حدیث نمبر: 10022
عَنْ شَقِيقٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ الثَّمَانِيَةَ عَشَرَ الَّذِينَ قُتِلُوا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ جَعَلَ اللَّهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي الْجَنَّةِ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ . ¤ قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً ، فَقَالَ : يَا عِبَادِي مَاذَا تَشْتَهُونَ ؟ فَقَالُوا : يَا رَبَّنَا هَلْ فَوْقَ هَذَا شَيْءٌ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : عِبَادِي مَاذَا تَشْتَهُونَ ؟ فَيَقُولُونَ فِي الرَّابِعَةِ : تُرَدُّ أَرْوَاحُنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقْتَلُ كَمَا قُتِلْنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَيَأْتِي تَسْمِيَةُ مَنْ سُمِّيَ مِنْهُمْ فِي بَابِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ . وَتَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ . ¤
محمد محی الدین

شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے اٹھارہ افراد غزوہ بدر کے موقع پر شہید ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو جنت میں سبز پرندوں میں رکھ دیا ، وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں ) چلے جاتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ لوگ اس حالت میں ہوتے ہیں کہ اسی دوران کا پروردگار ان کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرماتا ہے : اے میرے بندو ! تم کسی چیز کی خواہش رکھتے ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! کیا اس سے اوپر بھی کوئی چیز ہے ؟ پروردگار فرماتا ہے : اے میرے بندو ! تم کس چیز کی خواہش رکھتے ہو ؟ ( جب یہ سوال جواب ہوتا ہے ، تو ) چوتھی مرتبہ میں وہ یہ کہتے ہیں : تو ہماری ارواح کو ہمارے اجسام کی طرف لوٹا دے ، تاکہ ہمیں دوبارہ اسی طرح قتل کر دیا جائے ، جس طرح ہم پہلے قتل ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں سے متعلق باب میں ، ان افراد کے نام آئیں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔ اس سے پہلے کچھ احادیث ، شہداء کی ارواح سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10022
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10466)»