حدیث نمبر: 3495
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا هُوَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا الصَّدَقَةَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ غُلُولَ الصَّدَقَةِ، أَنَّهُ مَنْ غَلَّ فِيهَا بِبَعِيرٍ أَوْ شَاةٍ، أَتَى بِهِ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ: بَلَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک روز میرے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مابین صدقہ کے متعلق گفتگو ہونے لگی،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہیں سنا تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ میں خیانت کا ذکر کیا تو اس وقت یہ بھی فرمایا تھا: جس نے صدقہ کے مال میں ایک اونٹ یا ایک بکری کی خیانت کی، تو وہ قیامت والے دن اسے اٹھا کر حاضر ہو گا؟ سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل۔
حدیث نمبر: 3496
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ، عَلَى صَدَقَةٍ فَجَاءَ فَقَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَيَّ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِيءُ، فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَيَّ، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ إِنَ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَةَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثًا، وَزَادَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ سَمِعَتْ أُذُنِي وَأَبْصَرَتْ عَيْنِي وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنوازد کے ایک شخص ابن لُتْبِیَّہ کو صدقہ کی وصولی کیلئے عامل بنایا، جب وہ واپس آیا تو کہنے لگا: یہ چیز تمہارے لئے ہے اور یہ چیز مجھے ہدیہ دی گئی ہے، بات یہ ہے کہ وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہتا پھر دیکھتے کہ اس کو ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے جو آدمی صدقہ میں خیانت کرے گا، وہ اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھا کر حاضر ہو گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلارہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اس قدر بلند کیا کہ ہمیں آپ کے بازوؤں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی۔ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے کانوں نے یہ حدیث سنی اور میری آنکھوں نے اس کا مشاہدہ کیا، بہرحال تم سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھ لو۔
حدیث نمبر: 3497
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((هَدَايَا الْعُمَّالِ غُلُولٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو حمید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عاملینِ زکوۃ کے تحفے خیانت ہیں۔
حدیث نمبر: 3498
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ رُبَمَا ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَيَتَحَدَّثُ حَتَّى يَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا إِلَى الْمَغْرِبِ إِذْ مَرَّ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: ((أُفٍّ لَكَ، أُفٍّ لَكَ)) مَرَّتَيْنِ فَكَبُرَ فِي ذَرْعِي، وَتَأَخَّرْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي، فَقَالَ: ((مَا لَكَ؟ امْشِ))، قَالَ: قُلْتُ: أَحْدَثْتُ حَدَثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((وَمَا ذَاكَ؟)) قُلْتُ: أَفَّفْتَ بِي، قَالَ: ((لَا، وَلَكِنْ هَذَا قَبْرُ فُلَانٍ بَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلَانَ فَغَلَّ نَمِرَةً، فَدُرِّعَ الْآنَ مِثْلُهَا مِنْ نَارٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ عصر کی نماز کے بعد بنو عبد الاشھل کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور غروب آفتاب تک وہیں گفتگو میں مگن رہتے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ (وہاں سے فارغ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کے لیے جلدی جلدی چلے آ رہے تھے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بقیع سے گزرتے وقت یہ فرمانا شروع کر دیا: تیرے لیے اف ہے، تیرے لیے اف ہے۔ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے یہ کلمات کہہ رہے ہیں اس لیےیہ بات میرے دل پر بڑی گراں گزری اور میں پیچھے کو ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ آگے چلو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہاری مراد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اف کہہ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ یہ فلاں آدمی کی قبر ہے، میں نے اس کو فلاں قبیلہ کی طرف زکوۃ کا عامل بنا کر بھیجا تھا اور اس نے ایک چادر کی خیانت کی تھی، اب اس کو اس کی بقدر آگ کی قمیص پہنا دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 3499
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ فَقَالَ: مَا لَكَ لَا تَدْعُو لِي؟ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ))، وَقَدْ كُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ يَعْنِي عَامِلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن عامر کی تیمار داری کرنے کے لیے گئے، ابن عامر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا بات ہے، آپ میرے حق میں دعا کیوں نہیں کرتے؟ انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ: اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور خیانت والے مال سے صدقہ قبول نہیں کرتا۔ اور تم تو بصرہ کے عامل رہ چکے ہیں (اور ممکن ہے کہ تم سے گڑ بڑ ہو گئی ہو)۔
حدیث نمبر: 3500
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: ((قُمْ عَلَى صَدَقَةِ بَنِي فُلَانٍ، وَانْظُرْ لَا تَأْتِيَنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَكْرٍ تَحْمِلُهُ عَلَى عَاتِقِكَ أَوْ عَلَى كَاهِلِكَ لَهُ رُغَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصْرِفْهَا عَنِّي، فَصَرَفَهَا عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اٹھو اور فلاں قبیلہ سے زکوۃ وصول کر کے لاؤ اور خیال کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن اس حال میں آؤ کہ اپنے کندھے پر بلبلاتا ہوا اونٹ اٹھا رکھا ہو۔ یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ ذمہ داری مجھ سے ہٹا لیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اس ذمہ داری کو ختم کر دیا۔
حدیث نمبر: 3501
عَنْ سِمَاكِ (بْنِ حَرْبٍ) قَالَ: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الصَّدَقَةَ فَقَالَ: ((لَا يَجِيءَنَّ أَحَدُكُمْ بِشَاةٍ لَهَا يُعَارٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ہلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حالت میں نہ آئے کہ ممیاتی ہوئی بکری بھی اس کے ساتھ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خیانت کتنا بڑا جرم ہے، اس بارے میں خلاصہ یہ ہے کسی سرکارییا غیر سرکاری ملازمت کے تعین کے وقت جو شروط و قیود طے ہو جائیں، ان کا پاس و لحاظ کرنا انتہائی ضروری ہے، نیز درج ذیل حدیث سے معلوم ہوا کہ جو بطورِ عامل اور ساعی صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لیے جاتے ہیں، اس سفر میں جو چیز ان کو بطورِ تحفہ دی جائے گی، وہ بھی ان کے لیے جائز نہیں ہوگی: سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازد قبیلہ کے ابن لتبیہ نامی ایک آدمی کو زکوۃ کی وصولی کا عامل بنایا، جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا: یہ مال تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیاگیا ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ((مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُہٗفَیَجِیْئُ فَیَقُوْلُ: ھٰذَا لَکُمْ وَھٰذَا اُھْدِیَ لِیْ، ھَلَّا جَلَسَ فِیْ بَیْتِ اُمِّہٖاَوْاَبِیْہِ فَیَنْظُرَ اَیُھْدٰی لَہٗاَمْلَا،لَایَأْتِیْ اَحَدٌ مِنْکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ ذَالِکَ اِلَّا جَائَ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِنْ کَانَ بَعِیْرًا فَلَہٗرُغُائٌاَوْبَقَرَۃٌ فَلَھَا خُوَارٌ اَوْ شَاۃٌ تَیْعَرُ۔))
’’اس عامل کو کیا ہو گیا ہے، جس کو ہم بھیجتے ہیں، لیکن جب وہ واپس آتا ہے تو کہتا ہے: یہ چیز تو تمہاری ہے اور یہ چیز مجھے بطورِ تحفہ دی گئی۔ ذرا وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر میں بیٹھے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو تحفہ ملتا ہے یا نہیں، جو آدمی اس میں سے جو چیز بھی لے گا، وہ قیامت کے روزہ اس کو اپنے ساتھ لائے گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلا رہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو وہ ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔‘‘
’’اس عامل کو کیا ہو گیا ہے، جس کو ہم بھیجتے ہیں، لیکن جب وہ واپس آتا ہے تو کہتا ہے: یہ چیز تو تمہاری ہے اور یہ چیز مجھے بطورِ تحفہ دی گئی۔ ذرا وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر میں بیٹھے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو تحفہ ملتا ہے یا نہیں، جو آدمی اس میں سے جو چیز بھی لے گا، وہ قیامت کے روزہ اس کو اپنے ساتھ لائے گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلا رہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو وہ ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔‘‘