مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَقْتَلِ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ ، فَقَالَ : " لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بِوَاكِيَ لَهُ " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَبَكَيْنَ حَمْزَةَ ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُنَّ يَبْكِينَ فَقَالَ : " يَا وَيْحَهُنَّ ، مَا زِلْنَ يَبْكِينَ مُنْذُ الْيَوْمِ فَلْيَبْكِينَ ، وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد سے واپس تشریف لائے ، تو آپ نے انصار کی خواتین کو روتے ہوئے سنا ، تو ارشاد فرمایا : لیکن حمزہ کے لئے رونے والی خواتین کہاں ہیں ؟ جب انصار کی خواتین کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو وہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے لئے بھی روئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے تھے ، جب آپ بیدار ہوئے ، تو خواتین اس وقت بھی رو رہیں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا ستیاناس ہو ! یہ مسلسل روئے جا رہی ہیں یہ روتی رہیں ، لیکن آج کے بعد یہ کسی کے مرنے پر نہ روئیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔