حدیث نمبر: 10232
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَةٍ ، فَقَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، قَالَتْ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ : " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ " ثَلَاثًا " نُصِرْتَ نُصِرْتَ " ثَلَاثًا . ¤ فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ : " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ " ثَلَاثًا " نُصِرْتَ نُصِرْتَ " ثَلَاثًا كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا ، وَهَلْ كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : " هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنِي ، وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَكْرَ بْنَ وَائِلٍ " . ¤ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ وَلَا تُعْلِمَ أَحَدًا ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، مَا هَذَا الْجِهَازُ ؟ فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا أَدْرِي ، فَقَالَ : مَا هَذَا بِزَمَانِ غَزْوَةِ بَنِي الْأَصْفَرِ ، فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَتْ : وَاللَّهِ لَا عِلْمَ لِي ، قَالَتْ : فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ ، فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يُنْشِدُ : ¤ يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدَا حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلَدَا إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدَا ¤ ثُمَّ أَسْلَمْنَا فَلَمْ نَنْزِعْ يَدَا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَا ¤ وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا وَزَعَمُوا أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدَا ¤ فَانْصُرْ هَدَاكَ اللَّهُ نَصْرًا أَيَّدَا وَادْعُوَا عِبَادَ اللَّهِ يَأْتُوا مَدَدَا ¤ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ قَدْ تَجَرَّدَا [ أَبْيَضَ مِثْلَ الْبَدْرِ يُنْحِي صُعُدَا ] ¤ إِنْ سِيمَ خَسْفًا وَجْهُهُ تَرَبَّدَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ " ثَلَاثًا " نُصِرْتَ نُصِرْتَ " ثَلَاثًا ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْصَبُّ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ " . ¤ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو ، أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَنَصْرُ بَنِي عَدِيٍّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ تَرِبَ نَحْرُكَ ] وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ ، وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ ؟ " . فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَلِكَ السَّفَرِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً " . ¤ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ بِمَرٍّ ، وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ ، وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَشْرَفُوا عَلَى مَرٍّ ، فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ : يَا بُدَيْلُ ، هَذِهِ نَارُ بَنِي كَعْبٍ أَهْلِكَ . فَقَالَ : جَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ . ¤ فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ - وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ - فَسَأَلُوا أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَخَرَجَ بِهِمْ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ أَنْ يُؤَمِّنَ لَهُ مَنْ أَمَّنَ ، فَقَالَ : " قَدْ أَمَّنْتُ مَنْ أَمَّنْتَ مَا خَلَا أَبَا سُفْيَانَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا تَحْجُرْ عَلَيَّ . فَقَالَ : " مَنْ أَمَّنْتَ فَهُوَ آمِنٌ " . ¤ فَذَهَبَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ ، فَقَالَ : " أَسَفِرُوا " . ¤ وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ، وَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وَضَوْءَهُ يَنْتَضِحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا ، فَقَالَ : لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ ، وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں ٹھہرے پھر آپ نماز کے لئے اٹھ کر وضو کرنے لگے ، تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے آپ کو وضو کرنے کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا میں حاضر ہوں ۔ میں حاضر ہوں یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی پھر تین مرتبہ یہ کلمات کہے تمہاری مدد کر دی گئی تمہاری مدد کر دی گئی جب آپ تشریف لائے ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو وضو کرنے کے دوران تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ، اور تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا تمہاری مدد کر دی گئی تمہاری مدد کر دی گئی ، تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آپ کسی انسان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کیا آپ کے ساتھ کوئی تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بنو کعب سے تعلق رکھنے والا رجز پڑھنے والا شخص مجھے مدد کے لئے پکار رہا تھا اس کا یہ کہنا تھا کہ قریش نے ان لوگوں کے خلاف بکر بن وائل کی مدد کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان کے لئے سامان تیار کریں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کسی بات کا علم نہیں تھا وہ بیان کرتی ہیں ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ، اور بولے : اے میری بیٹی یہ تیاری کس سلسلے میں ہے ، تو انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بنو اصفر کے ساتھ جنگ کرنے کا زمانہ بھی نہیں ہے ، تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم مجھے اس کا علم نہیں ہے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں پھر ہم تین دن تک ٹھہرے رہے پھر ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، تو میں نے ایک رجز پڑھنے والے کو یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا ” اے اللہ ! میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ( خدا کا واسطہ دیتا ہوں جو قدیم زمانے سے میرے اور ان کے آباء کے درمیان حلف ( چلا آ رہا ہے ) ہم نے آپ کو جنم دیا تو آپ کا جنم ہوا ، پھر ہم نے اسلا قبول کر لیا تو آپ نے ہاتھ نہیں کھینچا ، قریش نے آپ کے ساتھ عہد شکنی کی ہے ، اور آپ کے ساتھ کیے ہوئے مضبوط معاہدے کو توڑ دیا ہے ، ان کا یہ خیال ہے کہ آپ کسی کو ( قریش کے خلاف ) نہیں بلائیں گے ، اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے آپ ایسی مدد کریں ، جو سب سے مضبوط ہو آپ اللہ کے بندوں کو بلائیں ، وہ مدد ( یا ) کمک کے طور پر آ جائیں گے ان لوگوں کے درمیان اللہ کے رسول ہوں گے جو ظاہر ہیں ، چودھویں کے چاند کی طرح ، سفید رنگ کے ہیں وہ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ( اگر ان کے ساتھیوں کو ) ذلت کا سامنا ہو رہا ہو تو ان کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں حاضر ہوں ۔ میں حاضر ہوں یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر تین مرتبہ فرمایا تمہاری مدد کر دی گئی تمہاری مدد کر دی گئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے جب آپ روحاء کے مقام پر پہنچے تو آپ نے ایک بادل کو دیکھا جو جمع ہوا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ بادل بنو کعب کی مدد کرنے کے لئے جمع ہوا ہے اس وقت بنو عدی بن عمرو سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے جو بنوکعب بن عمرو کے بھائی تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور بنو عدی کی مدد کرنے کے لئے بھی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری گردن خاک آلود ہو ، عدی ، کعب ہی ہے ، اور کعب ، عدی ہی ہے اس سفر کے دوران اس شخص نے جام شہادت نوش کر لیا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ انہیں ہم سے بے خبر رکھنا یہاں تک کہ ہم اچانک ان پر گرفت کر لیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ آپ نے ” مر“ کے مقام پر پڑاؤ کیا ابوسفیان ، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقا اس رات نکلے اور انہوں نے جھانک کر ” مر“ کے مقام کو دیکھا ابوسفیان نے آگ جلتی ہوئی دیکھی تو بولا: اے بدیل یہ تمہارے اہلخانہ بنو کعب کی آگ ہے ، تو بدیل نے کہا: جنگ اسے حرکت دے کر تمہاری طرف لا رہی ہے اس رات مزینہ کے لوگوں نے ان لوگوں کو گرفت میں لے لیا اور ان لوگوں پر پہرا داری لازم تھی ، ان لوگوں نے یہ درخواست کی کہ وہ انہیں لے کر عباس بن عبدالمطلب کے پاس جائیں وہ ان لوگوں کو لے کے عباس بن عبدالمطلب کے پاس آ گئے ابوسفیان نے ان سے یہ درخواست کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لئے اجازت لیں وہ انہیں ساتھ لے کے نکلے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ انہیں امان دے دیں جنہیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے امان دی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ نے جسے امان دی ہو اسے میں بھی امان دیتا ہوں لیکن ابوسفیان اس میں شامل نہیں ہو گا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ میرے اوپر پابندی عائد نہ کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جسے آپ نے امان دی وہ مامون ہے پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے پھر وہ وہاں سے نکلے ، تو ابوسفیان نے کہا: میں جانا چاہتا ہوں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم صبح ہو لینے دو صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے کے لئے اٹھے تو مسلمان آپ کے وضو کی طرف لپکے اور وضو کے گرنے والے پانی کو لے کے اپنے چہرے پے مل لیتے تھے ، تو ابوسفیان نے کہا: اے ابوالفضل آپ کے بھتیجے کی بادشاہی زبردست ہو گئی ہے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بادشاہی نہیں ہے بلکہ یہ نبوت ہے ، اور اسی چیز میں وہ لوگ رغبت رکھتے ہیں ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلیمان بن نضلہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10232
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (968) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (433/24)»