سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاتم الاولیا ہیں ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خاتم الاولیا یا خاتم الاوصیا کہنا ثابت نہیں۔
سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
أنا خاتم النبيين ، كذلك على وذريته يختمون الأوصياء إلى يوم القيامة .
”میں خاتم النبیین ہوں، اسی طرح علی رضی اللہ عنہ اور اس کی اولاد قیامت تک کے لئے خاتم الاوصیا ہیں۔“
(الأباطيل والمناكير للجوزقاني : 262، الموضوعات لابن الجوزي : 377/1)
یہ موضوع و مکذوب روایت ہے۔
➊ حسن بن محمد بن یحیی علوی ”کذاب“ ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”متہم“ قرار دیا ہے۔
(میزان الاعتدال : 521/1)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذان دالان على كذبه وعلى رفضه .
”یہ دونوں روایتیں اس کی کذب بیانی اور رافضیت پر دلالت کناں ہیں۔“
(میزان الاعتدال : 521/1)
➋ ابراہیم بن عبد اللہ بن ہمام صنعانی کذاب اور وضاع ہے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كذاب يضع الحديث
”جھوٹا تھا حدیثیں گھڑتا تھا۔“
(الضعفاء والمتروكون : 21)
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اسے ”منکر الحدیث“ کہا ہے۔
(الكامل في ضعفاء الرجال : 273/1)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يروي عن عبد الرزاق المقلوبات الكثيرة التى لا يجوز الاحتجاج لمن يرويها لكثرتها .
”امام عبد الرزاق رحمہ اللہ سے بکثرت ایسی الٹ پلٹ روایتیں بیان کرتا ہے، جن سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے۔“
(كتاب المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين : 118/1)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (الموضوعات : 377/1) نے اسے من گھڑت کہا ہے۔
حافظ سیوطی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
موضوع العلوي منكر الحديث رافضي وإبراهيم متروك .
”یہ من گھڑت ہے، اس میں حسن بن محمد بن یحیی علوی ”منکر الحدیث“ رافضی ہے اور ابراہیم بن عبد اللہ بن ہمام صنعانی ”متروک“ ہے۔“
(اللالي المصنوعة : 329/1)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا :
أنا خاتم الأنبياء، وأنت يا على خاتم الأولياء .
”اے علی رضی اللہ عنہ ! میں خاتم الانبیا ہوں اور آپ خاتم الاولیا ہیں۔“
(تاريخ بغداد للخطيب : 78/12 ، تاریخ ابن عساکر : 254/44)
یہ من گھڑت روایت ہے۔
حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا الحديث موضوع من عمل القصاص ، وضعه عمر بن واصل، أو وضع عليه، والله أعلم .
”یہ حدیث قصہ گو لوگوں کی گھڑنتل ہے۔ اسے عمر بن واصل نے خود گھڑا ہے یا اس پر گھڑی گئی ہے، واللہ اعلم!“
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے (الموضوعات : 398/1) میں ذکر کیا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے مکذوب ”جھوٹی“ کہا ہے۔
(المغني في الضعفاء : 475/2)
◈ عمر بن واصل صوفی کی توثیق ثابت نہیں۔
◈ محمد بن سوار بصری کی توثیق درکار ہے۔
◈ عبید اللہ بن لولو کی توثیق درکار ہے۔
◈ حسن بصری رحمہ اللہ کثیر التدلیس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :
أنت خاتم الأولياء كما أنا خاتم النبيين .
”آپ خاتم الاولیا ہیں، جیسے میں خاتم النبین ہوں۔“
یہ جھوٹ ہے، اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ یہ ہمارے دور کی گھڑنتل ہے۔