مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کرنسی کا لین دین

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

51- کرنسی کی خرید و فروخت کا حکم
اس میں کوئی حرج نہیں، اگر کوئی شخص ڈالر یا کوئی بھی کرنسی خرید لیتا ہے پھر اسے اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے، اس کے بعد، جب اس کا ریٹ چڑھ جاتا ہے اور وہ اسے بیچ دیتا ہے تو اس میں کوئی ممانعت نہیں لیکن وہ اسے نقد خرید لے نہ کہ ادھار، یعنی: سعودی ریالوں کے بدلے ڈالر خریدنا، یاسعودی ریال کے بدلے عراقی دینار لیکن ہاتھوں ہاتھ، کرنسی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا لین دین نقد بہ نقد ہو جس طرح سونے کے ساتھ چاندی کا لین دین نقد بہ نقد کیا جاتا ہے۔ واللہ اعلم
[ابن باز: مجموع الفتاوي و المقالات: 59/19]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔