مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْرَى باب: قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَتْ قُرَيْشٌ نَاحَتْ قَتْلَاهَا ثُمَّ نَدِمَتْ ، وَقَالُوا : لَا تَنُوحُوا عَلَيْهِمْ فَيَبْلُغَ ذَلِكَ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ ; فَيَشْمَتُوا بِكُمْ ، وَكَانَ فِي الْأَسْرَى : أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صُبَيْرَةَ السَّهْمِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا تَاجِرًا كَيِّسًا ذَا مَالٍ ، كَأَنَّكُمْ قَدْ جَاءَكُمْ فِي فِدَاءِ أَبِيهِ " . فَلَمَّا قَالَتْ قُرَيْشٌ فِي الْفِدَاءِ مَا قَالَتْ ، قَالَ الْمُطَّلِبُ : صَدَقْتُمْ ، وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتُمْ لَيَتَأَرَّبَنَّ عَلَيْكُمْ . ثُمَّ انْسَلَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَفَدَى أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے قریش ، اپنے مقتولین پر نوحہ کرتے رہے ، پھر وہ ندامت کا شکار ہوئے پھر انہوں نے یہ کہا: تم ان پر نوحہ نہ کرو ! اس بات کی اطلاع سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کو ملی ، تو وہ اس حوالے سے خوش ہوں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : قیدیوں میں ایک شخص ابووداعہ بن صبیرہ سہمی تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مکہ میں اس کا ایک بیٹا ہے ، جو تاجر ہے ، سمجھدار ہے اور مال دار ہے ، وہ اپنے باپ کے فدیے کے سلسلے میں آیا ہی چاہتا ہو گا ، جب قریش نے فدیے کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کیا ، تو مطلب نے کہا: تم لوگ ٹھیک کہہ رہے ہو ۔ اللہ کی قسم ! اگر تم لوگوں نے ایسا کیا تو وہ لوگ تمہارے خلاف زیادتی کریں گے ، پھر وہ رات کے وقت کھسک کر نکل آیا اور مدینہ منورہ آ گیا ، اس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم ادا کیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔