کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 3480
عَنْ أَبِي الْحَوْرَائِ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلْتُهَا فِي فِيِّ، قَالَ: فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا، فَجَعَلَهَا فِي التَّمْرِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ؟ قَالَ: ((وَإِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ))، قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: ((دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طَمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ))، قَالَ: وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ: ((اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ))، قَالَ شُعْبَةُ وَأَظُنُّهُ قَدْ قَالَ هَذِهِ أَيْضًا: ((تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: میں نے سیدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کونسی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دفعہ صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈالی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ لعاب سمیت میرے منہ سے کھنیچ کر نکالی اور کھجور کے ڈھیر میں واپس ڈال دی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کا ایک کھجور لے لینا، اس سے آپ کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمدہیں اور ہمارے لئے زکوۃ حلال نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے: شک والی بات کو چھوڑ کر ایسی صورت کو اختیار کرو جو شک و شبہ سے پاک ہو، سچائی میں سکون ہے اورجھوٹ میں قلق اور اضطراب ہے، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس دعا کی تعلیم بھی دیتے تھے: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، … تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ یعنی: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمار ے ربّ! تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3480
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرج الترمذي منه لفظ: ((دع ما يريبك وان الكذب ريبة))، وأخرجه بتمامه عبد الرزاق: 4984، والطبراني: 2711 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1727»
حدیث نمبر: 3481
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ شَيْبَانَ أَنَّهُ قَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَدْخَلَنِي غُرْفَةَ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتُ مِنْهَا تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فَمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلْقِهَا فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ وَلَا لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ربیعہ بن شیبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص چیزیاد ہے؟ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے زکوۃ والے سٹور میں لے گئے، میں نے وہاں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دو، یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت کے کسی فرد کے لئے حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3481
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 214، وابن خزيمة: 2349، والطحاوي: 2/ 7، وھو نفس الحديث المتقدم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1724»
حدیث نمبر: 3482
عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسُئِلَ: مَا عَقَلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى جَرِينٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فَمِي فَأَخَذَهَا بِلُعَابِي، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: وَمَا عَلَيْكَ لَوْ تَرَكْتَهَا، قَالَ: ((إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ))، قَالَ: وَعَقَلْتُ مِنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: ہم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، کسی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر اس کھلیان سے ہوا، جہاں زکوۃ کی کھجوریں پڑی تھیں، میں نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعاب سمیت اس کو نکال دیا۔ کسی نے کہا: اگر آپ یہ کھجور اس بچے کے پاس ہی رہنے دیتے تو اس سے آپ کو کیا ہو جاتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیےیہ زکوۃ حلال نہیں ہے۔ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانچ نمازیں بھی سیکھی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3482
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني: 2714، وھو نفس الحديثين المتقدمين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1725»
حدیث نمبر: 3483
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ يَقْسِمُ تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حِجْرِهِ فَلَمَّا فَرَغَ حَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَاتِقِهِ، فَسَالَ لُعَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَإِذَا تَمْرَةٌ فِي فِيهِ، فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کام سے فارغ ہوئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو کندھے پر اٹھا لیا اوران کا لعاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہنے لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے منہ میں داخل کرکے اس کو نکال دیا اور فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زکوٰۃ حلال نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3483
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1485، ومسلم: 1069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7744»
حدیث نمبر: 3484
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَلَكَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((كِخْ، كِخْ، ثَلَاثًا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھائی اور اس کو اپنے منہ میں چبایا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اوہ، اوہ، اوہ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3484
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10176»
حدیث نمبر: 3485
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ نَائِمًا فَوَجَدَ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِهِ فَأَخَذَهَا فَأَكَلَهَا، ثُمَّ جَعَلَ يَتَضَوَّرُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَفَزِعَ لِذَلِكَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ، فَقَالَ: ((إِنِّي وَجَدْتُّ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِي فَأَكَلْتُهَا فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اٹھا کر کھا لیا، لیکن بعد ازاں رات کے آخری پہر کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشانی کی وجہ سے الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیویاں بھی گھبرا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی اور میں نے اسے کھا لیا، اب مجھے اندیشہ یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ صدقہ کی کھجور ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3485
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6720»
حدیث نمبر: 3486
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ) فَأَكَلَهَا فَلَمْ يَنَمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرِقْتَ الْبَارِحَةَ، قَالَ: ((إِنِّي وَجَدْتُّ تَحْتَ جَنْبِي تَمْرَةً فَأَكَلْتُهَا وَكَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجور تو کھا لی، مگر ساری رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند نہیں آئی،کسی اہلیہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ تھی کہ گزشتہ رات آپ پر بے خوابی طاری رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی تھی، میں نے وہ کھا لی، ہمارے ہاں صدقہ کی کھجوریں بھی پڑی تھیں، اب مجھے اندیشہ یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کھجور ان صدقہ والی کھجوروں میں سے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو شبہ ہوا تھا، یہ محض شبہ نہیں تھا، بلکہ اس کے مختلف قرائن ہوں گے، ممکن ہے کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں صدقے کی کھجوریں لائی گئی ہوں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو تقسیم کر دیں، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شبہ ہو گیا ہو، بہرحال ایسی صورتحال میں شبہ میں پڑ جانے کی گنجائش موجود ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب سمجھنے والوں کو اس جگہ غور کرنا چاہیے، اگر آپ غیب جانتے تھے اور کھجور واقعۃ صدقے کی تھی تو یہ کھائی کیوں اور اگر صدقے کی نہیں تھی تو ساری رات بے خوابی اور بے قراری میں کیوں گزاری؟ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3486
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6820»
حدیث نمبر: 3487
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ قَالَ: ((كُلُوا)) وَلَمْ يَأْكُلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھانا گھر والوں کے علاوہ کہیں اور سے لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے، اگر وہ تحفہ ہوتا تو کھا لیتے اور اگر وہ صدقہ ہوتا تو فرماتے: تم کھا لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نہیں کھاتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3487
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2576، ومسلم: 1077 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8001»
حدیث نمبر: 3488
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3488
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 656 (20054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20313»
حدیث نمبر: 3489
عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَا: وَاللَّهِ! لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ، فَقَالَا لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ، فَبَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا ذَا تُرِيدَانِ؟ فَأَخْبَرَاهُ بِالَّذِي أَرَادَا، قَالَ: فَلَا تَفْعَلَا فَوَاللَّهِ! مَا هُوَ بِفَاعِلٍ، فَقَالَا: لَمْ تَصْنَعْ هَذَا؟ فَمَا هَذَا مِنْكَ إِلَّا نَفَاسَةً عَلَيْنَا لَقَدْ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنِلْتَ صِهْرَهُ فَمَا نَفِسْنَا ذَلِكَ عَلَيْكَ، قَالَ: فَقَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ، أَرْسِلُوهُمَا ثُمَّ اضْطَجَعَ قَالَ: صَلَّى الظُّهْرَ (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) سَبَقْنَاهُ إِلَى الْحُجْرَةِ فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى مَرَّ بِنَا فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا، ثُمَّ قَالَ: أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ، وَدَخَلَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ وَهُوَ حِينَئِذٍ فِي بَيْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَكَلَّمْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! جِئْنَاكَ لِتُوَؤَمِّرَنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُصِيبَ مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ وَنُؤَدِّي إِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي النَّاسُ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ، فَأَشَارَتْ إِلَيْنَا زَيْنَبُ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِهَا، كَأَنَّهَا تَنْهَانَا عَنْ كَلَامِهِ، وَأَقْبَلَ فَقَالَ: ((أَلَا إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، ادْعُوا لِي مَحْمِيَّةَ بْنَ جَزْءٍ))، وَكَانَ عَلَى الْعُشْرِ، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ فَأَتَيَا فَقَالَ لِمَحْمِيَّةَ: ((أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ جمع ہوئے اور انہوں نے میرے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق مشورہ کیا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کو صدقات کی وصولی پر مامور فرمائیں، اس طرح یہ دونوں لوگوں سے زکوٰۃ و صدقات وصول کرکے لائیں اور دوسروں کی طرح مالی منفعت یعنی اجرت حاصل کر سکیں،یہ بہتر چیز ہے، ابھی تک وہ دونوں یہ مشورہ ہی کر رہے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے پوچھا: تمہارے کیا ارادے ہیں؟ جب ان دونوں نے ان کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا: آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں؟ آپ یہ بات محض حسد کی بنا پر کر رہے ہیں، دیکھیں کہ آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہتے ہیں اور آپ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد بھی ہیں، لیکن ہم نے تو کبھی بھی آپ پر حسد نہیں کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی آخر ابو حسن ہوں، تم ان دونوں کو بھیج کر دیکھ لو، یہ کہہ کر وہ لیٹ گئے۔ عبد المطلب کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل ہی حجرہ کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ہاتھ تھام لئے اور فرمایا: تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اس کا اظہار کر دو، اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے گئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اندر چلے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے ہاں مقیم تھے،ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی اور عرض کیا: اللہ کے رسول۱ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے ہیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں زکوٰۃ و صدقات کی وصولی پر مامور فر ما دیں، اس طرح ہم بھی دوسروں کی طرح مالی منفعت حاصل کر سکیں گے، ہم بھی دوسروں کی طرح وصولیاں کرکے لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیں گے۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک کمرے کی چھت کی طرف اٹھایا، ہم نے کچھ کہنے کا ارادہ تو کیا لیکن سیدہ زینب رضی اللہ عنہ نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کرکے ہمیں بولنے سے روک دیا،کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: خبردار! محمد اور آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محمیہ بن جز کو بلا ؤ۔ جو کہ عشر پر مامور تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خُمُس (پانچواں حصے) میں سے ان دونوں کے مہر ادا کردو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3489
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17660»
حدیث نمبر: 3490
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ هُوَ وَالْفَضْلُ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُزَوِّجَهُمَا وَيَسْتَعْمِلَهُمَا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيُصِيبَانِ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَحْمِيَّةَ الزُّبَيْدِيِّ: ((زَوِّجِ الْفَضْلَ))، وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: ((زَوِّجْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ))، وَقَالَ لِمَحْمِيَّةَ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى الْأَخْمَاسِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْدِقُ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ شَيْئًا، لَمْ يُسَمِّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی شادیاں کرا دیں اور انہیں صدقات کی وصولی پر مامور کر دیں تاکہ وہ اس طرح کچھ مالی منفعت حاصل کر سکیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ صدقات تو لوگوں کی میل کچیل ہوتے ہیں اور یہ محمد اور آلِ محمد لئے حلال نہیں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا محمیہ زبیدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: فضل کی شادی کرا دو۔ اور سیدنا نوفل بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم عبد المطلب بن ربیعہ کی شادی کرا دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمیہ زبیدی کو خُمُس کی وصولی پر مامور کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ان دونوں کا مہر خُمُس میں سے ادا کر دو۔ عبد اللہ بن حارث نے اس کی مقدار کا تعین نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3490
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17659»
حدیث نمبر: 3491
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: أَتَيْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَرَدَّتْهَا وَقَالَتْ: حَدَّثَنِي مَوْلَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ مِهْرَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کی خدمت میں صدقہ کی ایک چیز لے کر حاضر ہوا، لیکن انہوں نے وہ چیز واپس کر دی اور کہا: مولائے نبی سیدنامہران نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، نیز قوم کا غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3491
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بالشواھد۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 315، وعبد الرزاق: 6942 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15799»
حدیث نمبر: 3492
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) أَنَّهَا قَالَتْ: أَخْبَرَنِي مِهْرَانُ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: ((يَا مَيْمُونُ أَوْ يَا مِهْرَانُ! إِنَّا أَهْلَ بَيْتٍ نُهِينَا عَنِ الصَّدَقَةِ، وَإِنَّ مَوَالِينَا مِنْ أَنْفُسِنَا وَلَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) انھوں نے مجھے کہا: مجھے مہران نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلاتے ہوئے کہا: میمون! یا مہران! ہم ایسے اہل بیت ہیں کہ ہم کو صدقات سے روکا گیا ہے۔ ہمارے غلام بھی ہم میں سے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کھاتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3492
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16512»
حدیث نمبر: 3493
عَنْ أَبِي رَافِعٍ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ الْأَرْقَمُ الزُّهْرِيُّ، أَوِ ابْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ وَاسْتُعْمِلَ عَلَى الصَّدَقَاتِ قَالَ: فَاسْتَتْبَعَنِي (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: اِصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا) قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ((يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّ الصَّدَقَةَ حَرَامٌ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ارقم زہری یا ابن ابی ارقم کا میرے پاس سے گزر ہوا، وہ صدقات کی وصولی پر مامور تھے۔ انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا ایک اور روایت میں ہے۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے تاکہ میں بھی اس میں سے کچھ حاصل کر سکوں۔ میں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے صدقہ حرام ہے اور قوم کا غلام انہی میں شمار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3493
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1650، والترمذي: 657، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24364»
حدیث نمبر: 3494
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَأَنَا مَمْلُوكٌ فَقُلْتُ: هَذِهِ صَدَقَةٌ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ، أَهْدَيْتُهَا لَكَ أَكْرَمَكَ اللَّهُ بِهَا فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَأَكَلَ مَعَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غلام تھا، ایک دن میں کھانا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا: یہ صدقہ ہے، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو (کھانے کا) حکم دیا، پس انہوں نے کھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود نہ کھایا۔ پھر ایک دن میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت دے، یہ ہدیہ ہے، جو میں آپ کیلئے لے کر آیا ہوں، کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا، پس انہوں نے بھی کھایا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔
وضاحت:
فوائد: … راجح قول کے مطابق آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مراد بنو عبد المطلب اور بنو ہاشم ہیں، اور بنو ہاشم سے مراد سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا عقیل اور سیدنا حارث بن عبد المطلب کی اولاد ہے۔ مذکورہ بالا بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے غلاموں کا بھییہی حکم ہے۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث سے پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کے غلاموں کے لیے بھی صدقہ حلال نہیں ہے، حنفی مذہب میں بھییہی قول معروف ہے، البتہ ابن ملک کا قول اس کے مخالف ہے، لیکن علامہ ملا علی قاری نے (مرقاۃ المفاتیح: ۲/ ۴۴۸۔ ۴۴۹) میں اس پر ردّ کیاہے، اس کامطالعہ کر لینا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۱۳) آج بھی جن لوگوں کا نسب ان مذکورہ بالا ہستیوں سے ملتا ہے، ان کو اس معاملے انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3494
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 8، والطبراني: 6066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24123»