مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ سَرِيَّةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ باب: عبداللہ بن جحش کی مہم
حدیث نمبر: 10337
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ فُلَانٍ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقُوا عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِيِّ بِبَطْنِ نَخْلَةَ . قَالَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْبَقَّالُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” لوگ تم سے حرمت والے مہینے میں قتال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم یہ فرما دو : اس میں قتال بڑا ( گناہ ) ہے “ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن فلاں کو ایک مہم پر بھیجا تھا بطن نخلہ کے مقام پر ان لوگوں کا سامنا عمرو بن حضرمی سے ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید بقال ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔