مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَقْتَلِ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ صَفِيَّةُ تَسْأَلُ مَا صَنَعَ ، فَلَقِيَتْ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ ، فَقَالَتْ : يَا عَلِيُّ ، وَيَا زُبَيْرُ ، مَا فَعَلَ حَمْزَةُ ؟ فَأَوْهَمَاهَا أَنَّهُمَا لَا يَدْرِيَانِ ، قَالَ : فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " إِنِّي أَخَافُ عَلَى عَقْلِهَا " ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَكَتْ ، ثُمَّ قَامَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " لَوْلَا جَزَعُ النِّسَاءِ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ ، وَحَوَاصِلِ الطَّيْرِ " ، ثُمَّ أَتَى بِالْقَتْلَى فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَيْهِمْ ، فَيُوضَعُ سَبْعَةٌ وَحَمْزَةُ فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ ، ثُمَّ يُرْفَعُونَ وَيُتْرَكُ حَمْزَةُ مَكَانَهُ ، ثُمَّ دَعَا بِتِسْعَةٍ فَكَبَّرَ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَدْ رَوَى مُسْلِمٌ فِي مُقَدِّمَةِ كِتَابِهِ ، وَابْنُ مَاجَهْ قِصَّةَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ فَقَطْ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن ، جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آئیں ، انہوں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صورت حال کے بارے میں دریافت کیا ، اُن کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے علی ! اور اے زبیر ! حمزہ کا کیا حال ہے ؟ تو ان دونوں نے ان کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ ان دونوں کو پتہ نہیں ہے راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس عورت کی عقل کے حوالے سے اندیشہ ہے ( کہ کہیں یہ غم کی شدت کی وجہ سے ذہنی توازن نہ کھو بیٹھے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے سینے پر رکھا ، تو اس خاتون نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور رونے لگیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا : اگر خواتین کی گریہ وزاری کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں انہیں یوں ہی رہنے دیتا ، یہاں تک کہ درندوں کے پیٹوں سے ، اور پرندوں کے پیٹوں سے ، حشر کے دن انہیں اٹھا لیا جاتا ، پھر مقتولین کو لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا کرنا شروع کی ، سات افراد کی میتیں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رکھی جاتی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر سات تکبیریں کہتے تھے ، پھر دوسرے لوگوں کو اٹھا لیا جاتا تھا ، اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت وہیں رہتی تھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو افراد کو منگوایا اور ان پر سات تکبیریں کہیں ، یہاں تک کہ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کی نماز جنازہ پڑھ کے فارغ ہوئے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام مسلم نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں ، اور امام ابن ماجہ نے صرف ان حضرات کی نماز جنازہ والا حصہ نقل کیا ہے ، اور امام بزار اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔