حدیث نمبر: 10335
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ لِيَقْتُلُوهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ ، وَأَبُو قَتَادَةَ ، [ وَ ] حَلِيفٌ لَهُمْ ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ . ¤ وَأَنَّهُمْ قَدِمُوا خَيْبَرَ لَيْلًا ، فَعَمَدْنَا إِلَى أَبْوَابِهِمْ نُغْلِقُهَا عَلَيْهِمْ مِنْ خَارِجٍ ، قَالَتِ امْرَأَةُ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ : إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ : افْتَحِي ، فَفَتَحَتْ فَدَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : دُونَكَ ، فَذَهَبْتُ لِأَضْرِبَهَا بِالسَّيْفِ فَأَذْكُرُ نَهْيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ فَأَكُفُّ عَنْهَا . ¤ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ وَلَيْسَ بِالْجُهَنِيِّ الَّذِي رَوَى عَنْهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ افراد جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابوحقیق کو قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا وہ یہ ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ایک ان کے حلیف اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب یہ لوگ رات کے وقت خیبر پہنچے یہ ان کے دروازوں کی طرف بڑھے ہم نے باہر سے انہیں بند کر دیا ابن ابوحقیق کی بیوی نے کہا: یہ آواز تو عبداللہ بن عتیک کی ہے اس نے کہا: تم دروازہ کھولو اس عورت نے دروازہ کھولا تو میں اور عبداللہ بن عتیک اندر داخل ہوئے عبدالله نے کہا: تم سنبھالو میں آگے بڑھا تاکہ اس عورت کو تلوار کے ذریعے ضرب لگاؤں تو مجھے یہ بات یاد آ گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ، تو میں اس سے رک گیا ۔ علی بن مدینی کہتے ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن انیس انصاری رضی اللہ عنہ ہیں یہ وہ جہنی نہیں ہیں جن سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10335
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1534)»