مروجہ رسوماتِ موت اور قبری بدعات کا قرآن و حدیث کی روشنی میں رد

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

موت کا بیان اور قرآنی فیصلے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:موت ہر ایک کو آئے گی۔ (آل عمران:185) رسول اللہﷺ کے وقت مومن فوت ہوتے رہے اور آپ ﷺ نے خود ان کے فوت ہونے پر جو کچھ کیا ہمیں بھی وہی کچھ کرنا چاہیے، سنت سے ہٹنا بہت خطرناک معاملہ ہے۔

موت پر سوگ قرآن کی روشنی میں:

[وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ]،[ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ]،[ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ۟ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ]

[اور یقینا ہم تمھیں خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دے]،[وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے توکہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں]،[یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے کئی مہربانیاں اور بڑی رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں] [البقرة:155تا157]

ایک اور مقام پر قرآن مجید میں ہے: بے شک جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور عنقریب آگ میں داخل ہوں گے۔ (النساء: 10)

سوگ صحیح احادیث کی روشنی میں:

[1]رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے: (من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد)

جس کسی نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے، وہ مردود ہے (یعنی رد کر دیا جائے گا)۔

[بخاری، (تعلیقاً) کتاب البیوع، باب النجش، و من قال: لا يجوز ذلك البيع]،[مسلم، کتاب الأقضية، باب نقض الأحكام الباطلة و رد محدثات الأمور: 1718/18]

[2] (فمن رغب عن سنتي فليس مني)

جس نے میری سنت کی پیروی سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔

[بخاری، کتاب النكاح، باب الترغيب في النكاح: 5063]،[مسلم، کتاب النكاح، باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه… الخ: 1401]

[3] سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا (صحابیہ) کا ایک بیٹا مر گیا، انھوں نے تیسرے دن زرد خوشبو منگوا کر اپنے بدن پر لگائی اور کہنے لگیں ہم کو خاوند کے سوا اور کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا منع ہے۔ [بخاری، کتاب الجنائز، باب إحداد المرأة على غير زوجها: 1279]

[4] جب شام کے ملک سے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے کی خبر آئی تو ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے دن زرد خوشبو منگوائی اور اپنی گالوں اور بانہوں پر ملی اور فرمانے لگیں (میں تو بیوہ ہوں) مجھے تو خوشبو کی کوئی حاجت نہ تھی، لیکن میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: جو عورت اللہ پر اور یومِ آخرت (قیامت) پر ایمان رکھتی ہے اس کو کسی مردے پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرنا چاہیے، البتہ خاوند پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔ [بخاری، کتاب الجنائز، باب إحداد المرأة على غير زوجها: 1280]

[5] سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جو رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے: جو عورت اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کو کسی مردے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا درست نہیں مگر خاوند پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔پھر میں ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، جب ان کے بھائی فوت گئے تھے تو انھوں نے خوشبو منگوائی اور لگائی، پھر فرمانے لگیں مجھے خوشبو کی کون سی ضرورت ہے، بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے جو عورت اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا درست نہیں مگر خاوند پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔

[بخاری، کتاب الجنائز، باب إحداد المرأة على غير زوجها:1281، 1282]،[مسلم، کتاب الطلاق، باب وجوب الإحداد في عدة الوفاة ….الخ:1486، 1487 .. إلى آخر بابه]

اور مسلم میں سات احادیث اس مضمون کی ہیں۔

[6] جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آلِ جعفر (رضی اللہ عنہم) کے لیے کھانا تیار کرو، اس لیے کہ وہ ایک حادثہ سے دوچار ہوئے ہیں، جس نے انھیں مشغول کر رکھا ہے۔

[ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء في الطعام يصنع لأهل الميت: 998]،[أبو داود، کتاب الجنائز، باب صنعة الطعام لأهل الميت : 3132]،[ابن ماجه، أبواب الجنائز، باب ما جاء في الطعام يبعث إلى أهل الميت: 1610]

سوگ فقہ حنفی کی روشنی میں:

[1] سنت سے قبر کی زیارت اور اس کے پاس کھڑے ہو کر دعا کرنے کے سوا کچھ ثابت نہیں۔ تعزیت تین دن کے بعد مکروہ ہے۔ عجم کے شہروں میں جو فرش بچھاتے ہیں وہ بہت بری بات ہے۔ اہل مصیبت کے لیے کھانا تیار کرنے میں مضائقہ نہیں اور اہل مصیبت کو تیسرے دن ضیافت کرنا جائز نہیں۔ قبر پر کوئی عمارت بنانا مکروہ ہے۔ قبر پر مسجد بنانا مکروہ ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری:263/2تا265)۔ سوگ یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے روزمرہ کے کام چھوڑ کر گھر میں بیٹھ جائے۔

[2] تین دن تک سوگ کرنا جائز ہے، تین دن سے زیادہ حرام ہے۔ (مالابد:80) انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام رحمہم اللہ کی قبروں کو سجدہ کرنا اور ان کے گرد گھومنا اور چکر لگانا (طواف کرنا) اور ان سے مرادیں مانگنا اور ان کے نام کی نذر ماننا حرام ہے، بلکہ ان چیزوں میں سے بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ کفر تک پہنچا دیتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نےان افعال کے کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (مالابد:80، 82)

[3]سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابو التیاج رحمہ اللہ کو بھیجا کہ قبر جو مشرف یعنی بلند ہو برابر کر دے اور جو کوئی صورت ہو اس کو مٹا دیں اور فرمایا: کہ اسی حکم کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا۔ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا کہ قبر پر عمارت بنانا مکروہ ہے، تین دن سے زیادہ سوگ نہیں۔ عجم میں جو لوگ فرش بچھاتے ہیں اور راستوں میں بیٹھتے ہیں تو یہ نہایت قبیح حرکت ہے۔ امام ابوحنیفہ اور اصحاب و سب مشائخ کے نزدیک بالاتفاق کسی کو قدرت نہیں کہ اپنی آواز میت کو سنائے لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہے تو مردہ سنتا ہے۔ میت والوں کا کھانا پکا کر جمع ہونے والوں کو کھلانا مکروہِ تحریمی ہے…… یہ بدعت اس زمانے میں نہایت قبیح ہے۔ (ہدایہ:922تا925)

[4] تیجہ، دسواں، چالیسواں نہایت مذموم اور بدعت ہیں۔ فاتحہ مروجہ بدعت ہے۔ (بہشتی زیور:89/6، 90)

قبروں پر قرآن پڑھنا مکروہ اور بدعت ہے۔ (عالمگیری:81/9 اور ہدایہ:314/4)

 پختہ قبر نہ بنائی جائے۔ (درمختار:468/1، 469، کنز الایمان:69)

عمارت بنانا قبر پر زینت کے لیے حرام ہے۔ (درمختار:469/1)

 اولیاء اللہ کی قبروں پر بلند مکان بنانا اور چراغ جلانا بدعت اور حرام ہے۔ (درمختار، ہدایہ، مالابد)

خلاصہ تحریر:

جن کاموں سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا :ہم نے وہ کام ضرور کیے، حالانکہ ہمارے پاس کوئی دلیل بھی نہیں۔

[1] جو کام اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ سے ثابت نہیں وہ رد کر دیا جائے گا۔

[2] لوگ یتیموں کا مال موت پر کھا جاتے ہیں جس کی قرآن میں سخت وعید ہے۔ مصیبت والوں کے گھر سے کھانا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک حرام ہے۔ (ہدایہ:925/1) اور پھر یتیموں کا مال ناجائز کھانا تو اور بھی بری بات ہے۔

[3] جن کے گھر موت ہو جائے ان کے گھر سے کھانا حرام ہے۔

[4] تین دن سے زیادہ سوگ حرام ہے اور عجم میں جو لوگ فرش بچھاتے ہیں یعنی دریاں وغیرہ بچھا کر زمین پر بیٹھتے ہیں یہ نہایت بری حرکت ہے۔ فاتحہ مروجہ، تیجہ، دسواں، چالیسواں شریعت سے ثابت نہیں۔ سنت سے قبر کی زیارت اور صاحبِ قبر کے لیے دعا کے علاوہ کچھ ثابت نہیں۔اس کے علاوہ جو کچھ بھی قبروں پر کیا جاتا ہے مثلاً پکی قبر بنانا، عرس کرنا، قبر پر پھول چڑھانا، قبر کو غسل دینا، نذر و نیاز اور چڑھاوے چڑھانا، دیگیں تقسیم کرنا، قبر والوں سے فریاد کرنا، قبروں کو چومنا، چراغ جلانا، قبروں سے جسم رگڑنا وغیرہ یہ سب کام خلافِ شرع ہیں۔

[5] پس ثابت ہوا کہ فاتحہ مروجہ، تیجہ، دسواں، چالیسواں کرنے والوں اور قبروں پر خلافِ شرع کام کرنے والوں نے اس سلسلہ میں نہ قرآن کے، نہ حدیث کے اور نہ فقہ کے احکام مانے کیونکہ وہ شتر بے مہار ہو چکے ہیں اور یہ سب کام جو آج کل قبروں پر امتِ محمدیہ کر رہی ہے یہ سب کام مشرکینِ مکہ، عیسائی اور یہودی قبروں کے ساتھ کرتے تھے، جیسا کہ ثابت ہے اور اب یہ لوگ یہود و نصاریٰ اور مشرکینِ مکہ کی پیروی کر رہے ہیں اور مانتے بھی نہیں، جیسے وہ نہیں مانتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میری امت ضرور یہود و نصاریٰ کے نقشِ قدم پر چلے گی۔

احمد رضا خانی ترجمہ مع تفسیر میں فاتحہ، سوم، ساتواں، چالیسواں، عرس اور مردوں اور قبروں کے متعلق اور دوسری بدعات کا بار بار ذکر موجود ہے لیکن حدیث اور حنفی فقہ کے مطابق تین دن سے زیادہ سوگ ثابت نہیں۔ اور حدیث اور حنفی فقہ کے مطابق قبروں کے متعلق زیارتِ قبور اور قبور والوں کے لیے دعا کے علاوہ اور کوئی چیز قطعاً ثابت نہیں اور ان دو کاموں کے علاوہ جو بھی دوسرے کام لوگ کرتے ہیں یہ بلا جواز اور بے سند ہیں۔ اور فاتحہ اور سوم وغیرہ کے وقت یہ لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں۔ قرآن میں یتیموں کا مال ناحق کھانے کی سخت وعید ہے۔ دیکھیے: احمد رضا خاں صاحب کا ترجمہ مع تفسیر سورۃ النساء (10، ف24) جس میں لکھا ہے کہ یتیموں کا مال ناحق کھانا گویا آگ کھانا ہے، کیونکہ وہ سبب ہے عذاب کا۔ حدیثِ شریف میں ہے: روزِ قیامت یتیموں کا مال کھانے والے اس طرح اٹھائے جائیں گے کہ ان کی قبروں سے اور ان کے منہ سے اور ان کے کانوں سے دھواں نکلتا ہو گا تو لوگ پہچانیں گے کہ یہ یتیم کا مال کھانے والا ہے۔

کیا فوت شدگان زندوں کی باتیں سنتے ہیں؟

قرآنِ مجید میں ہے کہ مردے نہیں سنتے:

[اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ] البتہ تو (اے نبی!) مردوں کو نہیں سنا سکتا اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتا ہے، جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹیں۔ [النمل:80]

[فَاِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ] بے شک تو (اے نبی!) مردوں کو نہیں سنا سکتا اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتا ہے، جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹیں۔ [الروم:52]

[وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ]،[وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوۡرُ]،[وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الۡحَرُوۡرُ]،[وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ]

[اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں]،[اور نہ اندھیرے اور نہ روشنی]،[اور نہ سایہ اور نہ لوُ]،[اور نہ زندے برابر ہیں اور نہ مردے۔ بے شک اللہ سنا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تو ہرگز اسے سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہے] [فاطر:19تا22]

(یعنی) جس طرح قبروں میں مردہ اشخاص کو کوئی بات نہیں سنائی جا سکتی اسی طرح جن کے دلوں کو کفر نے موت سے ہمکنار کر دیا ہے اے پیغمبر! تو انھیں حق کی بات نہیں سنا سکتا۔

فوت شدگان کو زندہ لوگوں کے کاموں کی خبر نہیں:

جن فوت شدگان کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں یا عبادت کرتے ہیں وہ ان کی پکار اور عبادت سے بے خبر ہیں:

[وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ]،[اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚوَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙاَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ]

[اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں]،[مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے] [النحل:21،20]

جنھیں یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وہ تو خود اللہ کی مخلوق ہیں۔ پھر بھلا خالق اور مخلوق کس طرح برابر ہو سکتے ہیں۔ جب کہ تم نے انھیں پکار کر اللہ کے برابر ٹھہرا رکھا ہے۔ کیا تم ذرا بھی نہیں سوچتے؟ مردہ سے مراد وہ جمادات (پتھر) بھی ہیں جو بے جان اور بے شعور ہیں اور فوت شدہ صالحین بھی ہیں کیونکہ مرنے کے بعد اٹھایا جانا جس کا انھیں شعور نہیں وہ تو جمادات کے بجائے صالحین ہی پر صادق آ سکتا ہے۔ ان کو صرف مردہ ہی نہیں کہا بلکہ مزید وضاحت فرما دی کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔ اس سے قبر پرستوں کا بھی واضح رد ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ قبروں میں مدفون مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں اور ہم زندوں ہی کو پکارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ موت وارد ہونے کے بعد دنیاوی زندگی کسی کو نصیب نہیں ہو سکتی نہ دنیا سے ان کا کوئی تعلق ہی باقی رہتا ہے۔ پھر ان سے نفع کی اور ثواب و جزا کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔

اور سورۂ فاطرمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ۙوَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ۖکُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ لَہُ الۡمُلۡکُ ؕوَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِیۡرٍ]،[اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡا دُعَآءَکُمۡ ۚوَ لَوۡ سَمِعُوۡا مَا اسۡتَجَابُوۡا لَکُمۡ ؕ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُوۡنَ بِشِرۡکِکُمۡ ؕوَ لَا یُنَبِّئُکَ مِثۡلُ خَبِیۡرٍ]

[وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا، ہر ایک ایک مقرر وقت تک چل رہا ہے۔ یہی اللہ تمھاراپروردگار ہے، اسی کی بادشاہی ہے اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں]،[ اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریںگے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا] [فاطر:14،13]

اللہ تعالیٰ مذکورہ تمام افعال کا فاعل ہے اور اس کے علاوہ جن کو پکار رہے ہو وہ اتنی حقیر چیز کے بھی مالک نہیں نہ اسے پیدا کرنے ہی پر قادر ہیں۔ قطمیر اس جُھلی کو کہتے ہیں جو کھجور اور اس کی گٹھلی کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ پتلا سا چھلکا گٹھلی پر لفافے کی طرح چڑھا ہوا ہوتا ہے۔ آگے فرمایا: اگر تم انھیں مصائب میں پکارو تو وہ تمھاری پکار سنتے ہی نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ جمادات ہیں یا منوں مٹی کے نیچے مدفون اور اگر بالفرض وہ سن بھی لیں تو بے فائدہ۔ اس لیے کہ وہ تمھاری التجاؤں کے مطابق تمھارا کام نہیں کر سکتے اور وہ قیامت کے دن کہیں گے کہ ہمیں تمھارے پکارنے کی خبر نہیں تھی۔ ہم اس پکار سے بالکل بے خبر تھے۔ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے یا انھیں پکارا جاتا ہے وہ سب پتھر کی مورتیاں ہی نہیں ہوں گی بلکہ ان میں عاقل (ملائکہ، جن، شیاطین اور صالحین) بھی ہوں گے، تبھی تو یہ انکار کریں گے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کو حاجت روائی کے لیے پکارنا شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے، لیکن جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ بے اختیار ہیں، وہ پکار نہیں سنتے اور قیامت کے دن اس پکار کا انکار کر دیں گے۔

سورۂ احقاف میں ہے:

[قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَہُمۡ شِرۡکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ؕ اِیۡتُوۡنِیۡ بِکِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ ہٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَۃٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ]،[ وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ]،[ وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ]

[کہہ دے کیا تم نے دیکھا جن چیزوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ انھوں نے زمین میں سے کون سی چیز پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ لاؤ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب، یا علم کی کوئی نقل شدہ بات، اگر تم سچے ہو]،[ اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں]،[ اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے] [الأحقاف:4تا6]

اللہ تعالیٰ نے تو زمین و آسمان پیدا کیے، وہ ان کا مالک ہے جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں اور اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ان کا کوئی حصہ نہیں تو پھر ان کو پکارنا محض باطل ہے اور غیر اللہ کو پکارنے کی ان کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔ اس لیے غیر اللہ کو پکارنا بہت بڑی گمراہی ہے اور پھر یہ بھی کہ پتھر کی یہ مورتیاں یا فوت شدہ اشخاص جن کو یہ پکارتے ہیں وہ قیامت تک ان کا جواب دینے سے قاصر ہیں اور قاصر ہی نہیں بلکہ بے خبر بھی۔ یہی مضمون قرآن کریم میں اور کئی مقامات پر بھی بیان ہوا ہے۔ جیسے: (یونس:29)،(الاحقاف:5، 6)،(مریم:81، 82)،(النحل:86)،(الکہف:52)،( العنکبوت:25)

موت کے بعد دنیا میں آنے کا رد:

[اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ]

کیا یہ نہیں دیکھ چکے کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا، وہ ان کے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ [يس:31]

[وَ حَرٰمٌ عَلٰی قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَاۤ اَنَّہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ] اور جن بستیوں کو ہم فنا کر چکے ہیں، ان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ پھر لوٹ کر آئیں۔ [الأنبياء:95]

(یعنی) جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس کا دنیا میں پلٹ کر آنا حرام ہے۔ قرآن میں ہے کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، اندھیرا اور روشنی برابر نہیں، سایہ اور دھوپ برابر نہیں، زندہ اور مردہ برابر نہیں، اللہ جس کو چاہے سناتا ہے اور تو (اے پیغمبر) قبر والوں کو نہیں سنا سکتا۔ (دیکھیے: فاطر:19، 22)،(ہدایہ: 314) میں ہے کہ مردے نہیں سنتے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب اور سب مشائخ کے نزدیک بالاتفاق کسی کو قدرت نہیں کہ وہ اپنی آواز میت کو سنا سکے، لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہے تو مردہ سنتا ہے۔ (ہدایہ: 922/1تا925)

اس سے پہلے ہم اس کتاب کی بحث توحید فی العلم اور شرک فی العلم میں سترہ مختلف روایات کے ذریعے ثابت کر چکے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو فوت ہونے کے بعد پتا نہیں کہ ان کی امت کیا کر رہی ہے تو پھر اور بزرگوں کا تو ذکر ہی کیا؟

سماعِ موتیٰ کا عقیدہ قرآن کے خلاف ہے۔ مردے کسی کی بات نہیں سن سکتے، البتہ اس سے دو صورتیں مستثنیٰ ہوں گی کہ جہاں سماعت کی صراحت نص سے ثابت ہے۔

[1] حدیث میں آتا ہے کہ لوگ جب مردے کو دفنا کر واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔

[صحیح البخاری:1338]

[2] جنگِ بدر کے مقتولین جن کو رسولِ پاک ﷺ کی آواز معجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ نے سنوا دی۔

[بخاری، کتاب المغازی، باب قتل أبي جهل: 3976]

ان دو احادیث کے علاوہ سماعِ موتیٰ کی جتنی بھی احادیث ہیں وہ انتہائی ضعیف بلکہ موضوع ہیں اور قرآن و صحیح احادیث کے خلاف بھی ہیں۔