کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عبداللہ بن جحش کی مہم
حدیث نمبر: 10336
عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ بَعَثَ رَهْطًا ، وَبَعَثَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَنْطَلِقَ بَكَى صَبَابَةً إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَجَلَسَ ، فَبَعَثَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ مَكَانَهُ ، وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَأَ الْكِتَابَ حَتَّى يَبْلُغَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ، وَقَالَ : " لَا تُكْرِهَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ عَلَى الْمَسِيرِ مَعَكَ " . فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ اسْتَرْجَعَ ، وَقَالَ : سَمْعٌ وَطَاعَةٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، فَخَبَّرَهُمُ الْخَبَرَ ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْكِتَابَ ، فَرَجَعَ رَجُلَانِ وَمَضَى بَقِيَّتُهُمْ ، فَلَقَوُا ابْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَتَلُوهُ . وَلَمْ يَدْرُوا أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ رَجَبٍ أَوْ جُمَادَى ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلْمُسْلِمِينَ : قَتَلْتُمْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ الْآيَةَ . ¤ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنْ لَمْ يَكُونُوا أَصَابُوا وِزْرًا ، فَلَيْسَ لَهُمْ أَجْرٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے کچھ لوگوں کو بھیجا آپ نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا جب وہ لوگ جانے لگے ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی وجہ سے رونے لگے ، اور بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جگہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا ان کے لئے ایک تحریر لکھی اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس تحریر کو اس وقت تک نہ پڑھیں جب تک فلاں فلاں مقام تک نہیں پہنچ جاتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا جب انہوں نے وہ تحریر پڑھی تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور پھر بولے : اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے گی پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو صورت حال بتائی اور ان کے سامنے وہ تحریر پڑھ کر سنائی ، تو دو افراد واپس چلے گئے ، اور باقی حضرات آگے چلے گئے ان لوگوں کی ملاقات ابن حضرمی سے ہوئی ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا انہیں یہ انداز نہیں ہوا کہ یہ رجب کا دن ہے یا جمادی الثانی ( کا آخری دن ) ہے ؟ مشرکین نے مسلمانوں سے کہا: تم لوگوں نے حرمت والے مہینے میں قتل کر دیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” لوگ تم سے حرمت والے مہینے میں قتال کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “ ان میں سے کسی نے کہا: کہ اگر ان لوگوں کو کوئی گناہ لاحق نہیں بھی ہوا تو انہیں اجر بھی نہیں ملے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے ، اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10336
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1670)»
حدیث نمبر: 10337
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ فُلَانٍ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقُوا عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِيِّ بِبَطْنِ نَخْلَةَ . قَالَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْبَقَّالُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” لوگ تم سے حرمت والے مہینے میں قتال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم یہ فرما دو : اس میں قتال بڑا ( گناہ ) ہے “ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن فلاں کو ایک مہم پر بھیجا تھا بطن نخلہ کے مقام پر ان لوگوں کا سامنا عمرو بن حضرمی سے ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید بقال ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10337
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2191)»