عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: کیا علماء کی غیر مشروط اطاعت کی جا سکتی ہے؟
جواب: علماء کی غیر مشروط اطاعت حرام ہے، جیسا کہ سورہ توبہ میں ہے: [اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ]
انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ ان کو معبودِ واحد کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ وہ معبودِ واحد جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ پاک ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ (التوبة:31)
معلوم ہوا کہ علماء کی غیر مشروط اطاعت ان کی عبادت ہے۔ خصوصاً جب کہ ان کی وجہ سے شرک کو توحید سمجھ کر قبول کیا جا رہا ہو۔ اسی لیے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جنہوں نے حدیثِ رسول ﷺ سنی پھر اس کی سند کی صحت معلوم کی پھر اسے چھوڑ کر سفیان رحمہ اللہ یا کسی دوسرے کے قول کو ترجیح دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [فَلۡیَحۡذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِہٖۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمۡ فِتۡنَۃٌ اَوۡ یُصِیۡبَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ] رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے۔ (النور:63)
امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ فتنہ کیا ہے، فتنہ شرک ہے۔ (کتاب التوحید) کسی کو حلال و حرام کرنے کا حق دینا اس کو الہ بنانا ہے۔ اس لیے باطنی فرقے مشرک ہیں جو اپنے اماموں کو حلال و حرام کرنے کا مطلق حق دیتے ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کا شرک بھی لازم آتا ہے جو کتاب اللہ اور سنتِ رسول کی بجائے اپنے پیروں، درویشوں اور علماء سے زندگی کے مختلف احکام لیتے ہیں اور طریقت کے مختلف سلسلوں (نقشبندی، سہروردی، قادری اور چشتی وغیرہ) سے منسلک ہیں۔ اسی طرح قومی اسمبلی کو یہ حق دینے والے بھی مشرک ہیں کہ وہ سیاسی، معاشی، دیوانی اور بین الاقوامی قانون بنانے میں کتاب و سنت کے پابند نہیں اور ان کی اکثریت جو قانون بنا دے اس کی اطاعت لازم قرار دینے والے اس کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ اللہ کے قانون پر چلنا اللہ کی عبادت ہے اور غیراللہ کے قانون پر چلنا غیراللہ کی عبادت ہے۔
سوال: طاغوت سے کفر کرنے کا کیا مطلب ہے؟
جواب: طاغوت سے کفر کی صورت یہ ہے کہ طاغوت کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھا جائے۔ اس سے بغض و عداوت رکھتے ہوئے اس سے علیحدہ رہا جائے اور ان طواغیت کی اطاعت کرنے والوں کو طاغوت کا اولیاء جانا جائے۔ قول و عمل کے ساتھ طاغوت اور اولیائے طاغوت سے دشمنی کا اعلان کیا جائے۔ فرمایا: [قَدۡ کَانَتۡ لَکُمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ ۚ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِہِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۫ کَفَرۡنَا بِکُمۡ وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃُ وَ الۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗۤ]
تمھارے لیے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور جن جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بے زار ہیں، ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور جب تک تم اللہ اکیلے پر ایمان نہیں لاتے ہم میں اور تم میں ہمیشہ عداوت اور دشمنی رہے گی۔ (الممتحنة:4)
اسلامی شریعت میں مشرکوں سے مخالفت بھی فرض ہے مگر طاغوت سے کفر و براءت اسلام کا فرضِ اولین ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ کسی موحد کی طاغوت کے ساتھ دوستی ہو، کیونکہ تحریکِ اسلامی کی ٹکر طاغوت سے ہونا ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو مصر کی طرف بھیجا تو انھیں فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا کیونکہ وہ طاغوت تھا اور اس کو اللہ کی کبریائی کا درس دینا تھا۔ فرمایا: [اِذۡہَبۡ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی]،[فَقُلۡ ہَلۡ لَّکَ اِلٰۤی اَنۡ تَزَکّٰی]
[فرعون کے پاس جا ، یقینا وہ حد سے بڑھ گیا ہے]،[ پس کہہ کیا تجھے اس بات کی کوئی رغبت ہے کہ تو پاک ہو جائے؟] (النازعات:17، 18)