حدیث نمبر: 10112
وَعَنْ وَحْشِيٍّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " وَحْشِيٌّ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " قَتَلَتْ حَمْزَةَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَهُ بِيَدِي وَلَمْ يُهِنِّي بِيَدِهِ ، قَالَتْ لَهُ قُرَيْشٌ : أَتُحِبُّهُ وَهُوَ قَاتِلُ حَمْزَةَ ؟ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاسْتَغْفِرْ لِي ، فَتَفَلَ فِي الْأَرْضِ ثَلَاثَةً ، وَدَفَعَ فِي صَدْرِي ثَلَاثَةً ، وَقَالَ : " وَحْشِيٌّ ، اخْرُجْ فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا قَاتَلْتَ لِتَصُدَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ أَتَمُّ مِنْ هَذِهِ فِي مَنَاقِبِ وَحْشِيٍّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم وحشی ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے دریافت کیا : تم نے حمزہ کو قتل کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! ہر طرح کی حمد ، اُس اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میرے ذریعے انہیں ( شہادت کی موت کی شکل میں ) عزت عطا کی ، اور اُن کے ذریعے مجھے ( کفر کے عالم میں مارے جانے کی ) رسوائی کا شکار نہیں کیا ۔ قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا آپ اسے پسند کریں گے ؟ جبکہ یہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر تین مرتبہ تھوکا اور پھر میرے سینے پر ہاتھ مار کر تین مرتبہ پرے کیا اور ارشاد فرمایا : اے وحشی جاؤ ! اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو ! جس طرح تم نے پہلے اس لئے لڑائی کی تھی ، تاکہ اللہ کی راہ سے روک دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کا ایک اور طریق ہے ، جو اس سے زیادہ مکمل ہے ، وہ سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1821) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (139/22)»