مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِسَفَرِهِ ، وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ الْحُصَيْنِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ خَلَفٍ الْغِفَارِيَّ ، وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْكَدِيدِ - [ مَاءٌ ] بَيْنَ عُسْفَانَ وَأَمْجٍ - أَفْطَرَ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ فِي الصِّيَامِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر پر روانہ ہو گئے آپ نے مدینہ منورہ میں اپنا نائب سیدنا ابورهم کلثوم بن حصین بن عتبہ بن خلف غفاری کو مقرر کیا آپ دس رمضان گزرنے کے بعد نکلے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا ، یہاں تک کہ آپ جب عسفان اور امج کے درمیان موجود کدید نامی پانی کے چشمے کے پاس پہنچے تو آپ نے روزہ ختم کر دیا پھر آپ چلتے رہے ، یہاں تک کہ آپ نے مرظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا اس وقت آپ کے ساتھ دس ہزار مسلمان تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ روزوں سے متعلق باب میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔