دوندے سے بڑی عمر کے جانور کی قربانی کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

دوندے، چوگے اور چھنگے کی قربانی

خود ساختہ فہم کے پرچار کے داعی شیخوپورہ کے ایک ننھے محقق صاحب لکھتے ہیں: ”دودانتے جانور کے علاوہ چار دانتے، چھ دانتے وغیرہ جانور کی قربانی سنت سے ثابت نہیں ہے، لہٰذا چار دانتے اور چھ دانتے وغیرہ جانور کی قربانی نہیں کرنی چاہیے۔“
(کیا خصی جانور کی قربانی سنت ہے؟ ص 58)
اس ننھے متحقیق خود ساختہ فہم کے پرچار کے داعی کے رد کے لیے درج ذیل دلائل ملاحظہ فرمائیں:
1: خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ثنيا فصاعدا واستسمن
”قربانی کا جانور دوندا یا اس سے بڑی عمر کا ہونا چاہیے اور اسے کھلا پلا کر خوب فربہ (موٹا تازہ) کیجیے۔“
(السنن الکبری للبیہقی: 9/ 373 وسندہ صحیح)
2: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
فى الضحايا والبدن الثني فما فوقها
”قربانی میں دوندا یا اس سے بڑی عمر کا جانور ہونا چاہیے۔“
(موطا امام مالک: 870 وسندہ صحیح)
ان آثار سے معلوم ہوا ”مسنه“ (دوندا) کی جو شرط ہے یہ کم از کم عمر کے لحاظ سے ہے، چوگا، چھگا اور اس سے بھی بڑی عمر کے جانور اپنی باقی شرائط کے ساتھ بالاجماع جائز ہیں۔
3 : امام ابوالحسن ابن القطان الفاسی رحمہ اللہ (المتوفی 628ھ) فرماتے ہیں:
وإجماع أنه يجزئ الثني فما فوقه وأنه لا يكون إلا من الأزواج الثمانية
”اور اس بات پر اجماع ہے کہ دوندا اور اس سے بڑی عمر کے جانوروں کی قربانی جائز ہے اور قربانی انہی آٹھ جوڑوں میں سے کسی کی ہونی چاہیے (جن کا ذکر قرآن میں ہے)۔“
(الاقناع فی مسائل الاجماع: 2/ 855 فقره:1434، مراتب الاجماع لابن حزم ص 153)
4 : امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأجمعوا أن الثني فما فوقه يجزئ منها كلها
”اور اس پر علماء کا اجماع ہے کہ دوندا اور اس سے بڑی عمر کے تمام جانوروں کی قربانی جائز ہے۔“
(الاستذکار: 4/ 250)
5 : ابن بطال ابوالحسن علی بن خلف رحمہ اللہ (المتوفی 449ھ) فرماتے ہیں:
لا يجوز من سائر الأزواج الثمانية من الأنعام إلا الثني فما فوقه فثني البقر إذا كمل له سنتان ودخل فى الثالثة وثني الإبل إذا كمل له خمس سنين ودخل فى السادسة
”(بامر مجبوری بھیڑ کے جذعہ کے سوا) آٹھ جوڑوں میں سے کسی بھی کھیرے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ قربانی میں دوندا یا اس سے بڑی عمر کا جانور ہونا چاہیے۔ بیلوں میں سے دوندا وہ ہے جس کی عمر دو سال مکمل ہو چکی ہو اور تیسرے میں لگا ہو اور اونٹوں میں سے دوندا وہ ہے جس کی عمر پانچ سال مکمل ہو چکی ہو اور چھٹے سال میں ہو۔“
(شرح صحیح البخاری لابن بطال: 6/ 15)