مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ ، وَقَالَ : " اقْتُلُوهُمْ وَلَوْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ : عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ " . ¤ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَسَبَقَ سَعِيدٌ عَمَّارًا - وَكَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَيْنِ - فَقَتَلَهُ . ¤ وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ مِنَ السُّوقِ فِي السُّوقِ . وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْهُمْ عَاصِفٌ ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ لِأَهْلِ السَّفِينَةِ : أَخْلِصُوا فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لَا تُغْنِي عَنْكُمْ شَيْئًا هَاهُنَا ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ : لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِي فِي الْبَحْرِ إِلَّا الْإِخْلَاصُ ، مَا يُنَجِّينِي فِي الْبَرِّ غَيْرُهُ ، اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا ، إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ آتِي مُحَمَّدًا فَأَضَعُ يَدِي فِي يَدِهِ فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا ، قَالَ : فَجَاءَ فَأَسْلَمَ . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ - قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ - رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ وَزَادَ : فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ; فَإِنَّهُ أَحْنَى عَلَيْهِ عُثْمَانُ فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ لِلْبَيْعَةِ ، جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ ، بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ . فَرَفَعَ رَأْسَهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ . كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى ، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ بِأَصَابِعِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ : " أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَنْظُرُ إِذْ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ ؟ قَالَ : " فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ " . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَعَ أَحَادِيثَ نَحْوِ هَذَا . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام لوگوں کو امان دے دی تھی صرف چار افراد اور دو خواتین کا معاملہ مختلف تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ انہیں قتل کر دو اگرچہ تم انہیں خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لیٹے ہوئے پاؤ عکرمہ بن ابوجہل عبداللہ بن خطل ، مقیس بن صبابہ اور عبدالله بن سعد بن ابوسرح جہاں تک عبداللہ بن خطل کا تعلق ہے ، تو وہ خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لپٹا ہو پایا گیا اور وہاں مارا گیا سیدنا سعید بن حریث رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اس کی طرف لپکے تھے سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے پہنچ گئے کیونکہ وہ دونوں میں نوجوان تھے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ جہاں تک مقیس بن صبابہ کا تعلق ہے تو لوگوں نے اسے بازار میں پا لیا ۔ جہاں تک عکرمہ کا تعلق ہے ، تو وہ سوار ہو کر سمندری سفر پر روانہ ہوئے راستے میں طوفان آ گیا کشتی چلانے والوں نے کشتی والوں سے کہا: کہ اب تم لوگ اخلاص کے ساتھ ( اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو ) کیونکہ اب تمہارے معبود یہاں کسی کام نہیں آئیں گے ، تو عکرمہ نے کہا: کہ اگر سمندر میں صرف اخلاص مجھے نجات دے سکتا ہے ، تو خشکی میں بھی کوئی چیز مجھے نجات نہیں دے گی اے اللہ میں تیرے ساتھ یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے نجات دے دی جس مصیبت میں مبتلا ہوں تو میں سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور میں انہیں معاف کرنے والا مہربان پاؤں گا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ آئے ، اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں جہاں تک عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کا تعلق ہے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر مہربانی کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو سیدنا عثمان اسے ساتھ لے کے آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کے کھڑا کر دیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ عبداللہ سے بیعت لے لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور آپ نے یہ بات قبول نہیں کی تین مرتبہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی آپ نے اپنی انگلیوں کے ذریعے اس سے بیعت لی پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : کیا تمہارے درمیان کوئی سمجھ دار شخص موجود نہیں تھا جو یہ دیکھ لیتا کہ جب اس نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھ اس کی بیعت سے پیچھے کیے ہوئے ہیں ، تو وہ اسے قتل کر دیتا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے آنکھ کے ذریعے ہماری طرف اشارہ کر دینا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ آنکھ کی خیانت کرنے والا ہو ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سعید بن یربوع کے حوالے سے مذکور حدیث آگے چل کر اس نوعیت کی دیگر احادیث کے ہمراہ آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔