حدیث نمبر: 10113
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا انْصَرَفَ أَبُو سُفْيَانَ وَالْمُشْرِكُونَ عَنْ أُحُدٍ ، وَبَلَغُوا الرَّوْحَاءَ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَا مُحَمَّدًا قَتَلْتُمْ ، وَلَا الْكَوَاعِبَ أَرْدَفْتُمْ ، شَرٌّ مَا صَنَعْتُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبُوا حَتَّى بَلَغُوا حَمْرَاءَ الْأَسَدِ أَوْ بِئْرَ بَنِي عَيْنَةَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ) ، وَذَلِكَ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَوْعِدُكَ مَوْسِمُ بَدْرٍ حَيْثُ قَتَلْتُمْ أَصْحَابَنَا ، فَأَمَّا الْجَبَانُ فَرَجَعَ ، وَأَمَّا الشُّجَاعُ فَأَخَذَ أُهْبَةَ الْقِتَالِ وَالتِّجَارَةِ ، فَأَتَوْهُ فَلَمْ يَجِدُوا بِهِ أَحَدًا ، وَتَسَوَّفُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ : ( فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ ) ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْجَوَّازِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ابوسفیان اور مشرکین غزوۂ احد سے واپس گئے ، اور ” روحاء “ کے مقام پر پہنچے ، تو ابوسفیان نے کہا: نہ تو تم لوگوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کیا ہے اور نہ ہی تم نے خواتین کو پیچھے بٹھایا ہے ، تم نے جو کیا ہے ، وہ بہت برا ہے ، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ، تو آپ نے لوگوں کو بلایا سب لوگ اکٹھے ہوئے اور وہ لوگ ” حمراء الاسد “ کے مقام تک یا ” بئر بنو عنبر “ کے مقام تک پہنچ گئے ، تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول کے بلاوے پر لبیک کہا: ، اس کے بعد کہ انہیں زخم لاحق ہو چکے تھے “ ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابوسفیان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: تھا : آپ لوگوں کے ساتھ اب بدر میں سامنا ہو گا ، جہاں آپ نے ہمارے ساتھیوں کو قتل کر دیا تھا ، جو بزدل لوگ تھے ، وہ تو واپس چلے گئے ، اور جو بہادر لوگ تھے ، انہوں نے لڑائی اور تجارت کے لباس پہن لئے وہ وہاں آئے لیکن انہیں کوئی نہیں ملا تو انہوں نے یہ کہا: کہ آگے چل کے ایسا ہو گا ، تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تو وہ ( یعنی مسلمان ) اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ہمراہ واپس گئے ، جبکہ انہیں کوئی گزند لاحق نہیں ہوا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن منصور الجواز کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11632)»