حدیث نمبر: 10099
عَنِ الزُّبَيْرِ - يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ - أَنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ تَسْعَى حَتَّى كَادَتْ أَنْ تُشْرِفَ عَلَى الْقَتْلَى ، قَالَ : فَكَرِهَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَرَاهُمْ ، فَقَالَ : " الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ " ، قَالَ الزُّبَيْرُ : فَتَوَسَّمْتُ أَنَّهَا أُمِّي صَفِيَّةُ قَالَ : فَخَرَجْتُ أَسْعَى إِلَيْهَا ، قَالَ : فَأَدْرَكْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَى الْقَتْلَى ، قَالَ : فَلَدَمَتْ فِي صَدْرِي ، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَلْدَةً ، قَالَتْ : إِلَيْكَ عَنِّي لَا أَرْضَ لَكَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَزَمَ عَلَيْكِ ، قَالَ : فَوَقَفَتْ وَأَخْرَجَتْ ثَوْبَيْنِ مَعَهَا ، فَقَالَتْ : هَذَانِ ثَوْبَانِ جِئْتُ بِهِمَا لِأَخِي حَمْزَةَ فَقَدْ بَلَغَنِي مَقْتَلُهُ فَكَفِّنُوهُ فِيهِمَا ، قَالَ : فَجِئْنَا بِالثَّوْبَيْنِ لِنُكَفِّنَ فِيهِمَا حَمْزَةَ ، فَإِذَا إِلَى جَنْبِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَتِيلٌ ، فُعِلَ بِهِ كَمَا فُعِلَ بِحَمْزَةَ قَالَ : فَوَجَدْنَا غَضَاضَةً وَحَيَاءً أَنْ يُكَفَّنَ حَمْزَةُ فِي ثَوْبَيْنِ وَالْأَنْصَارِيُّ لَا كَفَنَ لَهُ ، فَقُلْنَا : لِحَمْزَةَ ثَوْبٌ ، وَلِلْأَنْصَارِيِّ ثَوْبٌ ، فَقَدَّرْنَاهُمَا فَكَانَ أَحَدُهُمَا أَكْبَرَ مِنَ الْآخَرِ ، فَأَقْرَعْنَا بَيْنَهُمَا ، فَكَفَّنَّا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي الثَّوْبِ الَّذِي طَارَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ، ایک خاتون دوڑتی ہوئی آئی ، قریب تھا کہ وہ مقتولین کے پاس پہنچ جاتی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری کہ وہ خاتون مقتولین کو دیکھے ، آپ نے فرمایا : اس عورت کو پکڑو ! اس عورت کو پکڑو ! سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے پہچان لیا کہ وہ میری والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں ، میں دوڑتا ہوا ، ان کے پاس گیا اور مقتولین تک پہنچنے سے پہلے میں اُن تک گیا ، انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا ، وہ مضبوط جسم کی مالک خاتون تھیں ، انہوں نے فرمایا : تم مجھ سے دور ہو جاؤ ! میں تم سے راضی نہیں ہوؤں گی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو تاکید کی ہے ( کہ آپ آگے نہ جائیں ) راوی کہتے ہیں : تو وہ ٹھہر گئیں ، پھر انہوں نے اپنے پاس موجود ، دو کپڑے نکالے اور کہا: یہ دو کپڑے میں اپنے بھائی حمزہ کے لئے لے کر آئی ہوں ، مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ شہید ہو گئے ہیں ، انہیں ان دونوں میں کفن دینا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم وہ دو کپڑے لے کر آئے ، تاکہ ان میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفن دیں ، تو ان کے پہلو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شہید موجود تھا ، اُس کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کیا گیا تھا ، جس طرح کا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا ، تو ہمیں اس بات سے شرم اور حیاء آئی کہ ہم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیدیں اور انصاری کا کفن نہ ہو ، تو ہم نے یہ طے کیا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے لئے ایک کپڑا ہو گا ، اور انصاری کے لئے ایک کپڑا ہو گا ، ہم نے ان دونوں کی پیمائش کی ، تو ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، تو ہم نے دونوں کے لئے اس کی قرعہ اندازی کر لی اور جس کے حصے میں جو کپڑ آیا تھا ، اُس کو اسی کپڑے میں کفن دیا ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10099
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (686) اخرجه احمد فى المسند (1418)»