حدیث نمبر: 10338
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَتَادَةَ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ أُحُدٍ نَفَرٌ مِنْ عَضَلٍ وَالْقَارَةِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فِينَا إِسْلَامًا فَابْعَثْ مَعَنَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِكَ يُفَقِّهُونَا فِي الدِّينِ ، وَيُقْرِئُونَا الْقُرْآنَ ، وَيُعَلِّمُونَا شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ سِتَّةً : مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ ، حَلِيفَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . قَالَ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ . ¤ قَالَ : وَأَمَّا مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ ، وَخَالِدُ بْنُ الْبُكَيْرِ ، وَعَاصِمُ بْنُ أَبِي الْأَقْلَحِ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَا نَقْبَلُ عَهْدًا مِنْ مُشْرِكٍ وَلَا عَقْدًا أَبَدًا ، فَقَاتَلُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عاصم بن عمرو بن قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے بعد عضل اور قارہ قبیلے کے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان اسلام پایا جاتا ہے آپ اپنے اصحاب میں سے کچھ افراد کو ہمارے ساتھ بھیجیں جو ہمیں دینی تعلیمات سے آگاہ کریں ہمیں قرآن سکھائیں ہمیں اسلامی تعلیمات کی تعلیم دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے چھ افراد کو بھیجا ان میں سے ایک سیدنا مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ تھے جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک سیدنا مرثد بن ابومرثد رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن بکیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عاصم بن ابوقلح رضی الله عنہ کا تعلق ہے ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم کسی مشرک کی طرف سے کوئی عہد یا کوئی عقد کبھی قبول نہیں کریں گے وہ ان لوگوں سے لڑتے رہے ، یہاں تک کہ ان ( کافر ) لوگوں نے انہیں شہید کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10338
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (327/20)»