باب: جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں۔
حدیث 2782–2785
باب: سب لوگوں میں افضل وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔
حدیث 2786–2787
باب: جہاد اور شہادت کے لیے مرد اور عورت دونوں کا دعا کرنا۔
حدیث 2788–2789
باب: مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات کا بیان۔
حدیث 2790–2791
باب: اللہ کے راستے میں صبح و شام چلنے کی اور جنت میں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت۔
حدیث 2792–2794
باب: بڑی آنکھ والی حوروں کا بیان، ان کی صفات جن کو دیکھ کر آنکھ حیران ہو گی۔
حدیث 2795–2796
باب: شہادت کی آرزو کرنا۔
حدیث 2797–2798
باب: اگر کوئی شخص جہاد میں سواری سے گر کر مر جائے تو اس کا شمار بھی مجاہدین میں ہو گا، اس کی فضیلت۔
حدیث 2799–2800
باب: جس کو اللہ کی راہ میں تکلیف پہنچے (یعنی اس کے کسی عضو کو صدمہ ہو)۔
حدیث 2801–2802
باب: جو اللہ کے راستے میں زخمی ہوا؟ اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 2803–2803
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ ”اے پیغمبر! ان کافروں سے کہہ دو تم ہمارے لیے کیا انتظار کرتے ہو، ہمارے لیے تو دونوں میں سے (شہادت یا فتح) کوئی بھی ہو اچھا ہی ہے اور لڑائی ڈول ہے کبھی ادھر کبھی ادھر“۔
حدیث 2804–2804
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”مومنوں میں کچھ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو سچ کر دکھایا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا، پس ان میں کچھ تو ایسے ہیں جو (اللہ کے راستے میں شہید ہو کر) اپنا عہد پورا کر چکے اور کچھ ایسے ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور اپنے عہد سے وہ پھرے نہیں ہیں“۔
حدیث 2805–2807
باب: جنگ سے پہلے کوئی نیک عمل کرنا۔
حدیث 2808–2808
باب: کسی کو اچانک نامعلوم تیر لگا اور اس تیر نے اسے مار دیا، اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 2809–2809
باب: جس شخص نے اس ارادہ سے جنگ کی کہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلمہ بلند رہے، اس کی فضیلت۔
حدیث 2810–2810
باب: جس کے قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوئے اس کا ثواب۔
حدیث 2811–2811
باب: اللہ کے راستے میں جن لوگوں پر گرد پڑی ہو ان کی گرد پونچھنا۔
حدیث 2812–2812
باب: جنگ اور گرد غبار کے بعد غسل کرنا۔
حدیث 2813–2813
باب: ان شہیدوں کی فضیلت جن کے بارے میں ان آیات کا نزول ہوا ”وہ لوگ جو اللہ کے راستے میں قتل کر دئیے گئے انہیں ہرگز مردہ مت خیال کرو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں (وہ جنت میں) رزق پاتے رہتے ہیں، ان (نعمتوں) سے بےحد خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہیں اور جو لوگ ان کے بعد والوں میں سے ابھی ان سے نہیں جا ملے ان کی خوشیاں منا رہے ہیں کہ وہ بھی (شہید ہوتے ہی) بے ڈر اور بے غم ہو جائیں گے۔ وہ لوگ خوش ہو رہے ہیں اللہ کے انعام اور فضل پر اور اس پر کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا“۔
حدیث 2814–2815
باب: شہیدوں پر فرشتوں کا سایہ کرنا۔
حدیث 2816–2816
باب: شہید کا دوبارہ دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا۔
حدیث 2817–2817
باب: جنت کا تلواروں کی چمک کے نیچے ہونا۔
حدیث 2818–2818
باب: جو جہاد کرنے کے لیے اللہ سے اولاد مانگے اس کی فضیلت۔
حدیث 2819–2819
باب: جنگ کے موقع پر بہادری اور بزدلی کا بیان۔
حدیث 2820–2821
باب: بزدلی سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
حدیث 2822–2823
باب: جو شخص اپنی لڑائی کے کارنامے بیان کرے، اس کا بیان۔
حدیث 2824–2824
باب: جہاد کے لیے نکل کھڑا ہونا واجب ہے اور جہاد کی نیت رکھنے کا واجب ہونا۔
حدیث 2825–2825
باب: کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے، اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 2826–2827
باب: جہاد کو (نفلی روزوں پر) مقدم رکھنا۔
حدیث 2828–2828
باب: اللہ کی راہ میں مارے جانے کے سوا شہادت کی اور بھی سات قسمیں ہیں۔
حدیث 2829–2830
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) یہ فرمانا کہ ”مسلمانوں میں جو لوگ معذور نہیں ہیں اور جہاد سے بیٹھ رہیں وہ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے، اللہ نے ان لوگوں کو جو اپنے مال اور جان سے جہاد کریں، بیٹھے رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ کا اچھا وعدہ سب کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر بہت بڑی فضیلت دی ہے۔“ اللہ کے فرمان «غفوراً رحيما» تک۔
حدیث 2831–2832
باب: کافروں سے لڑتے وقت صبر کرنا۔
حدیث 2833–2833
باب: مسلمانوں کو (محارب) کافروں سے لڑنے کی رغبت دلانا۔
حدیث 2834–2834
باب: خندق کھودنے کا بیان۔
حدیث 2835–2837
باب: جو شخص کسی معقول عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو سکا۔
حدیث 2838–2839
باب: جہاد میں روزے رکھنے کی فضیلت۔
حدیث 2840–2840
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 2841–2842
باب: جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے، اس کی فضیلت۔
حدیث 2843–2844
باب: جنگ کے موقع پر خوشبو ملنا۔
حدیث 2845–2845
باب: دشمنوں کی خبر لانے والے دستہ کی فضیلت۔
حدیث 2846–2846
باب: کیا جاسوسی کے لیے کسی ایک شخص کو بھیجا جا سکتا ہے؟
حدیث 2847–2847
باب: دو آدمیوں کا مل کر سفر کرنا۔
حدیث 2848–2848
باب: قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے۔
حدیث 2849–2851
باب: مسلمانوں کا امیر عادل ہو یا ظالم اس کی قیادت میں جہاد ہمیشہ ہوتا رہے گا۔
حدیث 2852–2852
باب: جو شخص جہاد کی نیت سے (گھوڑا پالے) اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ومن رباط الخيل» کی تعمیل میں۔
حدیث 2853–2853
باب: گھوڑوں اور گدھوں کا نام رکھنا۔
حدیث 2854–2857
باب: اس بیان میں کہ بعض گھوڑے منحوس ہوتے ہیں۔
حدیث 2858–2859
باب: گھوڑے کے رکھنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں۔
حدیث 2860–2860
باب: جہاد میں دوسرے کے جانور کو مارنا۔
حدیث 2861–2861
باب: سخت سرکش جانور اور نر گھوڑے کی سواری کرنا۔
حدیث 2862–2862
باب: (غنیمت کے مال سے) گھوڑے کا حصہ کیا ملے گا۔
حدیث 2863–2864
باب: اگر کوئی لڑائی میں دوسرے کے جانور کو کھینچ کر چلائے۔
حدیث 2864–2864
باب: جانور پر رکاب یا غرز لگانا۔
حدیث 2865–2865
باب: گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہونا۔
حدیث 2866–2866
باب: سست رفتار گھوڑے پر سوار ہونا۔
حدیث 2867–2867
باب: گھوڑ دوڑ کا بیان۔
حدیث 2868–2868
باب: گھوڑ دوڑ کے لیے گھوڑوں کو تیار کرنا۔
حدیث 2869–2869
باب: تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ کی حد کہاں تک ہو۔
حدیث 2870–2870
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا بیان۔
حدیث 2871–2872
باب: گدھے پر بیٹھ کر جنگ کرنا۔
حدیث 2873–2873
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کا بیان۔
حدیث 2873–2874
باب: عورتوں کا جہاد کیا ہے۔
حدیث 2875–2876
باب: دریا میں سوار ہو کر عورت کا جہاد کرنا۔
حدیث 2877–2878
باب: آدمی جہاد میں اپنی ایک بیوی کو لے جائے ایک کو نہ لے جائے (یہ درست ہے)۔
حدیث 2879–2879
باب: عورتوں کا جنگ کرنا اور مردوں کے ساتھ لڑائی میں شرکت کرنا۔
حدیث 2880–2880
باب: جہاد میں عورتوں کا مردوں کے پاس مشکیزہ اٹھا کر لے جانا۔
حدیث 2881–2881
باب: جہاد میں عورتیں زخمیوں کی مرہم پٹی کر سکتی ہیں۔
حدیث 2882–2882
باب: زخمیوں اور شہیدوں کو عورتیں لے کر جا سکتی ہیں۔
حدیث 2883–2883
باب: (مجاہدین کے) جسم سے تیر کا کھینچ کر نکالنا۔
حدیث 2884–2884
باب: اللہ کے راستے میں جہاد میں پہرہ دینا کیسا ہے؟
حدیث 2885–2887
باب: جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 2888–2890
باب: اس شخص کی فضیلت جس نے سفر میں اپنے ساتھی کا سامان اٹھا دیا۔
حدیث 2891–2891
باب: اللہ کے راستے میں سرحد پر ایک دن پہرہ دینا کتنا بڑا ثواب ہے۔
حدیث 2892–2892
باب: اگر کسی بچے کو خدمت کے لیے جہاد میں ساتھ لے جائے۔
حدیث 2893–2893
باب: جہاد کے لیے سمندر میں سفر کرنا۔
حدیث 2894–2895
باب: لڑائی میں کمزور ناتواں (جیسے عورتیں، بچے، اندھے، معذور اور مساکین) اور نیک لوگوں سے مدد چاہنا۔
حدیث 2896–2897
باب: قطعی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہید ہے۔
حدیث 2898–2898
باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں۔
حدیث 2899–2900
باب: برچھے سے (مشق کرنے کے لیے) کھیلنا۔
حدیث 2901–2901
باب: ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان۔
حدیث 2902–2905
باب: ڈھال کے بیان میں۔
حدیث 2906–2907
باب: تلواروں کی حمائل اور تلوار کا گلے میں لٹکانا۔
حدیث 2908–2908
باب: تلوار کی آرائش کرنا۔
حدیث 2909–2909
باب: جس نے سفر میں دوپہر کے آرام کے وقت اپنی تلوار درخت سے لٹکائی۔
حدیث 2910–2910
باب: خود پہننا (لوہے کا ٹوپ جس سے میدان جنگ میں سر کا بچاؤ کیا جاتا تھا)۔
حدیث 2911–2911
باب: کسی کی موت پر اس کے ہتھیار وغیرہ توڑنے درست نہیں۔
حدیث 2912–2912
باب: دوپہر کے وقت درختوں کا سایہ حاصل کرنے کے لیے فوجی لوگ امام سے جدا ہو کر (متفرق درختوں کے سائے تلے) پھیل سکتے ہیں۔
حدیث 2913–2913
باب: بھالوں (نیزوں) کا بیان۔
حدیث 2914–2914
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا۔
حدیث 2915–2917
باب: سفر میں اور لڑائی میں چغہ پہننے کا بیان۔
حدیث 2918–2918
باب: لڑائی میں حریر یعنی خالص ریشمی کپڑا پہننا۔
حدیث 2919–2922
باب: چھری کا استعمال کرنا درست ہے۔
حدیث 2923–2923
باب: نصاریٰ سے لڑنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 2924–2924
باب: یہودیوں سے لڑائی ہونے کا بیان۔
حدیث 2925–2926
باب: ترکوں سے جنگ کا میدان۔
حدیث 2927–2928
باب: ان لوگوں سے لڑائی کا بیان جو بالوں کی جوتیاں پہنتے ہوں گے۔
حدیث 2929–2929
باب: ہار جانے کے بعد امام کا سواری سے اترنا اور بچے کھچے لوگوں کی صف باندھ کر اللہ سے مدد مانگنا۔
حدیث 2930–2930
باب: مشرکین کے لیے شکست اور زلزلے کی بددعا کرنا۔
حدیث 2931–2935
باب: مسلمان اہل کتاب کو دین کی بات بتلائے یا ان کو قرآن سکھائے؟
حدیث 2936–2936
باب: مشرکین کا دل ملانے کے لیے ان کی ہدایت کی دعا کرنا۔
حدیث 2937–2937
باب: یہود اور نصاریٰ کو کیوں کر دعوت دی جائے اور کس بات پر ان سے لڑائی کی جائے۔
حدیث 2938–2939
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا (غیر مسلموں کو) اسلام کی طرف دعوت دینا اور اس بات کی دعوت کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر باہم ایک دوسرے کو اپنا رب نہ بنائیں۔
حدیث 2940–2946
باب: لڑائی کا مقام چھپانا (دوسرا مقام بیان کرنا) اور جمعرات کے دن سفر کرنا۔
حدیث 2947–2950
باب: ظہر کی نماز کے بعد سفر کرنا۔
حدیث 2951–2951
باب: مہینہ کے آخری دنوں میں سفر کرنا۔
حدیث 2952–2952
باب: رمضان کے مہینے میں سفر کرنا۔
حدیث 2953–2953
باب: سفر شروع کرتے وقت مسافر کو رخصت کرنا۔
حدیث 2954–2954
باب: امام (بادشاہ یا حاکم) کی اطاعت کرنا۔
حدیث 2955–2955
باب: امام (بادشاہ اسلام) کے ساتھ ہو کر لڑنا اور اس کے زیر سایہ اپنا (دشمن کے حملوں سے) بچاؤ کرنا۔
حدیث 2956–2957
باب: لڑائی سے نہ بھاگنے پر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا۔
حدیث 2958–2963
باب: بادشاہ اسلامی کی اطاعت لوگوں پر واجب ہے جہاں تک وہ طاقت رکھیں۔
حدیث 2964–2964
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن ہوتے ہی اگر جنگ نہ شروع کر دیتے تو سورج کے ڈھلنے تک لڑائی ملتوی رکھتے۔
حدیث 2965–2966
باب: اگر کوئی جہاد میں سے لوٹنا چاہے یا جہاد میں نہ جانا چاہے تو امام سے اجازت لے۔
حدیث 2967–2967
باب: نئی نئی شادی ہونے کے باوجود جنہوں نے جہاد کیا۔
حدیث 2968–2968
باب: شب زفاف کے بعد ہی جس نے فوراً جہاد میں شرکت کو پسند کیا۔
باب: خوف اور دہشت کے وقت (حالات معلوم کرنے کے لیے) امام کا آگے بڑھنا۔
باب: خوف کے موقع پر جلدی سے گھوڑے کو ایڑ لگانا۔
حدیث 2969–2969
باب: خوف کے وقت اکیلے نکلنا۔
حدیث 2970–2970
باب: کسی کو اجرت دے کر اپنے طرف سے جہاد کرانا اور اللہ کی راہ میں سواری دینا۔
حدیث 2970–2972
باب: جو شخص مزدوری لے کر جہاد میں شریک ہو۔
حدیث 2973–2973
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان۔
حدیث 2974–2976
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی راہ سے اللہ نے میرا رعب (کافروں کے دلوں میں) ڈال کر میری مدد کی ہے۔
حدیث 2977–2978
باب: سفر جہاد میں توشہ (خرچ وغیرہ) ساتھ رکھنا۔
حدیث 2979–2982
باب: توشہ اپنے کندھوں پر لاد کر خود لے جانا۔
حدیث 2983–2983
باب: عورت کا اپنے بھائی کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار ہونا۔
حدیث 2984–2985
باب: جہاد اور حج کے سفر میں دو آدمیوں کا ایک سواری پر بیٹھنا۔
حدیث 2986–2986
باب: ایک گدھے پر دو آدمیوں کا سوار ہونا۔
حدیث 2987–2988
باب: جو رکاب پکڑ کر کسی کو سواری پر چڑھا دے یا کچھ ایسی ہی مدد کرے اس کا ثواب۔
حدیث 2989–2989
باب: مصحف یعنی لکھا ہوا قرآن شریف لے کر دشمن کے ملک میں جانا منع ہے۔
حدیث 2990–2990
باب: جنگ کے وقت نعرہ تکبیر بلند کرنا۔
حدیث 2991–2991
باب: بہت چلا کر تکبیر کہنا منع ہے۔
حدیث 2992–2992
باب: کسی نشیب کی جگہ میں اترتے وقت سبحان اللہ کہنا۔
حدیث 2993–2993
باب: جب بلندی پر چڑھے تو اللہ اکبر کہنا۔
حدیث 2994–2995
باب: مسافر کو اس عبادت کا جو وہ گھر میں رہ کر کیا کرتا تھا ثواب ملنا (گو وہ سفر میں نہ کر سکے)۔
حدیث 2996–2996
باب: اکیلے سفر کرنا۔
حدیث 2997–2998
باب: سفر میں تیز چلنا۔
حدیث 2999–3001
باب: اگر اللہ کی راہ میں سواری کے لیے گھوڑا دے پھر اس کو بکتا پائے؟
حدیث 3002–3003
باب: ماں باپ کی اجازت لے کر جہاد میں جانا۔
حدیث 3004–3004
باب: اونٹوں کی گردن میں گھنٹی وغیرہ جس سے آواز نکلے لٹکانا کیسا ہے؟
حدیث 3005–3005
باب: ایک شخص اپنا نام مجاہدین میں لکھوا دے پھر اس کی عورت حج کو جانے لگے یا اور کوئی عذر پیش آئے تو اس کو اجازت دی جا سکتی ہے (کہ جہاد میں نہ جائے)۔
حدیث 3006–3006
باب: جاسوسی کا بیان۔
حدیث 3007–3007
باب: قیدیوں کو کپڑے پہنانا۔
حدیث 3008–3008
باب: اس شخص کی فضیلت جس کے ہاتھ پر کوئی شخص اسلام لائے۔
حدیث 3009–3009
باب: قیدیوں کو زنجیروں میں باندھنا۔
حدیث 3010–3010
باب: یہود یا نصاریٰ مسلمان ہو جائیں تو ان کے ثواب کا بیان۔
حدیث 3011–3011
باب: اگر (لڑنے والے) کافروں پر رات کو چھاپہ ماریں اور بغیر ارادہ کے عورتیں، بچے بھی زخمی ہو جائیں تو پھر کچھ قباحت نہیں ہے۔
حدیث 3012–3013
باب: جنگ میں بچوں کا قتل کرنا کیسا ہے؟
حدیث 3014–3014
باب: جنگ میں عورتوں کا قتل کرنا کیسا ہے؟
حدیث 3015–3015
باب: اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو عذاب نہ کرنا۔
حدیث 3016–3017
باب: قیدیوں کو مفت احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر۔
حدیث 3018–3018
باب: اگر کوئی مسلمان کافر کی قید میں ہو تو اس کا خون کرنا یا کافروں سے دغا اور فریب کر کے اپنے تئیں چھڑا لینا جائز ہے۔
باب: اگر کوئی مشرک کسی مسلمان کو آگ سے جلا دے تو کیا اسے بھی بدلہ میں جلایا جا سکتا ہے؟
باب:۔۔۔
حدیث 3019–3019
باب: (حربی کافروں کے) گھروں اور باغوں کو جلانا۔
حدیث 3020–3021
باب: (حربی) مشرک سو رہا ہو تو اس کا مار ڈالنا درست ہے۔
حدیث 3022–3023
باب: دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزو نہ کرنا۔
حدیث 3024–3026
باب: لڑائی مکر و فریب کا نام ہے۔
حدیث 3027–3030
باب: جنگ میں جھوٹ بولنا (مصلحت کیلئے) درست ہے۔
حدیث 3031–3031
باب: جنگ میں حربی کافر کو اچانک دھوکے سے مار ڈالنا۔
حدیث 3032–3032
باب: اگر کسی سے فساد یا شرارت کا اندیشہ ہو تو اس سے مکر و فریب کر سکتے ہیں۔
حدیث 3033–3033
باب: جنگ میں شعر پڑھنا اور کھائی کھودتے وقت آواز بلند کرنا۔
حدیث 3034–3034
باب: جو گھوڑے پر اچھی طرح نہ جم سکتا ہو (اس کے لیے دعا کرنا)۔
حدیث 3035–3036
باب: بوریا جلا کر زخم کی دوا کرنا اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور ڈھال میں پانی بھربھر کر لانا۔
حدیث 3037–3037
باب: جنگ میں جھگڑا اور اختلاف کرنا مکروہ ہے اور جو سردار لشکر کی نافرمانی کرے، اس کی سزا کا بیان۔
حدیث 3038–3039
باب: اگر رات کے وقت دشمن کا ڈر پیدا ہو (تو چاہئے کہ حاکم اس کی خبر لے)۔
حدیث 3040–3040
باب: دشمن کو دیکھ کر بلند آواز سے یا صباحاہ پکارنا تاکہ لوگ سن لیں اور مدد کو آئیں۔
حدیث 3041–3041
باب: حملہ کرتے وقت یوں کہنا اچھا لے میں فلاں کا بیٹا ہوں۔
حدیث 3042–3042
باب: اگر کافر لوگ ایک مسلمان کے فیصلے پر راضی ہو کر اپنے قلعے سے اتر آئیں؟
حدیث 3043–3043
باب: قیدی کو قتل کرنا اور کسی کو کھڑا کر کے نشانہ بنانا۔
حدیث 3044–3044
باب: اپنے تئیں قید کرا دینا اور جو شخص قید نہ کرائے اس کا حکم اور قتل کے وقت دو رکعت نماز پڑھنا۔
حدیث 3045–3045
باب: (مسلمان) قیدیوں کو آزاد کرانا۔
حدیث 3046–3047
باب: مشرکین سے فدیہ لینا۔
حدیث 3048–3050
باب: اگر حربی کافر مسلمانوں کے ملک میں بے امان چلا آئے تو اس کا مار ڈالنا درست ہے۔
حدیث 3051–3051
باب: ذمی کافروں کو بچانے کے لیے لڑنا، ان کا غلام لونڈی نہ بنانا۔
حدیث 3052–3052
باب: جو کافر دوسرے ملکوں سے ایلچی بن کر آئیں ان سے اچھا سلوک کرنا۔
حدیث 3053–3053
باب: ذمیوں کی سفارش اور ان سے کیسا معاملہ کیا جائے۔
باب: وفود سے ملاقات کے لیے اپنے آپ کو آراستہ کرنا۔
حدیث 3054–3054
باب: بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے۔
حدیث 3055–3057
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہود سے یوں فرمانا کہ اسلام لاؤ تو (دنیا اور آخرت میں) سلامتی پاؤ گے۔
حدیث 3058–3058
باب: اگر کچھ لوگ جو دارالحرب میں مقیم ہیں اسلام لے آئیں اور وہ مال و جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے مالک ہیں تو وہ ان ہی کی ہو گی۔
حدیث 3058–3059
باب: خلیفہ اسلام کی طرف سے مردم شماری کرانا۔
حدیث 3060–3061
باب: اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے۔
حدیث 3062–3062
باب: جو شخص میدان جنگ میں جبکہ دشمن کا خوف ہو امام کے کسی نئے حکم کے بغیر امیر لشکر بن جائے۔
حدیث 3063–3063
باب: مدد کے لیے فوج روانہ کرنا۔
حدیث 3064–3064
باب: جس نے دشمن پر فتح پائی اور پھر تین دن تک ان کے ملک میں ٹھہرا رہا۔
حدیث 3065–3065
باب: سفر میں اور جہاد میں مال غنیمت کو تقسیم کرنا۔
حدیث 3066–3066
باب: کسی مسلمان کا مال مشرکین لوٹ کر لے جائیں پھر (مسلمانوں کے غلبہ کے بعد) وہ مال اس مسلمان کو مل گیا۔
حدیث 3067–3069
باب: فارسی یا اور کسی بھی عجمی زبان میں بولنا۔
حدیث 3070–3072
باب: مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ چرا لینا۔
حدیث 3073–3073
باب: مال غنیمت میں سے ذرا سی چوری کر لینا۔
حدیث 3074–3074
باب: مال غنیمت کے اونٹ بکریوں کو تقسیم سے پہلے ذبح کرنا مکروہ ہے۔
حدیث 3075–3075
باب: فتح کی خوشخبری دینا۔
حدیث 3076–3076
باب: (فتح اسلام کی) خوشخبری دینے والے کو انعام دینا۔
حدیث 3077–3077
باب: فتح مکہ کے بعد وہاں سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔
حدیث 3077–3080
باب: ذمی یا مسلمان عورتوں کے ضرورت کے وقت بال دیکھنا درست ہے اس طرح ان کا ننگا کرنا بھی جب وہ اللہ کی نافرمانی کریں۔
حدیث 3081–3081
باب: غازیوں کے استقبال کو جانا (جب وہ جہاد سے لوٹ کر آئیں)۔
حدیث 3082–3083
باب: جہاد سے واپس ہوتے ہوئے کیا کہے۔
حدیث 3084–3086
باب: سفر سے واپسی پر نفل نماز (بطور نماز شکر ادا کرنا)۔
حدیث 3087–3088
باب: مسافر جب سفر سے لوٹ کر آئے تو لوگوں کو کھانا کھلائے (دعوت کرے)۔
حدیث 3089–3090
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔