حدیث نمبر: 10235
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةً مِنَ النَّاسِ : عَبْدُ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، وَسَارَّةُ امْرَأَةٌ . ¤ فَأَمَّا عَبْدُ الْعُزَّى فَإِنَّهُ قُتِلَ وَهُوَ آخِذٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ . قَالَ : وَنَذَرَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقْتُلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ إِذَا رَآهُ ، وَكَانَ أَخَا عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَشْفِعُ ، فَلَمَّا بَصُرَ بِهِ الْأَنْصَارِيُّ اشْتَمَلَ عَلَى السَّيْفِ ثُمَّ خَرَجَ فِي طَلَبِهِ ، فَوَجَدَهُ فِي حَلْقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهَابَ قَتْلَهُ . ¤ فَجَعَلَ يَتَرَدَّدُ وَيَكْرَهُ أَنْ يُقْدِمَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ فِي حَلْقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَبَايَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَنْصَارِيِّ : " قَدِ انْتَظَرْتُكَ أَنْ تُوفِيَ بِنَذْرِكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هِبْتُكَ أَفَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ " . ¤ وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَإِنَّهُ كَانَ لَهُ أَخٌ قُتِلَ خَطَأً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ بَنِي فِهْرٍ لِيَأْخُذَ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ الْعَقْلَ ، فَلَمَّا جَمَعَ لَهُ الْعَقْلَ وَرَجَعَ نَامَ الْفِهْرِيُّ ، فَوَثَبَ مَقِيسٌ فَأَخَذَ حَجَرًا فَجَلَدَ بِهِ رَأْسَهُ فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ شَفَى النَّفْسَ مَنْ قَدْ مَاتَ بِالْقَاعِ مُسْنَدَا يَضَرِّجُ ثَوْبَيْهِ دِمَاءُ الْأَجَادِعِ وَكَانَتْ هُمُومُ النَّفْسِ مِنْ قَبْلِ قَتْلِهِ ¤ تَهِيجُ فَتُنْسِينِي وَطْأَةَ الْمَضَاجِعِ حَلَلْتُ بِهِ ثَأْرِي وَأَدْرَكْتُ مُؤْرَبِي ¤ وَكُنْتُ إِلَى الْأَوْثَانِ أَوَّلَ رَاجِعِ . ¤ وَأَمَّا سَارَّةُ فَإِنَّهَا كَانَتْ مَوْلَاةً لِقُرَيْشٍ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْحَاجَةَ فَأَعْطَاهَا شَيْئًا ، ثُمَّ أَتَاهَا رَجُلٌ فَدَفَعَ إِلَيْهَا كِتَابًا لِأَهْلِ مَكَّةَ يَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْهِمْ ; لِيُحْفَظَ فِي عِيَالِهِ - وَكَانَ لَهُ بِهَا عِيَالٌ - فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ بِذَلِكَ ، فَبَعَثَ فِي أَثَرِهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَحِقَاهَا فَفَتَّشَاهَا فَلَمْ يَقْدِرَا عَلَى شَيْءٍ مِنْهَا ، فَأَقْبَلَا رَاجِعَيْنِ . ¤ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : وَاللَّهِ مَا كَذَّبْنَا وَلَا كُذِّبْنَا ، ارْجِعْ بِنَا إِلَيْهَا ، فَرَجَعَا إِلَيْهَا فَسَلَّا سَيْفَيْهِمَا فَقَالَا : وَاللَّهِ لَنُذِيقَنَّكِ الْمَوْتَ أَوْ لَتَدْفَعِنَّ إِلَيْنَا الْكِتَابَ ، فَأَنْكَرَتْ ثُمَّ قَالَتْ : أَدْفَعُهُ إِلَيْكُمَا عَلَى أَنْ لَا تَرُدَّانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبِلَا مِنْهَا ، فَحَلَّتْ عِقَاصَهَا فَأَخْرَجَتْ كِتَابًا مِنْ قُرُونِهَا فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِمَا . ¤ فَرَجَعَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَفَعَاهُ إِلَيْهِ ، فَبَعَثَ إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ : " مَا هَذَا الْكِتَابُ ؟ " قَالَ : أُخْبِرُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ أَحَدٌ مَعَكَ إِلَّا لَهُ مَنْ يَحْفَظُهُ فِي عِيَالِهِ ، فَكَتَبْتُ هَذَا الْكِتَابَ لِيَكُونُوا فِي عِيَالِي . فَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ . إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو امان دے دی تھی صرف چار افراد کو مستثنی قرار دیا تھا عبدالعزی بن خطل ، مقیس بن صبابہ ، عبداللہ بن سعد بن ابوسرح اور سارہ نامی ایک عورت جہاں تک عبدالعزی کا تعلق ہے ، تو اسے قتل کر دیا گیا جبکہ اس نے خانہ کعبہ کے پردوں کو پکڑا ہوا تھا راوی کہتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کو قتل کر دے گا جب وہ اسے دیکھے گا عبداللہ بن سعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا رضاعی بھائی تھا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور اس کی سفارش کی جب انصاری نے اسے دیکھا تو اس نے اپنی تلوار پکڑ لی اور پھر اس کی طلب میں نکلا اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقے میں موجود پایا تو اسے قتل کرنے سے ڈر گیا اور تردد کا شکار ہو گیا اسے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ وہ اس پر حملہ آور ہو کیونکہ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقے میں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک بڑھایا اور اس سے بیعت لے لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا میں تمہارا انتظار کرتا رہا کہ تم اس سے اپنی نذر پوری کر لو گے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے ڈر گیا تھا آپ نے مجھے اشارہ کر دینا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خفیہ اشارے کرے ۔ جہاں تک مقیس بن صبابہ کا تعلق ہے ، تو اس کا ایک بھائی تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قتل خطاء کے طور پر قتل ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ بنو فہر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا تھا تاکہ وہ انصار سے دیت لے جب اس کے لئے دیت کی چیزیں اکٹھی ہو گئیں تو وہ واپس جا رہا تھا تو فہری شخص سو گیا تو مقیس نے اٹھ کر ایک پتھر پکڑا اور اس کے ذریعے فہری شخص کو قتل کر دیا پھر وہ آتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہا تھا : ” نفس کو شفا دیدی ہے ، اس شخص نے جو میدان میں ٹیک لگا کر مر گیا اس نے اپنے کپڑے مختلف رگوں کے خون سے رنگین کر لیے اس کے قتل سے پہلے نفس کی پریشانیاں اتنی زیادہ تھیں کہ انہوں نے مجھے بستر پر آرام کرنا بھلا دیا تھا ، میں نے اس کے ذریعے اپنا بدلہ لیا ہے ، اور اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے ، اور بتوں کی طرف لوٹنے والا میں پہلا فرد بن گیا ہوں “ ۔ جہاں تک سارہ نامی عورت کا تعلق ہے ، تو وہ قریش کی کنیز تھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور حاجت مند ہونے کی آپ کے سامنے شکایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ دے دیا پھر ایک شخص اس کے پاس آیا اور اس نے اس عورت کو اہل مکہ کے لئے ایک مکتوب دیا اس کے ذریعے وہ اہل مکہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ اس کے اہل خانہ کی حفاظت ہو سکے کیونکہ اس کے اہلخانہ مکہ میں موجود تھے سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتا دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے پیچھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ دونوں اس عورت کے پاس پہنچ گئے انہوں نے اس عورت کی تلاشی لی لیکن انہیں اس عورت سے کچھ نہیں ملا پھر وہ دونوں واپس آ گئے اسی دوران ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ کی قسم نہ تو ہمارے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے ، اور نہ ہی ہم نے غلط بیانی کی ہے ہم واپس اس عورت کے پاس چلتے ہیں پھر وہ دونوں اس عورت کے پاس واپس گئے ان دونوں نے اپنی تلواریں سونتیں اور کہا: اللہ کی قسم ہم تمہیں ضرور موت کا ذائقہ چکھا دیں گے یا پھر وہ مکتوب تم ہمارے حوالے کر دو اس عورت نے انکار کیا پھر اس عورت نے کہا: کہ میں وہ تمہارے حوالے کر دیتی ہوں اس شرط پر کہ تم دونوں مجھے واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں لے جاؤ گے ، تو ان دونوں نے وہ شرط مان لی اس عورت نے اپنے جوڑے کو کھولا اور اپنی مینڈھیوں میں سے ایک مکتوب نکالا اور وہ ان دونوں کے حوالے کر دیا وہ دونوں حضرات وہ مکتوب لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے ، اور وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : یہ مکتوب کا کیا معاملہ ہے ، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میں آپ کو اس بارے میں بتاتا ہوں آپ کے ساتھ جتنے بھی لوگ ہیں ان کا مکہ میں کوئی نہ کوئی ایسا عزیز ہے ، جو ان کے گھر والوں کی حفاظت کر سکتا ہے ، تو میں نے ان لوگوں کو یہ مکتوب اس لئے لکھا تھا تاکہ وہ میرے گھر والوں کی حفاظت کریں تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیات نازل کیں : اے ایمان والو ! تم میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ ، تم ان کے ساتھ محبت رکھنا چاہتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیات کے آخر تک ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبد الملک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10235
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف