، تو عقبہ بن حارث نے انہیں خرید لیا ان کی خریداری میں ابواہاب بن عزیز بن قیس بن سوید بن ربیعہ بن عدی بن عبداللہ بن دارم بھی ان کا شراکت دار بنا قیس بن سوید بن ربیعہ اصل میں عامر بن نوفل کا ماں کی طرف شریک بھائی تھا ان دونوں کی ماں نہشل کی بیٹی تھی اور تمیمیہ تھی عکرمہ بن ابوجہل اور اخنس بن شرنون بن علاج بن مغیرہ ثقفی اور عبیدہ بن حکیم سلمی ثم ذکوانی اور امیہ بن ابوعتبہ بن ہمام بن حنظلہ جس کا تعلق بنو دارم سے ہے ، اور حضرمی کے بیٹوں نے اور سعیہ بن عبداللہ بن ابوقیس نے جس کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے ہے ، اور صفوان بن امیہ بن خلف بن وہب جمحی نے ( اس خریداری میں حصہ لیا ) ان لوگوں نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو عقبہ بن حارث کے حوالے کر دیا عقبہ نے انہیں اپنے گھر میں قید کر دیا جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا وہ اس کے گھر میں رہے عقبہ بن حارث بن عامر کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک عورت ان کے قید خانے کا دروازہ کھول کر انہیں کھانا دیا کرتی تھی انہوں نے اس عورت سے کہا: کہ جب یہ لوگ مجھے قتل کرنے کا ارادہ کریں تو تم مجھے اس بارے میں پہلے بتا دینا جب ان لوگوں نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس عورت نے انہیں بتا دیا ، تو انہوں نے فرمایا : تم مجھے کوئی استرا لا دو تاکہ میں اس کے ذریعے زیر ناف بال صاف کر لوں ( اس عورت نے انہیں استرا لا دیا ) اسی دوران اس عورت کا بیٹا ان کے کمرے میں آ گیا استرا ان کے ہاتھ میں تھا ۔ انہوں نے اس بچے کا ہاتھ پکڑا اور پھر بولے : کیا میں تمہیں نقصان پہنچاؤں ، اس عورت نے کہا: آپ کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں ہے پھر انہوں نے اس عورت کو استرا پکڑایا اور فرمایا : میں تو مذاق کر رہا تھا جن لوگوں نے مل جل کر انہیں خریدا تھا وہ انہیں ساتھ لے کر نکلے ان لوگوں کے ساتھ اہل مکہ بھی نکلے وہ لوگ اپنے ساتھ ایک لکڑی لے کے گئے ، یہاں تک کہ تنعیم کے مقام پر انہوں نے اس لکڑی کو زمین میں گاڑ دیا ، اور اس لکڑی پر انہیں مصلوب کر دیا عقبہ بن حارث نے انہیں قتل کیا تھا ابوالحسین کمسن تھے اور لوگوں کے ساتھ تھے عقبہ نے انہیں حارث بن عامر کے بدلے میں قتل کیا تھا جو غزوہ بدر کے موقع پر کافر ہونے کے عالم میں قتل ہوا تھا ۔ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے قتل ہونے کے وقت ان سے کہا: تم لوگ مجھے کھول دو تاکہ میں پہلے دو رکعت ادا کر دوں ان لوگوں نے انہیں کھول دیا انہوں نے دو مختصر رکعت ادا کیں اور نماز مکمل کر لی پھر انہوں نے فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھو گے کہ شاید میں موت کے خوف کی وجہ سے ایسا کر رہا ہوں تو میں نے یہ دو رکعت طویل ادا کرنی تھیں لیکن اسی وجہ سے میں نے انہیں مختصر ادا کیا ہے پھر انہوں نے کہا: اے اللہ مجھے اپنے سامنے صرف دشمن نظر آ رہا ہے اے اللہ مجھے ایسا کوئی قاصد نہیں ملتا جو تیرے رسول تک بھیجا جا سکے تو انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دینا سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا جب سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں نے لکڑی پر بلند کیا ، تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ تو ان لوگوں کو گن لے اور انہیں قتل کروا دینا ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑنا راوی کہتے ہیں : سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو ان مشرکین کے بیٹوں نے شہید کیا جو مشرکین غزوہ بدر میں مارے گئے تھے جب ان لوگوں نے ان کی طرف ہتھیار بڑھائے ، اور جب انہیں مصلوب کیا جا چکا تھا تو انہوں نے بلند آواز میں پکار کر ان سے کہا: کہ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہاری جگہ ہوتے تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں عظیم اللہ کی قسم مجھے تو یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ میری جان کے بدلے میں ان کے پاؤں میں کوئی کانٹا چبھ جائے ، تو وہ لوگ ہنسنے لگے جب ان لوگوں نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو لکڑی پر بلند کیا ، تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے : ” ( دشمن کے ) گروہ میرے گرد اکٹھے ہو گئے ہیں ، انہوں نے اپنے قبائل کو جمع کر لیا ہے ، اور ہر قسم کا مجمع اکٹھا کر لیا ہے ، انہوں نے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو اکٹھا کر لیا اور مجھے کھجور کی ایک لمبی مضبوط شاخ کے قریب کر دیا ہے ، میں اپنی غریب الوطنی اور اپنی پریشانی اور ان لوگوں نے میرے قتل کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے ان سب کے حوالے سے ، میں اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہوں ، اے عرش والی ذات ! تو مجھے اس چیز کے حوالے سے صبر عطا فرما ، جو یہ لوگ میرے بارے میں ارادہ رکھتے ہیں ، کہ یہ میرے گوشت کے ٹکڑے کر دے اور ( بچنے کی ) میری توقع ختم ہو چکی ہے ، اور یہ سب کچھ اس معبود کی راہ میں ہو رہا ہے ، کہ اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے مردہ ٹکڑوں میں بھی برکت ڈال دے ، مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ، اگر میں مسلمان ہونے کے عالم میں مرتا ہوں تو مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے ، کہ اللہ تعالیٰ مجھے کس حال میں موت دیتا ہے “ ۔ جہاں تک سیدنا زید بن دثنہ کا تعلق ہے ، تو صفوان بن امیہ نے انہیں خرید لیا تھا اس نے اپنے باپ امیہ بن خلف کے عوض میں انہیں قتل کیا بنو جمح کے غلام نیطاس نے انہیں قتل کیا تھا ان دونوں حضرات کو تنعیم کے مقام پر قتل کیا گیا تھا عمرو بن امیہ نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو دفن کیا تھا ۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ اشعار کہے تھے : ” ارے خبیب نے اپنے عہد کے حوالے سے خیانت نہیں کی ، ارے حبیب لوگوں میں عالم تھا ، زہیر بن اغر اور جامع نے تمہیں خریدا ہے ، اور وہ دونوں پرانے وقتوں سے ہی حرام کاموں کا ارتکاب کرتے چلے آ رہے ہیں ، تم لوگوں نے پہلے پناہ دی اور جب تم نے پناہ دیدی تو تم نے اس کی خلاف ورزی کی ، جبکہ تم لوگ رجیع کے کناروں پر چیخیں مارا کرتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10339
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5284)»