صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ مَا قِيلَ فِي لِوَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ ، فَقَالَ : أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا فِي صَبَاحِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ ، أَوْ قَالَ : لَيَأْخُذَنَّ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، أَوْ قَالَ : يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ ، فَقَالُوا : هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` غزوہ خیبر کے موقع پر علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے ۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی ۔ پھر انہوں نے کہا کہ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں گا ؟ چنانچہ وہ نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے ۔ اس رات کی شام کو جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسلامی پرچم اس شخص کو دوں گا یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) کل اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں ہو گا جسے اللہ اور اس کے رسول اپنا محبوب رکھتے ہیں ۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ۔ اور اللہ اس شخص کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا ۔ پھر علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ۔ حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں کوئی امید نہ تھی ۔ ( کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے ) لوگوں نے کہا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں کو دیا ۔ اور اللہ نے انہیں کے ہاتھ پر فتح فرمائی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس سے بھی علم نبوی کا اثبات ہوا۔
اور اسی وجہ سے حضرت امام بخاری ؒ اس واقعہ کو یہاں لائے۔
1۔
اس حدیث سے حضرت علی ؓ کی فضیلت ثابت ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کے ایک معجزے کا پتہ چلا آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کل حضرت علی ؓ کے ہاتھوں خیبر فتح ہو گا۔
‘‘ چنانچہ ایسا ہی اس موقع پر فتح کا جھنڈا حضرت علی ؓ کے ہاتھوں لہرایا گیا۔
2۔
اس حدیث سے علم نبوی کا اثبات ہوا۔
اسی مقصد کے لیے امام بخاری ؒ نے مذکورہ حدیث بیان کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے کئی جھنڈےتھے اوقات میں کام آتے تھے۔