مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ باب: ابن ابوالحقیق کا قتل
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَا قَتَادَةَ ، وَحَلِيفًا لَهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيكٍ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ لِنَقْتُلَهُ ، فَخَرَجْنَا فَجِئْنَا خَيْبَرَ لَيْلًا ، فَتَتَبَّعْنَا أَبْوَابَهُمْ فَغَلَّقْنَا عَلَيْهِمْ مِنْ خَارِجٍ ، ثُمَّ جَمَعْنَا الْمَفَاتِيحَ فَأَرْمَيْنَاهَا ، فَصَعِدَ الْقَوْمُ فِي النَّخْلِ . وَدَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ فِي دَرَجَةِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ ، فَقَالَ ابْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ عَبْدَ اللَّهِ ، أَنَّى لَكَ بِهَذِهِ الْبَلْدَةِ ؟ قُومِي فَافْتَحِي ; فَإِنَّ الْكَرِيمَ لَا يَرُدُّ عَنْ بَابِهِ هَذِهِ [ السَّاعَةَ ] ، فَقَامَتْ ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ : دُونَكَ ، فَأَشْهَرَ عَلَيْهِمُ السَّيْفَ ، فَذَهَبَتِ امْرَأَتُهُ لِتَصِيحَ فَأَشْهَرَ عَلَيْهَا ، وَأَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَأَكُفَّ . ¤ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي مَشْرَبَةٍ لَهُ ، فَوَقَفْتُ أَنْظُرُ إِلَى شِدَّةِ بَيَاضِهِ فِي ظُلْمَةِ الْبَيْتِ ، فَلَمَّا رَآنِي أَخَذَ وِسَادَةً فَاسْتَتَرَ بِهَا ، فَذَهَبْتُ أَرْفَعُ السَّيْفَ لِأَضْرِبَهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ مِنْ قِصَرِ الْبَيْتِ ، فَوَخَزْتُهُ وَخْزًا . ثُمَّ خَرَجْتُ ، فَقَالَ صَاحِبِي : فَعَلْتَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَخَلَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ خَرَجْنَا فَانْحَدَرْنَا مِنَ الدَّرَجَةِ ، فَوَقَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ فِي الدَّرَجَةِ ، فَقَالَ : وَارِجْلَاهُ ، كُسِرَتْ رِجْلِي ، فَقُلْتُ لَهُ : لَيْسَ بِرِجْلِكَ بَأْسٌ ، وَوَضَعْتُ قَوْسِي وَاحْتَمَلْتُهُ ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ قَصِيرًا ضَئِيلًا ، فَأَنْزَلْتُهُ فَإِذَا رِجْلُهُ لَا بَأْسَ بِهَا ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى لَحِقْنَا أَصْحَابَنَا ، وَصَاحَتِ الْمَرْأَةُ : يَا بَيَاتَاهُ ، فَثُورَ أَهْلُ خَيْبَرَ . ¤ ثُمَّ ذَكَرْتُ مَوْضِعَ قَوْسِي فِي الدَّرَجَةِ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَرْجِعَنَّ فَلَآخُذَنَّ قَوْسِي ، فَقَالَ أَصْحَابِي : قَدْ تَثُورُ أَهْلُ خَيْبَرَ بِقَتْلِهِ ، فَقُلْتُ : لَا أَرْجِعُ أَنَا حَتَّى آخُذَ قَوْسِي ، فَرَجَعْتُ فَإِذَا أَهْلُ خَيْبَرَ قَدْ تَثَوَّرُوا ، وَإِذَا مَا لَهُمْ كَلَامٌ إِلَّا مَنْ قَتَلَ ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ ، فَجَعَلْتُ لَا أَنْظُرُ فِي وَجْهِ إِنْسَانٍ وَلَا يَنْظُرُ فِي وَجْهِي إِلَّا قُلْتُ مِثْلَ مَا يَقُولُ مَنْ قَتَلَ ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ ، حَتَّى جِئْتُ الدَّرَجَةَ فَصَعِدْتُ مَعَ النَّاسِ فَأَخَذْتُ قَوْسِي فَلَحِقْتُ أَصْحَابِي . فَكُنَّا نَسِيرُ اللَّيْلَ وَنَكْمُنُ النَّهَارَ ، فَإِذَا كَمَنَّا النَّهَارَ أَقْعَدْنَا نَاطُورًا يَنْظُرُ لَنَا ، حَتَّى إِذَا اقْتَرَبْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ ، وَكُنْتُ بِالْبَيْدَاءِ كُنْتُ أَنَا نَاطِرَهُمْ ثُمَّ إِنِّي أَلَحْتُ لَهُمْ بِثَوْبِي فَانْحَدَرُوا فَخَرَجُوا جَمْزًا ، وَانْحَدَرْتُ فِي آثَارِهِمْ فَأَدْرَكْتُهُمْ حَتَّى بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ لِي أَصْحَابِي : هَلْ رَأَيْتَ شَيْئًا ؟ فَقُلْتُ : لَا ، وَلَكِنْ رَأَيْتُ مَا أَدْرَكَكُمْ مِنَ الْعَنَاءِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَحْمِلَكُمُ الْفَزَعُ . ¤ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبَ النَّاسَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْلَحَتِ الْوُجُوهُ " . فَقُلْنَا : أَفْلَحَ وَجْهُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قَتَلْتُمُوهُ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالسَّيْفِ الَّذِي قُتِلَ بِهِ ، فَقَالَ : " هَذَا طَعَامُهُ فِي ضِبَابِ السَّيْفِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو اور انصار سے تعلق رکھنے والے ان کے ایک حلیف کو اور عبداللہ بن عتیک کو ابن ابوحقیق کی طرف بھیجا تاکہ ہم اسے قتل کر دیں ہم لوگ روانہ ہوئے ہم رات کے وقت خیر پہنچے ہم وہاں کے مختلف دروازوں کے پاس گئے ، اور انہیں باہر کی طرف سے بند کر دیا پھر ہم نے تمام چابیاں اکٹھی کیں اور انہیں پھینک دیا پھر ہم لوگ کھجور کے درخت پر چڑھے اور میں اور عبداللہ بن عتیک ہم ابن ابوحقیق کی سیڑھی تک پہنچ گئے عبداللہ بن عتیک نے بات کی تو ابن ابوحقیق نے کہا: تمہاری ماں نہ رہے کیا تم عبداللہ ہو تم یہاں کیا کر رہے ہو ( پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا: ) اٹھو اور دروازہ کھولو کیونکہ اس گھڑی میں معزز شخص اپنے دروازے پر آنے والے کسی شخص کو واپس نہیں کرتا وہ عورت اٹھی میں نے عبداللہ بن عتیک سے کہا: تم نے اسے سنبھالنا ہے ۔ انہوں نے اس پر تلوار سونت لی اس عورت نے چیخ مارنا چاہی تو میں نے اس پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آیا کہ آپ نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ، تو میں رک گیا سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں اس کے بالا خانے میں اس کے پاس گیا رات کی تاریکی میں ، میں اس کے گورے رنگ کو دیکھ کر ٹھہر گیا جب اس نے مجھے دیکھا تو اس نے تکیہ پکڑا اور اس کے ذریعے بچنے کی کوشش کی میں نے تلوار بلند کر کے اس پر ضرب لگانا چاہی لیکن کمرے کی چھت نیچے تھی اس لئے میں ایسا نہیں کر سکا تو میں نے وہ اسے چبھو دی پھر میں باہر نکل آیا میرے ساتھیوں نے دریافت کیا : تم نے کام کر لیا میں نے کہا: جی ہاں پھر وہ اندر داخل ہوئے ، اور اس کے پاس ٹھہرے پھر ہم لوگ وہاں سے نکل آئے ہم سیڑھی سے نیچے اترے عبداللہ بن عتیک سیڑھی سے گر گئے ، اور بولے : ہائے میری ٹانگ میری ٹانگ ٹوٹ گئی ہے میں نے ان سے کہا: آپ کی ٹانگ کو کچھ نہیں ہوا پھر میں نے اپنی کمان رکھی اور انہیں اٹھا لیا عبداللہ ایک چھوٹے قد کے کمزور شخص تھے میں نے انہیں نیچے اتارا تو ان کی ٹانگ کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گئے اس دوران عورت چیخ کر بولی: خطرے کی بات ہے ، تو اہل خیبر اکٹھے ہونا شروع ہو گئے پھر مجھے یاد آیا میری کمان تو سیڑھی میں رہ گئی ہے میں نے کہا: اللہ کی قسم میں واپس جاؤں گا اور اپنی کمان ضرور لے کے آؤں گا میرے ساتھیوں نے کہا: اہل خیبر اس کے قتل کی وجہ سے اکٹھے ہو رہے ہیں میں نے کہا: میں اس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا ، جب تک اپنی کمان واپس نہیں لے لیتا پھر میں واپس آیا تو اہل خیبر اکٹھے ہو چکے تھے اور وہ صرف یہی بات چیت کر رہے تھے کہ ابن ابوحقیق کو کس نے قتل کیا ہے مجھے جو بھی شخص نظر آیا یا جس نے بھی میری طرف دیکھا تو میں نے بھی ان کی طرح یہی پوچھا: ابن ابوحقیق کو کس نے قتل کیا ہے ، یہاں تک کہ میں اس سیڑھی تک پہنچ گیا میں لوگوں کے ساتھ اس پر چڑھا پھر میں نے اپنی کمان پکڑی اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ آ ملا ہم رات بھر سفر کرتے رہے ، اور دن کے وقت ٹھہر جاتے تھے جب ہم دن کے وقت ٹھہر جاتے تھے ، تو ہم کسی جاسوس کو بھیجتے تھے جو ہمارے لئے صورت حال کا جائزہ لیتا تھا ، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے میں بیدا کے مقام پر موجود تھا ، اور میں ان لوگوں کے لئے صورت حال کا جائزہ لے رہا تھا پھر میں نے اپنے کپڑے کو ان کے لئے لہرایا تو وہ نیچے اتر آئے وہ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے نکلے تھے اور میں ان کے پیچھے آتا ہوا ان تک پہنچ جاتا تھا ، یہاں تک کہ ہم لوگ اسی طرح مدینہ منورہ پہنچ گئے میرے ساتھیوں نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے کوئی چیز دیکھی ہے میں نے جواب دیا جی نہیں لیکن میں نے یہ چیز دیکھی ہے کہ جو آپ لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے ، تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ اس وقت لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چہرے کامیاب ہیں ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کا چہرہ بھی کامیاب ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار منگوائی جس ! کے ذریعے اسے قتل کیا گیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اس کا کھانا توار کی دھار پر موجود ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔