حدیث نمبر: 10110
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أُحُدٍ بَكَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى شُهَدَائِهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بِوَاكِيَ لَهُ " ، فَرَجَعَتِ الْأَنْصَارُ ، فَقَالُوا لِنِسَائِهِمْ : لَا تَبْكِينَ أَحَدًا حَتَّى تَنْدِبْنَ حَمْزَةَ ، قَالَ : فَذَاكَ فِيهِمْ إِلَى الْيَوْمِ لَا يَبْكِينَ مَيِّتًا إِلَّا بَدَأْنَ بِحَمْزَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مُطِيعٍ الشَّيْبَانِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد سے واپس تشریف لائے ، تو انصار کی خواتین اپنے شہداء پر رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : لیکن حمزہ کے لئے رونے والیاں نہیں ہیں ، تو انصار واپس گئے انہوں نے اپنی خواتین سے کہا: تم نے کسی پر بھی اُس وقت تک نہیں رونا ، جب تک پہلے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر نہیں روتیں ۔ راوی کہتے ہیں : اُس وقت سے لے کر آج تک یہ رواج چلا آ رہا ہے کہ وہ خواتین جب بھی کسی میت پر روتی ہیں ، تو آغاز سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ سے کرتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن مطیع شیبانی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6)»