کفار کو قتل کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إثنان لا يجتمعان فى النار اجتماعا يضر أحدهما الآخر
”دو قسم کے آدمی جہنم میں ایسے اکٹھے نہیں ہو سکتے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے“۔
عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا:
مؤمن قتل كافرا ثم سدد
”وہ مومن جو کسی کافر کو قتل کرے پھر وہ سیدھی راہ پر قائم رہے“۔
مسلم، كتاب الامارة 1891/ 131، نسائی، کتاب الجهاد 13/6۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يجتمع كافر وقاتله فى النار أبدا
”کافر اور اس کا قاتل جہنم میں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے“۔
مسلم، كتاب الامارة 131/1891، نسائی، کتاب الجهاد 13/6۔
مرتد کو قتل کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من بدل دينه فاضربوا عنقه
”جو شخص اپنا دین (اسلام) بدل لے اسے قتل کر دو“۔
امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، جو شخص اسلام کے دائرہ سے نکل کر ملحد ہو جائے تو ان پر غلبہ پاتے ہی انہیں قتل کر دیا جائے گا اور ان سے توبہ کرنے کو نہیں کہا جائے گا۔
ہجرت کے متعلق احکامات
① کثیر بن مرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو فاطمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ انہوں نے کہا: اے یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسا عمل بتائیں جس پر میں قائم رہوں اور عمل کروں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا:
عليك بالهجرة فإنه لا مثل لها
”تم پر ہجرت کرنا لازم ہے اس لیے کہ اس کی کوئی مثال نہیں“۔
نسائی 130/7۔
② سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا تنقطع الهجرة حتى تنقطع التوبة ولا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها
”ہجرت منقطع نہیں ہوگی حتیٰ کہ توبہ منقطع ہو جائے اور توبہ منقطع نہیں ہوگی حتیٰ کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے (قیامت آجائے)“۔
ابو داؤد، کتاب الجهاد 2479۔ مسند احمد، مسند الشاميين 4 / 122، حدیث 16911۔