صحیح بخاری، احادیث کی تعداد اور امام بخاری کا منہجِ انتخاب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

عقائد اہل السنۃ والجماعۃ

سوال: امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں صرف 7275 احادیث کیوں شامل کیں؟

جواب: پہلے تو چھ لاکھ احادیث کی حقیقت سمجھیں۔ محدثین کی اصطلاح میں ہر سند کو حدیث شمار کیا جاتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے ایک بات فرمائی جو پانچ صحابہ نے سنی۔ ہر صحابی نے اپنے پانچ پانچ شاگردوں کو وہ بات سنائی۔ اس طرح تابعین تک اس کی پچیس اسناد بن گئیں۔ اب اگر ہر تابعی اپنے دس دس شاگردوں کو روایت بیان کرے تو اس طرح اس حدیث کی دوسو پچاس اسناد بن جائیں۔ محدثین کی اصطلاح میں یہ دوسو پچاس احادیث کہلاتی ہیں۔ اس لیے امام بخاری فرماتے ہیں: مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث یاد ہیں۔ (مقدمہ ابن الصلاح، النوع الاول، معرفۃ الصحیح ص:10)

اس کا مطلب ہے ایک لاکھ صحیح اسناد یاد ہیں۔ ان ایک لاکھ میں سے7275 اسناد صحیح بخاری میں درج کر لیں، یہ بھی درست ہے کہ بعض راویوں نے دین اسلام میں گمراہ کن عقائد داخل کرنے کے لیے حدیث کا سہارا لیا۔ اسی لیے ضعیف اور من گھڑت روایات کی کثرت ہے، مگر محدثین نے ایسے اصول مقرر کیے کہ کوئی من گھڑت روایت حدیثِ صحیح کا درجہ نہ پا سکی۔ امام بخاری اور امام مسلم نے صرف صحیح احادیث جمع کر کے دین پر چلنے والوں کے لیے مزید آسانی کر دی۔

سوال: کیا صحیح بخاری قرآن حکیم کی طرح لاریب کتاب ہے؟

جواب: یقیناً بخاری اور دیگر کتب احادیث میں موجود احادیثِ صحیحہ کا وہ حصہ جو شرعی احکام پر مشتمل ہے، منزل من اللہ ہے، جس پر قرونِ اولیٰ کے مسلمان جمع ہیں اور جسے امت سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔ مگر صحیح بخاری میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ابواب قائم کیے۔ ابواب میں مختلف ائمہ کے اقوال درج کیے پھر اسنادِ احادیث کا آدھا حصہ ہیں، جو منزل من اللہ نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال اور واقعات بھی کتبِ احادیث میں موجود ہیں، آپ ﷺ کے تاریخی واقعات، ہجرت اور غزوات کے بعض واقعات بھی منزل من اللہ نہیں، ہاں احادیث کا ایک حصہ ایسا ضرور ہے جو منزل من اللہ ہے اور قرآن مجید کی تشریح کے لیے وہ اتنا ضروری ہے کہ اس کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا، جو لوگ اس وحی کا انکار کرتے ہیں وہ دراصل قرآن حکیم کی من مانی اور گمراہ کن تفسیر کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توحید و سنت کی سمجھ عطا فرمائے اور شرک و بدعت سے بچنے کی توفیق دے۔