مضمون کے اہم نکات
فقہ حنفی کی حقیقت:
فقہ حنفی کی حالت زار سب کے سامنے ہے۔ جیسا کہ آپ نے گزشتہ فصل میں ملاحظہ فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کا مقام اور آپ ﷺ کی عظمت ظاہر و باہر ہے۔ جیسا کہ نعیم مراد آبادی صاحب کی تفسیر میں بار بار اس بات کا تذکرہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے قریب ترین بندے اور رسول ہیں۔ اور آپ ﷺ مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔ اس کے بعد امام ابو حنیفہ کی تقلید کا کیا جواز بنتا ہے، حالانکہ اس تفسیر میں لکھا ہے: ولی کو نبی سے افضل جانا انتہائی خطرناک ہے۔ (الكهف:ف178)
پتا ہے اس دو رخی کا قیامت کے دن کیا نتیجہ نکلے گا۔ قیامت کے دن لوگوں کو ان اماموں کے نام پر بلایا جائے گا جن کی وہ اطاعت کرتے تھے۔ ظاہر ہے حنفیوں کو امام ابو حنیفہ کے نام پر پکارا جائےگا۔ اور جو کلمہ گو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں، ان کو رسول اللہ ﷺ کے نام پر بلایا جائے گا۔ (دیکھیے: تفسیر مراد آبادی، بني إسرائيل:71، ف159)،(المؤمن:32،ف71)
موجودہ فقہ حنفی کی حالت زار:
ہمارے ملک میں چونکہ حنفی بھائیوں کی غالب اکثریت ہے، اس لیے ہم صرف حنفی فقہ کے بارے میں اس کتاب میں بحث کریں گے، تاکہ معاملہ بالکل صاف ہو جائے۔ اس وقت حنفی فقہ کی جو معتبر کتابیں دستیاب ہیں ان کی فہرست پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ ان کتابوں کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ فقہ کی ان کتابوں میں دو قسم کے مسائل درج ہیں:
[1]وہ مسائل جو قرآن و حدیث اور اخلاق و تہذیب کے سراسر خلاف ہیں۔
[2]وہ مسائل جو قرآن وحدیث کے مطابق ہیں۔
پہلے فقہ کی ان کتابوں سے وہ مسائل درج کیے جاتے ہیں جو قرآن و حدیث اور اخلاق و تہذیب کے سراسر خلاف ہیں۔
حصہ اول:
اس میں کتب فقہ حنفی کے وہ مسائل درج ہیں جو خلاف شرع ہیں، ایسے مسائل چھ سو سے زائد ہیں، اختصار کی خاطر یہاں کم درج کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سب حنفی فقہ کی کتابیں ہیں جو بریلویوں اور دیوبندیوں کے نزدیک قابلِ تسلیم ہیں کیونکہ دونوں امام ابوحنیفہ کو اپنا امامِ اعظم مانتے ہیں:
[1] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ابوحنیفہ میری امت کا چراغ ہے۔ (درمختار:31/1)
◈ مشہور حنفی عالم ملا علی قاری نے اپنی کتاب موضوعات کبیر میں لکھا ہے کہ یہ حدیث بالاتفاق محدثین موضوع ہے یعنی من گھڑت ہے۔
[2] امام ابوحنیفہ نے سو بار اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا۔ (درمختار:29/1)
◈ اور فتاویٰ قاضی خان جلد چہارم میں لکھا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا تو وہ شخص اور بتوں کی پوجا کرنے والا برابر ہیں۔
[3] امام نے اپنے آخری حج میں کعبہ شریف کے خادموں سے ایک رات اندر داخل ہونے کی اجازت لی۔ ایک رکعت میں ایک ٹانگ پر آدھا قرآن شریف ختم کیا پھر رکوع اور سجدہ کیا پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ دوسری ٹانگ پر باقی آدھا قرآن ختم کیا۔ (درمختار:30/1)
◈ حدیث شریف میں ہے کہ قرآن مجید کو تین دن سے کم میں ختم نہ کیا جائے۔
[بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فی کم یقرأ القرآن: 5054 (اور فقہ حنفی)]
[4] امام صاحب کے والد گرامی ثابت رحمہ اللہ اپنے بیٹے امام ابوحنیفہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور دعا کروائی۔ (در مختار:36/1)
◈ یہ امر کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا چالیس ہجری میں وفات پانا اور امام ابوحنیفہ کا 80 ہجری میں پیدا ہونا مسلمہ ہے مگر یہ مؤلف صاحب کی تاریخ دانی اور صحت روایت کا نمونہ ہے۔
[5] امام ابو یوسف قاضی تھے بعضوں نے آپ کو سخت سست لکھا ہے۔ (مقدمہ فتاویٰ عالمگیری:53/1)
◈ یاد رہے کہ امام ابو یوسف حنفیوں کے مشہور امام ہیں۔
[6] معتزلہ (شیعہ) فروع میں حنفی ہیں۔ (درمختار:108/1) سنی کا نکاح معتزلی سے جائز نہیں، اس لیے کہ وہ کافر ہیں۔ (درمختار:22/2)
◈ غور کی ضرورت ہے۔
[7] لعنت ہو ہمارے رب کی بقدر شمار ریت کے ذرات کے اس شخص پر جو ابو حنیفہ کے قول کو رد کر کے یعنی قبول نہ کرے۔ (در مختار:36/1) صاحبین یعنی امام ابو حنیفہ کے شاگردوں امام محمد و ابو یوسف نے دو تہائی سے زیادہ مسائل میں امام ابو حنیفہ کا خلاف کیا ہے۔ (درمختار:1ص33)
◈ قابل غور بات ہے۔ پھر اور لوگ جو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اختلاف کرتے ہیں ان پر غصہ کیوں؟ جب کہ ان کے شاگردوں نے ان سے اتنا اختلاف کیا۔
[8] امام ابو حنیفہ کا کوئی قول اس قسم کا نہیں کہ جس کی دلیل قرآن و حدیث سے نہ ہو۔ (شرح وقایہ:11/1)
◈ اس بات کی صداقت ہی کا اس باب میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔
[9] امام ابو حنیفہ و صاحبین کا قول صحیح حدیث کے خلاف ہو تو اپنے ائمہ کے قول پر عمل ہوگا، حدیث پر نہیں۔ (مقدمہ ہدایہ:110/1)
◈ کیا ہی انصاف ہے!! یہ بات سراسر قرآن وحدیث کے خلاف ہے، کیا حنفی ائمہ صاحب وحی تھے؟ (النساء: 65،80)
[10] فتویٰ طلب کرنے والا پوچھے کہ اس مسئلہ میں شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا کیا قول ہے تو مفتی جواب میں ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول بیان کر دے۔ (درمختار:272/4)
◈ دیانتداری کا تقاضا بھی یہی ہے۔
[11] ہمارا مذہب حق ہے اور دوسرے کا مذہب خطا۔ (درمختار:1ص26)
◈ یہ سارے کرشمے تقلید کے ہیں، حق اور خطا کا پتا اسی باب میں چل جائے گا۔
[12] اگرچہ مفتی نے خطا کی ہو جب بھی عامی کو اس کی تقلید لازم ہے۔ (شرح وقایہ:13)
◈ دلیل کیا ہے؟
[13] اجماع ہے عوام کے لیے کہ تقلید صحابہ کی، ائمہ کے مقابلہ میں نہ کی جائے۔ (شرح وقایہ:13)
◈ قرآن کے خلاف ہے۔ (النساء:115)،(البقرۃ:137)
[14] ایک مجتہد دوسرے مجتہد کی تقلید نہیں کر سکتا بلکہ اس کو حرام ہے۔ (درمختار:33/1)،(مقدمہ عالمگیری:47/1)
◈ اگر حرام ہے تو سب کے لیے حرام ہے اور اگر تقلید محمود ہے تو سب کے لیے ہے۔
فقہ کے متعلق:
[15]فقہ کا سیکھنا افضل ہے باقی قرآن سیکھنے سے۔ (درمختار:19/1)،(عالمگیری:129/9)
[16] پورا قرآن پڑھنے سے فقہ پڑھنا افضل ہے۔ (عالمگیری:129/9 ایضاً)
[17] کتاب در مختار باذنِ نبوی تالیف ہوئی۔ (درمختار:11/1)
◈ در مختار کی بابت لکھا ہے بوجہ ایجاز قابلِ افتاء نہیں۔ (مقدمہ ہدایہ:107/1)
[18] مصنف در مختار کے استاد کا نام عبد النبی تھا۔ (درمختار:13/1)
◈ عبد النبی وغیرہ نام رکھنا ظاہراً کفر ہے۔ (مقدمہ ہدایہ:86/1)
عقائد کے متعلق:
[19] ایمان اہل آسمان و اہل زمین کا نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا ہے۔ (مقدمہ ہدایہ:21/1)
◈ قرآن کی بہت سی آیات کے خلاف ہے اور دیکھیے: [بخاری،کتاب الایمان، باب قول النبی ﷺ بنی الإسلام على خمس]
ایمان کے متعلق:
[20] مومن ایمان اور توحید میں برابر ہیں۔ (مقدمہ ہدایہ:21/1)
◈ معاذ اللہ! انبیاء اور ادنیٰ درجہ کے ایمان والے کا ایمان اور توحید کیسے برابر ہو سکتے ہیں۔
[21] جو اہل قبلہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو گالی دینا جائز سمجھے وہ کافر نہیں۔ (درمختار:292/1)
◈ انصاف کی دہائی ہے۔
[22] جو اللہ کی صفت اور دیدار کے منکر ہیں، وہ کافر نہیں۔ (درمختار:292/1)
◈ نہ معلوم پھر کون کافر ہوں گے؟
[23] حدیث مشہور کا منکر بقول صحیح کافر نہیں۔ (درمختار:592/2)
وضو کے متعلق:
[24] بے ترتیب وضو کرے (پہلے پاؤں دھوئے پھر منہ پھر کلی وغیرہ) تو جائز ہے۔ (ہدایہ:1/ 32، 33)
◈ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ کدھر گیا؟
[25] اعضائے وضو پر مکھیوں کا اخراج لگا ہوا اور پانی اس کے نیچے نہ پہنچے تو وضو جائز ہے۔ (عالمگیری:5/1)
[26] وضو میں کوئی عضو دھونا بھول جائے تو بایاں پیر دھو لے تو وضو درست ہے۔ (ہدایہ:66/1)
[27] مستحب ہے سورۃ ،،إنا أنزلنا،، کا پڑھنا وضو کے بعد۔ (درمختار:74/1)
[28] بلا نیت وضو سے نماز ادا ہو جائے گی۔ (درمختار:61/1)،(منیہ:22)
◈ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے (بخاری:54) والی مشہور حدیث کدھر گئی؟
[29] بھیگے ہوئے چھوارے کا پانی (نبیذِ تمر) جو شیریں ہو گیا ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (عالمگیری:32/1)
مسواک کے متعلق:
[30] مسواک لیٹ کر کرنے سے تلی بڑھ جاتی ہے اور مسواک کو مٹھی بھر پکڑنے سے بواسیر پیدا ہوتی ہے اور مسواک کو چوسنے سے آدمی اندھا ہو جاتا ہے اور مسواک کر کے نہ دھونے سے شیطان مسواک کرتا ہے اور مسواک ایک بالشت سے زیادہ لمبی رکھنے سے شیطان سوار ہوتا ہے اور مسواک پڑی رکھنے سے جنون کا خوف ہے۔ …. (درمختار:65/1، 66)
جن چیزوں سے وضو نہیں ٹوٹتا:
[31] اپنے ذکر کو یا دوسرے کے ذکر کو پکڑنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (عالمگیری:18/1)
[32] زندہ یا مردہ جانور یا کم عمر لڑکی سے جماع کیا تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ (عالمگیری:22/1)،(درمختار:1/ 95، 96)
◈ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
جن چیزوں سے غسل لازم نہیں آتا:
[33] بوجھ اٹھانے سے منی بلا شہوت نکلے تو غسل فرض نہیں۔ (درمختار:91/1)
[34] منی شہوت سے جدا ہو تو ذکر پکڑ لے، پکڑنے بعد دور ہونے شہوت کے منی نکلے تو غسل فرض نہیں۔ (ابو یوسف) (درمختار:92/1)،(عالمگیری:20/1)،(شرح وقایہ:33/1)
[35] شہوت کے بغیر منی نکلی تو غسل واجب نہیں۔ (ابو یوسف) (درمختار:93/1)
[36] جانور یا مردہ یا کم عمر لڑکی سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو غسل فرض نہیں۔ (درمختار:95/1،، عالمگیری:22/1،،ہدایہ:87/1)
[37]کسی جانور کا ذکر فرج یا دبر میں داخل کرے تو غسل لازم نہیں۔ (درمختار:95/1)
[38] باکرہ سے جماع کرے اور بکارت قائم رہے تو غسل لازم نہیں۔ (درمختار:96/1)
◈ کیا یہ ممکن ہے؟
[39] حیض کے دن پورے ہونے پر بغیر غسل صحبت جائز ہے۔ (قولِ ابو حنیفہ۔ ہدایہ:88/1 ،،شرح وقایہ:65-قدوری:74)
◈ خلافِ قرآن و حدیث ہے۔ [البقرہ:122]،[السنن الکبریٰ للبیہقی:462/1]
[40] نفاس والی کے چالیس دن گزرنے کے بعد بغیر غسل کے صحبت جائز ہے۔ (شرح وقایہ:65)
پانی کے بیان میں:
[41] وہ دردہ حوض میں آدمی کا پیشاب یا نجاست پڑ جائے تو وہ پاک ہے۔ (درمختار:108/1) اور ایسے حوض میں شیرہ انگور بھرا ہو اور پیشاب پڑ گیا تو وہ پاک ہے۔ (ہدایہ:139/1، 140) ایسے حوض میں کتا مرا پڑا ہو تو اس کی دوسری طرف وضو جائز ہے۔ (بہشتی زیور:47/1)
[42] حوض میں کتا گر کر مر گیا، اگر تہ میں بیٹھ گیا تو وضو جائز ہے۔ (درمختار:112/1)
[43] سوائے سور کے سب کے بال اگر پانی میں گر جائیں تو پانی پاک ہے۔ (درمختار:118/1)
پیشاب کے متعلق:
[44] پتلی نجاست (آدمی کا پیشاب) ہتھیلی کی گہرائی کے برابر معاف ہے۔ (درمختار:167/1-عالمگیری:71/1-ہدایہ:288/1) جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کے پیشاب میں چوتھائی سے کم کپڑا بھر جائے تو معاف ہے۔ (درمختار ج1،ص168-عالمگیری71/1-شرح وقایہ:69-کنز:25)
[45] مغلظ نجاست یعنی پاخانہ، منی، مذی بمقدار 3.5 ماشے کپڑے کو لگ جائے تو کپڑا پاک ہے۔ (عالمگیری:71/1-قدوری:182)
[46] سینکڑوں پیشاب کے چھینٹے سوئی کی نوک کے برابر پڑیں تو پاک ہے۔ (عالمگیری:71/1-درمختار:169/1)
[47] پیشاب اور خون پینا اور مردار کھانا بیمار کو جائز ہے حکیمِ حاذق کے کہنے سے۔ (درمختار:249/4-شرح وقایہ:62/4)
[48] جو گیہوں پیشاب میں پھول گیا وہ بھگو کر تین بار خشک کیا جائے تو پاک ہے۔ (درمختار:172/1)
عام نجاستوں کے متعلق:
[49] نجاست بھرا کپڑا اس قدر چاٹے کہ نجاست کا اثر جاتا رہے تو پاک ہے۔ (ہدایہ:278/1-عالمگیری:70/1)
[50] جس عضو پر نجاست لگی ہو وہ تین بار چاٹنے سے پاک ہو جاتا ہے۔ (عالمگیری:70/1)
◈ منہ ناپاک ہو جائے تو بلا سے۔
[51] چھری پر نجاست لگے تو چاٹنے سے پاک ہے۔ (عالمگیری:70/1-ہدایہ:282/1)
[52] جوانگلی یا پستان ناپاک ہو جائے چاٹنے سے پاک ہو جاتی ہے۔ (درمختار:164/1)
[53] نجس دودھ تین بار جوش دینے سے پاک ہے۔ (درمختار:172/1)
[54] نجس شہد تین بار جوش دینے سے پاک ہے۔ اسی طرح نجس تیل، شیر، خورما تینوں کو تین بار جوش دینے سے پاک ہیں۔ اسی طرح گوشت کا شوربہ جس میں نجاست پڑی ہو تین بار جوش دینے سے پاک ہے۔ (ایضاً)
[55]حرام چیز سے دوا کرنا اگر شفا کا یقین ہو تو جائز ہے۔ (ہدایہ:139/1)
شراب کے متعلق:
[56] جو گوشت شراب میں پکایا گیا ہو وہ تین بار جوش دینے اور خشک کرنے سے پاک ہے۔ (درمختار:172/1)
[57] جو گیہوں شراب میں پکایا گیا وہ کئی بار جوش دے کر سکھانے سے پاک ہو جاتا ہے۔ (درمختار:172/1)
[58] شراب کےگوندھے ہوئے آٹے میں روٹی پکائی گئی ہو۔ اگر اس قدر سرکہ ڈالا جائےکہ شراب کا اثر جاتا رہے تو پاک ہے۔ (درمختار:172/1)
[59] سور نمک سار میں گر کر نمک ہو جائے تو پاک ہے۔ (درمختار:170)
کتے کے متعلق :
[60] کتا نجس العین نہیں، کتنے کی بیع جائز ہے۔ (درمختار:119،118)
[61] مٹی کے برتن میں کتا منہ ڈالے تو تین بار دھونے سے پاک ہو جاتا ہے۔ (بهشتی زیور:1/51)
◈ حدیث میں سات بار دھونے کا حکم ہے۔
[62] کتے کے بالوں کا تکما بنانے میں مضائقہ نہیں۔ (هدايه:1/292)
[63] کتے کی ہڈی اور بال اور پٹھے پاک ہیں اور کتے کی کھال کا ڈول اور جائے نماز بنانا جائز ہے۔ (درمختار:119/1 ،118-هدایه:1/135) سور کی کھال کے سوا ہر جانور کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے۔ (درمختار:1/117) سور کی کھال بھی دباغت سے پاک ہو جاتی ہے۔ (منیہ:4) آدمی کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے۔ کتے اور باتھی کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے۔ (درمختار:1/117)
متفرق نجاستیں:
[64] سوائے سور کے حرام جانوروں پر بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا گیا تو اس کے کل اجزاء چربی اورگوشت پاک ہیں۔ (هدايه:174/4 ،173)
[65] سوائے سور کے سب کے بال پاک ہیں۔ (درمختار:1/118)
[66] مردار کا چستہ اور دودھ پاک ہے۔ (درمحتار:1/118)
تیمم کا بیان:
[67] تیمم میں ترتیب شرط نہیں۔ (شرح وقایہ:1/54)
[68] کیچڑ سے تیمم جائز ہے۔ (ھدایۃ:1/179)
[فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا](النساء:43) کا حکم کدھر گیا؟
[69] سور یا کتے کی پیٹھ پر غبار ہو تو تیمم جائز ہے۔ (ابو حنیفہ) (ہدایہ:182/1)
اذان کا بیان:
[70] اذان فارسی وغیرہ ہر زبان میں جائز ہے، اگر لوگ یہ سمجھ لیں کہ اذان ہوئی ہے۔ (درمختار:247/1-ہدایہ:449/1)
نماز کی کیفیت کا بیان:
[71] شروع کرنا نماز کا سوائے عربی کے درست ہے۔ بجائے اللہ اکبر کے اللہ کبیر یا اللہ کبار کہنا جائز ہے۔ بجائے اللہ اکبر کے الحمدللہ یا تبارک اللہ کہے تو جائز ہے۔ بجائے اللہ اکبر کے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ کہے تو جائز ہے۔ اللہ اکبر کا ترجمہ فارسی میں پڑھے تو بھی جائز ہے۔ نماز کے سب اذکار اور خطبہ و ثنا وغیرہ ہر زبان میں درست ہیں۔ (در مختار، عالمگیری) سب اذکار سوائے قرات کے باوجود عربی جاننے کے غیر زبان میں جائز ہیں۔ (قولِ ابو حنیفہ) (درمختار:247/1-ہدایہ: 449/1)
[72] نماز کے سب اذکار اور خطبہ وغیرہ ہر زبان میں درست ہے۔ (درمختار:246/1-ہدایہ:446/1)
[73] عورت سینے پر ہاتھ باندھے۔ (درمختار، عالمگیری-ہدایہ:451/1-شرح وقایہ:84/1)
[74] امام قرات شروع کر لے تو مقتدی سبحانک اللھم پڑھ لے۔ (عالمگیری:141/1)
◈ اب آیت : وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ [الأعراف:204] کا حکم کہاں گیا؟
[75] بسم اللہ کا منکر کافر نہیں۔ (درمختار:251/1)
◈ حالانکہ یہ قرآن ہے۔ (النمل:30)
[76] درود پڑھنا ہمارے نزدیک فرض نہیں۔ (ہدایہ-شرح وقایہ:96)
[77] سلام کے وقت قصداً حدث کرے (ہوا خارج کرے) تو نماز فاسد نہیں ہوگی، سلام پھیرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ (درمختار-ہدایہ:620-شرح وقایہ:104)
[78] سلام کے وقت عمداً قہقہہ کرے تو نماز نہیں ٹوٹتی۔ (ہدایہ:620/1)
[79]امام نے بعد تشہد کے باتیں کیں یا مسجد سے نکل گیا تو نماز جائز ہے۔ (شرح وقایہ:105)
وہ امور جن سے نماز فاسد نہیں ہوتی:
[80] نمازی جنبی آدمی یا کتا منہ بندھا لے کر نماز پڑھے تو جائز ہے۔ (درمختار:119/1)
[81] پیشاب کی جگہ یا دبر پر نجاست لگی ہو، گو بکثرت ہو تو نماز جائز ہے۔ (درمختار:173/1)
[82] کتے بلی کو بلائے یا گدھے کو ہانکنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ (درمختار:322/1-ہدایہ:623/1)
[83] امام کی قرات مقتدی کو اچھی معلوم ہو اور رو کر کہے کیوں نہیں یا ہاں یا البتہ تو نماز فاسد نہیں ہوتی۔ (درمختار:325/1)
[84] نماز میں قبلہ سے منہ پھیر لینے سے، اگرچہ سارا پھیر لے، نماز فاسد نہیں ہوگی۔ (درمختار:330/1)
[85]مرد نماز پڑھ رہا ہے اور عورت نے بوسہ دیا تو نماز فاسد نہیں ہوتی، ہاں اگر مرد نمازی عورت کو بوسہ دے تو نماز فاسد ہوگی۔ …. (درمختار:30/1، 329-عالمگیری:164/1)
[86] فقہ حنفی کے مطابق حنفی صاحبان کی نماز کا ایک نادر نمونہ، کتاب حیاۃ الحیوان الکبریٰ، مطبوعہ مصر (214/2) میں ہے کہ بادشاہ سلطان محمود رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب پر تھا اور علم حدیث کی حرص رکھتا تھا اور مشائخ سے حدیث سنتا اور استفسار کیا کرتا تھا۔ اکثر احادیث کو اس نے شافعی مذہب کے موافق پایا۔ اس نے فقہاء کو جمع کیا اور ان سے ایک مذہب کے دوسرے مذہب پر ترجیح کا مطالبہ کیا تو اس بات پر سب کا اتفاق ہوا کہ دونوں مذہب کے موافق دو دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے۔ پس اس نماز میں نظر و فکر کرنے سے جو مذہب اچھا معلوم ہو اس کو اختیار کرنا چاہیے۔ پس قفال مروزی نے نماز پڑھنی شروع کی تو وضو کو پوری شرطوں سے ادا کیا اور لباس اور استقبال قبلہ بھی بخوبی کیا اور نماز کے ارکان فرض اور سنتیں اور آداب کو بدرجہ کمال ادا کیا اور ایسی نماز پڑھی جس سے کسی کرنا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک درست نہیں۔ پھر اور دو رکعت اس طور سے ادا کیں کہ جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہوں۔ کتے کی کھال دباغت دی ہوئی کو پہن لیا اور اس کو چوتھائی نجاست سے آلودہ کیا اور نبیذ کھجور سے وضو کیا، چونکہ گرمی کا موسم تھا، اس لیے مکھیاں اور مچھر اس پر جمع ہو گئے اور بے نیت کے وضو کیا اور وضو بھی الٹا کیا، یعنی پہلے بایاں پاؤں دھویا پھر داہنا پاؤں پھر چوتھائی سر کا الٹا مسح کیا۔ پھر الٹا منہ دھویا پھر تین بارناک میں پانی دیا پھر تین بار کلی کی پھر ہاتھ دھوئے۔ پھر نماز میں داخل ہوا تو بجائے تکبیر کے فارسی زبان میں کہا [خدائے بزرگ است]۔ پھر قرات کی تو بجائے:[مُدْھَآمَّتٰان] کے فارسی میں کہا ،،برگِ سبز،، پھر بجائے سجود کی جگہ مرغ کی طرح ٹھونگیں مارتے رہے اور آخر پر تشہد میں گوز مار کر نماز سے بغیر سلام کے نکلا اور کہا اے بادشاہ! یہ نماز امام ابوحنیفہ کی ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ اگر اس طرح کی نماز ابوحنیفہ کی نہ ہوئی تو میں تجھ کو قتل کر ڈالوں گا، اس لیے کہ ایسی نماز تو کوئی صاحبِ دین جائز نہ رکھے گا۔ پس حنفیوں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی اس طرح نماز ہونے سے انکار کر دیا۔ (جیسے اب کر جاتے ہیں) تو قفال مروزی نے حنفی مذہب کی کتابیں طلب کیں۔ بادشاہ نے منگوا دیں اور ایک نصرانی عالم کو بلایا اور اس کو شافعی اور حنفی مذہب کی کتابوں کے پڑھنے کا حکم دیا تو ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کی نماز ویسی ہی پائی گئی جیسی کہ قفال مروزی نے پڑھ کر دکھائی تھی، تو بادشاہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کو چھوڑ دیا اور امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب کو اختیار کر لیا۔
اے میرے مکرم احناف! اگر آپ کو بھی قفال مروزی کی نماز کے متعلق تسلی و تشفی کرنی ہے تو مسائل بحوالہ مندرجہ بالا نمبر 63، 44، 29، 71، 77، بغور ملاحظہ فرمائیں اور بعد اس کے چاہیں تو مثل سلطان محمود کے اس مذہب کو خیر باد کہہ دیں، ورنہ کم از کم اس کی تصدیق کر دیں۔
متعلقاتِ نماز:
[87] افعالِ نماز میں ترتیب شرط نہیں ہے۔ (ہدایہ:619/1)
[88] جو چاہے کہ فجر سے پہلے سنت پڑھے اس کا حیلہ یہ ہے کہ پہلے فرض سے سنت پڑھے پھر اسے توڑ ڈالے، اب بعد فرض سنت پڑھ لے۔ (عالمگیری: 334/10-ہدایہ:932/3)
[89] مستحقِ امامت وہ ہے جس کی بیوی زیادہ اچھی ہو۔ (درمختار:290/1)
[90] عورتوں کی جماعت مکروہِ تحریمی اور بدعت ہے۔ (ہدایہ:1/574)
◈ خلافِ حدیث ہے۔
[سنن الدارقطنی:ح1071 إسنادہ حسن لذاتہ]،[سنن أبی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب إمامۃ النساء:592]،[صحیح ابن خزیمۃ: 1676]،[المنتقی ابن الجارود: 333]
[91] سجدہ تلاوت محض رکوع سے بھی ہو جاتا ہے۔ (درمختار:398/1)
[92] قنوت میں درود نہ پڑھے۔ (عالمگیری:177/1)
◈ یہ موقف حدیث کے خلاف ہے۔
[ابن خزیمۃ:ح 1100 وإسنادہ صحیح]،[فضل الصلاۃ علی النبی للقاضی اسماعیل:107]
[93] فوت شدہ نماز کے بدلے کفارہ دینا جائز ہے۔ (درمختار:378/1)
[94] قضا نمازوں کے کفارے کا طریقہ یہ ہے کہ دو سیر گیہوں فقیر کو دے پھر اس سے بطور ہبہ مانگ لے، روزانہ ایسا کرے جب تک کہ سب نمازوں کا فدیہ نہ ہو جائے۔ (عالمگیری:337/10-ہدایہ:934/4، 935)
[95] قنوت نہ پڑھے کسی نماز میں سوائے وتر کے۔ (ہدایہ:1/ص685)
◈ آگے جا کر لکھا ہے۔ نمازِ فجر میں قنوت پڑھنا چاروں خلفائے راشدین اور اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔ (ہدایہ:683/1) دونوں قول قابلِ غور ہیں۔
متعلقاتِ جمعہ:
[96] جمعہ کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ شہر ہو، جہاں حدودِ شرعیہ قائم ہوں۔ (درمختار-عالمگیری-ہدایہ:821/1-شرح وقایہ:134/1)
◈ یہ شرط دنیا بھر میں مفقود ہے، لہذا جمعہ ناجائز ہے۔
[97] جمعہ کی شرطوں میں بادشاہ یا نائب کا ہونا بھی ہے۔ (ہدایہ:823/1-شرح وقایہ:139/1)
◈ اکثر جگہ یہ بھی مفقود ہے۔
[98] جمعہ کا خطبہ بیٹھ کر بھی پڑھنا جائز ہے۔ (ہدایہ:1/ص72-قدوری:145/1)
◈ خلافِ قرآن ہے۔ (الجمعہ:11)
[99] جمعہ کے روز روحیں اکٹھی ہوتی ہیں۔ (درمختار:427/1)
محض بے اصل ہے۔ البزازیہ میں ہے کہ ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ جو یہ کہے کہ مشائخ کی روحیں حاضر ہوتی ہیں اور تعلیم بھی دیتی ہیں یا ان کو علم بھی ہوتا ہے، ایسے شخص کی تکفیر کی جائے گی یعنی وہ کافر ہو جائے گا۔ (عکس و ترجمہ بحر الرائق شرح کنز الدقائق لا بن نجیم: 124/5)
[100] جو شرطیں جمعہ میں ہیں وہی عیدین میں بھی واجب ہیں۔ (شرح وقایہ:173/1-کنز)
[101]تکبیراتِ عید الاضحیٰ جہر سے کہنا بدعت ہے۔ (ہدایہ:846/1-درمختار)
ہدایہ اور شرح وقایہ (139/1) میں یہ ہے کہ عیدین میں تکبیر جہر سے کہے، یہی سنت ہے (راستے اور عیدگاہ میں)۔
زکوٰۃ کا بیان:
[102] کسی کو انعام کا نام لے کر زکوٰۃ دی، دل میں نیت کر لی تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ (بہشتی زیور:24/3)
[103] زکوٰۃ نہ دینے کا حیلہ یہ ہے کہ جس کے پاس مال ہو بقدرِ نصاب سال گزرنے سے پہلے ایک درہم خیرات کر دے یا بعض درہم اپنی اولاد کو ہبہ کر دے تاکہ مال نصاب سے کم ہو جائے تو زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔ (ابو یوسف) (درمختار: 505/1-عالمگیری:334/10-ہدایہ:932/4)
[104] جو شخص زکوٰۃ اپنے قرضہ میں وصول کرنا چاہے تو اس کا حیلہ یہ ہے کہ اپنے رشتہ دار محتاج کو زکوٰۃ حوالہ کرے پھر اس سے واپس اپنے قرضہ میں وصول کر لے، اگر وہ نہ دے تو چھین لے۔ (درمختار-عالمگیری:336/10-ہدایہ:933/4)
[105] دوسرا حیلہ یہ ہے کہ قرضہ دار سے کہے کہ میرے خادم کو اپنا وکیل کر لے کہ وہ مجھ سے زکوٰۃ وصول کر کے واپس تیرے قرضہ میں مجھ کو دے دے۔ (عالمگیری:336/10-ہدایہ:933/4)
[106] جو شخص زکوٰۃ مسجد کی تعمیر میں لگانا چاہے تو اس کا حیلہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کسی کو دے دے اور وہ مسجد میں لگا دے۔ (درمختار:487/1)
روزوں کے متعلق:
[107] شک کے دن کا روزہ خاص رکھیں، اس طرح کہ عوام کو نہ معلوم ہو۔ شک کے دن نفل کی نیت سے روزہ رکھنا بالاتفاق افضل ہے۔ (درمختار:553/1)
◈ افضل نہیں بلکہ خلافِ حدیث ہے، ایسا کرنے والا رسول اللہ ﷺ کا نافرمان ہے۔
[سنن ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی کراہیۃ صوم یوم الشک:686]،[أبوداؤد، کتاب الصیام، باب کراہیۃ صوم یوم الشک: 2334]،[نسائی، کتاب الصیام، صیام یوم الشک: 2190]
وہ چیزیں جن سے روزہ فاسد نہیں ہوتا:
[108] روزہ میں ہاتھ سے منی نکالنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ (درمختار:564/1-ہدایہ:1112/1)
[109]اگر زنا کے خوف سے جلق لگا کر منی نکال دے تو توقع ہے کہ وبال نہ ہو۔ (درمختار:564/1-ہدایہ:1112/1)
[110]جانور کی فرج کے ہاتھ لگایا یا منہ چوما اور انزال ہو تو روزہ فاسد نہیں۔ (درمختار:564/1-عالمگیری:19/2-ہدایہ:1116/1)
[111]مردہ عورت سے وطی کی تو روزہ فاسد نہ ہوگا۔ (درمختار:567/1)
[112]عورت کو کپڑے کے اوپر سے مساس کیا اور انزال ہوا اگر حرارت معلوم نہ ہوئی ہو تو روزہ فاسد نہیں۔ (عالمگیری:19/2)
[113] ران وغیرہ میں جماع کرے اور انزال ہو جائے تو روزہ کا کفارہ نہیں۔ (القدوری:189)
[114] روزہ کی حالت میں بوسہ دینے سے منی نکل پڑے تو کفارہ نہیں۔ (القدوری:189)
حج کا بیان:
[115] مدینہ حرم نہیں۔ (درمختار:676/1)
◈ سراسر حدیث کے خلاف ہے۔
[مسلم، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ… الخ: 1360]،[أبو داؤد، کتاب المناسک، باب تحریم المدینۃ:2034]
نکاح کا بیان:
[116] شب کو جگانے میں مرد کا ہاتھ اپنی بیٹی پر گیا یا عورت کا ہاتھ اپنے بیٹے پر لگا تو میاں بیوی باہم حرام ہیں۔ (درمختار:18/2-عالمگیری:140/2)
[117] اپنی بیٹی کی شرم گاہ شہوت سے دیکھنے سے جو ر و حرام ہو جاتی ہے۔ (درمختار:19/2-عالمگیری:139/2)
[118] عورت نے جھوٹے گواہ پیش کر کے دعویٰ کیا کہ میرا فلاں مرد سے نکاح ہو گیا اور قاضی نے تسلیم کر لیا تو مرد کو اس سے وطی کرنا جائز ہے۔ (ابو حنیفہ) (درمختار:26/2-عالمگیری:155/2)
[119] اسی طرح مرد عورت پر جھوٹا دعویٰ کر کے ڈگری حاصل کر لے تو مرد کو اس عورت سے وطی کرنی جائز ہے۔ (ابوحنیفہ) (عالمگیری:155/2)
[120]نکاحِ متعہ منعقد ہوگا جب کہ اس کی مدت اس قدر دراز ہو کہ آدمی اس مدت تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ (ابوحنیفہ) (عالمگیری:155/2)
[121] متعہ درست ہے۔ (امام زفر) (شرح وقایہ:11/2)
رضاعت کا بیان:
[122] رضاعت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اڑھائی برس ہے۔ (درمختار:88/2-شرح وقایہ:31/2-قدوری:410)
صریح نصِ قرآنی کے خلاف ہے۔ (البقرۃ:233)
نسب کا بیان:
[123] مرد انتہائے مغرب میں ہو اور عورت انتہائے مشرق میں، اتنے فاصلہ پر کہ دونوں کے درمیان سال بھر کی راہ ہو، کسی طرح ان کا نکاح کر دیا گیا، اگر بعد تاریخِ نکاح کے عورت چھ مہینے میں بچہ جنے تو یہ بچہ ثابت النسب ہوگا، حرامی نہ ہوگا بلکہ اس مرد کی کرامت تصور کی جائے گی۔ (درمختار:268/2، 269)
◈ اللہ کی پناہ۔
[124] کسی نے اپنی بیوی کو طلاقِ رجعی دی، دو برس سے کم میں لڑکا پیدا ہوا تو لڑکا اسی شوہر کا ہے، حرامی نہیں۔ (بہشتی زیور:29/4)
[125] نکاح ہو گیا اور رخصتی نہ ہوئی، لڑکا پیدا ہو گیا تو شوہر ہی کا ہے، حرامی نہیں ہے۔ (بہشتی زیور:30/4)
[126] میاں پردیس میں ہے، برسوں گزر گئے، یہاں لڑکا پیدا ہو گیا تو شوہر کا ہے، حرامی نہیں۔ (بہشتی زیور:60/4)
حدود کا بیان:
[127] جو عورتیں ہمیشہ کے لیے حرام ہیں (ماں، بہن، بیٹی، خالہ، پھوپھی وغیرہ) ان سے نکاح کر کے اور حلال جان کر صحبت کرے تو حد نہیں۔ (ابوحنیفہ)
(درمختار:472/2-عالمگیری:3/ 464-ہدایہ:2/264-شرح وقایہ:2/95-کنز:411-قدوری:495)
[[یاد رہے کہ قرآن میں ان عورتوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (النساء:22، 23)
[128] محرمات (جو عورتیں ہمیشہ کے لیے حرام ہیں) سے حرام جان کر بھی نکاح کر لے تو حد نہیں (ابوحنیفہ) (درمختار:472/2)
[129] جس عورت کو اجارہ پر لیا ہو (خرچی دے کر) زنا کرے تو حد نہیں۔ (درمختار:474/2-عالمگیری:3/465)
◈ زانی کیوں نہ خوش ہوں گے۔
[130]خلیفہ اور امام اور بادشاہ زنا کرے تو حد نہیں۔ (درمختار:476/2-عالمگیری:3/270-ہدایہ:2/463-شرح وقایہ:2/96-کنز:411)
◈ ہمارا چیلنج ہے کہ قرآن وحدیث سے ثابت کریں۔
[131] جانور سے جماع کرنے پر حد نہیں آتی۔ (درمختار:472/2-عالمگیری:3/468-ہدایہ:2/545-شرح وقایہ:2/ 95، 96)
◈ حدیث میں ہے کہ اس شخص اور جانور کو قتل کر دیا جائے۔
[ترمذی، کتاب الحدود، باب ما جاء فیمن یقع علی البہیمۃ: 1455]
[132] کفن چور پر حد نہیں۔ (درمختار: 2/517-عالمگیری:3/316)
[133] کسی کا دودھ یا گوشت چرا لے تو حد نہیں، کسی کی لکڑیاں یا گھاس یا میوہ یا کھڑی کھیتی چرا لے، مسجد کا دروازہ چرا لے، قرآن چرا لے، کسی کا لڑکا چرا لے، مال لوٹ لے، شاہی خزانے میں سے چرا لے تو حد نہیں۔ (شرح وقایہ:2/ 101تا103)
سراسر قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔
گم شدہ کا بیان:
[134] زوجہ مفقود الخبر نوے برس انتظار کرے۔ (عالمگیری:3/ 511،510-ہدایہ:2/936-شرح وقایہ:2/122-کنز:460)
عقل سے کام لیں، کیا یہ ممکن ہے؟
ذبح کا بیان:
[135] آگ سے ذبح کرنا جائز ہے۔ (درمختار:184/4)
[136] بسم اللہ، اللہ اکبر پڑھنا مکروہ ہے۔ (درمختار:188/4-عالمگیری)
◈ خلافِ حدیث ہے۔
[مسلم، کتاب الأضاحی، باب استحباب استحسان الضحیۃ…… الخ: 1966]
[137] جو جانور کھائے جاتے ہیں ان کو شراب پلائی گئی پھر اسی وقت ذبح کر دیا گیا تو حلال ہے۔ (درمختار:217/4-ہدایہ:303/4)
[138] جو کوا مردار اور دانہ دونوں کھاتا ہو وہ حلال ہے۔ (ابوحنیفہ) (عالمگیری:439/8-درمختار:193/4)
[139] سانڈ کھانا مکروہ ہے۔ (ہدایہ:181/4)
◈ صحیح بخاری کی حدیث کے خلاف ہے۔
[بخاری، کتاب الأطعمۃ، باب ما کان النبیﷺ لا يأکل حتی یسمی لہ فیعلم ما ھو: 5391، 5537]
قربانی کا بیان:
[140] غصب کے جانور کی قربانی جائز ہے۔ (شرح وقایہ:53/4)
[141] گاؤں میں عیدالاضحیٰ سے پہلے اور صبح کی نماز کے بعد قربانی درست ہے۔ (کنز:328/2-بہشتی زیور:28/3)
◈ خلافِ حدیث ہے۔
[بخاری، کتاب الأضحی، باب من ذبح قبل الصلاۃ أعاد: 5561]
حلال وحرام کا بیان:
[142] سور کے بال سے موزہ سینا جائز ہے۔ (ہدایہ:322/4)
[143] کتے کی ہڈی سے دوا کرنا جائز ہے۔ (عالمگیری:88/9-ہدایہ:322/4)
[144] زمین غصب کر کے مسجد بنا دے تو ڈر نہیں۔ (عالمگیری:26/9)
مشروب کا بیان:
[145] ابو یوسف نے ایک قسم کی انگوری شراب خلیفہ ہارون الرشید کے واسطے تیار کی تھی، اس شراب کو ابایوسفی کہتے تھے۔ (درمختار:3/290، عالمگیری:9/181)
[146] شراب گیہوں، جو، شہد اور جوار کی حلال ہے۔ (ہدایہ:4/435)
◈ خلافِ حدیث ہے۔
[أبو داؤد، کتاب الأشربۃ، باب تحریم الخمر: 3669]،[مسلم، کتاب الأشربۃ، باب تحریم الخمر و بیان…. الخ: 1980]
[147] شراب چھوہارے اور منقیٰ کی حلال ہے۔ (قدوری:508)
[148] جس نے شراب کے نو پیالے پیے اور نشہ نہ ہوا پھر دسواں پیالہ پیا تو نشہ ہوا تو یہ دسواں پیالہ حرام، پہلے کے نو نہیں۔ (درمختار:4/294)
قرآن کے خلاف ہے۔ (المائدۃ:90)
[149] سوا شراب کے دیگر مسکرات میں جب تک نشہ نہ ہو پینا حرام نہیں۔ (ہدایہ:2/566)
[150] تحقیق یہ ہے کہ بھنگ مباح ہے۔ (ہدایہ:2/567)
◈ خلافِ حدیث ہے کیونکہ جو چیز نشہ کرے حدیث کی رو سے حرام ہے۔
فقہ حنفی میں حیلہ سازی:
فقہ حنفی میں حیلہ سازی کے متعلق ہم نے گزشتہ صفحات میں بھی کچھ باتوں کا تذکرہ کیا ہے اور اب ہم امام ابو حنیفہ کے استاذ الاستاذ ابراہیم نخعی کے حیلوں کے بارے میں بیان کریں گے:
[1] آپ جب سونے جاتے تو خادم سے فرماتے کہ جو شخص گھر میں آنے کی اجازت مانگے تو کہنا کہ یہاں نہیں ہیں اور یہ مراد لینا کہ جہاں تو کھڑا ہے وہاں کھڑے نہیں ہیں۔ (عالمگیری:10/405-ہدایہ:3/943)
[2] جو شخص آپ سے ملنا چاہتا اور آپ کو ملنا منظور نہ ہوتا تو تکیہ وغیرہ پر سوار ہو جاتے اور خادم سے کہتے کہ کہہ دے وہ تو سوار ہو گئے۔ (ایضاً)
[3] جو شخص آپ سے کوئی چیز مستعار مانگتا اور آپ کو دینی نہ ہوتی تو ہاتھ زمین پر رکھ کر فرماتے کہ یہاں نہیں ہے۔ (ایضاً)
قرآن کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ (الماعون:7)
فقہ کی حقیقت:
حنفی مذہب کی فقہی کتابیں دراصل امام ابو حنیفہ کی اپنی لکھی ہوئی نہیں ہیں بلکہ یہ تو بعد کے لوگوں نے کئی صدیوں بعد مرتب کی ہیں۔ کیا یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ان میں ان کی طرف منسوب سب اقوال و آراء صحیح ہیں؟
کتبِ احناف اور کتبِ احادیث دنیا میں موجود و متداول اور تقریباً ہر جگہ دستیاب ہیں، اگر کسی کو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ہے اور ان کا عمل قابلِ قبول ہے تو فقہ حنفی کے ہر مسئلے کو کتبِ احادیث پر رکھ کر دیکھ لیا جائے اور اس کام کو بہت جلد انجام دینے کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی رمقِ ایمانی ہو تو آج ہی سے کام شروع کر دینا چاہیے، تاکہ فقہ حنفی کی حیثیت کھل کر سامنے آ جائے اور عوام کو بھی معلوم ہو جائے کہ فقہ حنفی میں جو گھناؤنے مسئلے ہیں وہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے تعامل پر ہیں یا نہیں، مثلاً زانیہ کی اجرت کا جواز، جھوٹا دعویٰ دائر کر کے ڈگری کرانے پر عورت سے وطی جائز، جانوروں سے بدفعلی پر کوئی حد نہیں بلکہ محرماتِ ابدیہ (ماں، بہن) وغیرہ سے منہ کالا کرنے پر بھی حد نہیں۔ ان مسائل کے لیے شرح وقایہ، ہدایہ اور فتاویٰ عالمگیری وغیرہ سے رجوع کیا جائے۔ رہی بات اکابر فقہائے احناف کی جیسے امام ابو حنیفہ، قاضی ابو یوسف وغیرہ کی تصانیف، تو ان کی جو تصانیف اس وقت دنیا میں موجود ہیں خود حنفیہ بھی غالباً ان پر عمل کرنے کو تیار نہ ہوں جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔
من و سلویٰ کے بدلے لہسن و پیاز:
الغرض مسلمانوں نے منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے من و سلویٰ (یعنی قرآن و حدیث) کے بدلے لہسن و پیاز لیا۔ من و سلویٰ ان سے چھین لیا گیا اور ان کے پاس صرف لہسن و پیاز ہی رہ گیا۔ حوالہ جات کے لیے دیکھیے: (البقرۃ:61، 42، 79)،(الأنعام:153)،(الزخرف:43)
حنفی فقہ کے وہ مسائل جو قرآنِ مجید کے خلاف ہیں:
[1] اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ (المدثر:4) اور فقہ میں لکھا ہے مغلظ نجاست یعنی پاخانہ، منی، ودی بمقدار 3.5 ماشے کپڑے کو لگ جائے تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھنا جائز ہے۔ (قدوری:ص75-عالمگیری ج1 ص71)
[2] ایمان اہلِ آسمان اور اہلِ زمین کا نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے۔ (مقدمہ عین الہدایہ: ج1 ص21)
تبصرہ:
یہ قرآن کے خلاف ہے۔ ایمان ہر ایک مؤمن کا اس کے مدارجِ عمل اور عقیدہ کے موافق کم و زیادہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں درج ذیل مقامات پر واضح طور پر بیان کیا گیا ہے: (آلِ عمران: 173، التوبہ:124، الکہف:13، مریم:76، الاحزاب:22 محمد:17، الفتح:4) کتبِ احادیث میں کثرت سے اس مسئلہ میں روایات ہیں۔ غرض یہ مسئلہ قرآن و حدیث کے بالکل خلاف ہے۔
[3] جو اللہ کی صفات اور دیدار کے منکر ہیں وہ کافر نہیں۔ (درمختار: ج1 ص292)
تبصرہ:
جو اللہ کی صفات کا منکر ہے وہ سارے قرآن کا منکر ہے نا معلوم پھر کافر کون ہوں گے؟
[4] حدیثِ مشہور کا منکر بقولِ صحیح کافر نہیں۔ (درمختار: ج2 ص592)
تبصرہ:
حدیثِ صحیح کا منکر کم از کم قرآن کی 31 آیات کا منکر ہوا جن میں رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔
مثلاً (النساء: 115،80، 64تا 70، 13،14،56) نا معلوم پھر کافر کون ہوں گے؟
[5] بسم اللہ کا منکر کافر نہیں۔ (درمختار: ج1 ص251)
تبصرہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن کی آیت ہے (النمل:30) قرآن کی ایک آیت کا منکر بھی کافر ہے۔
[6] رضاعت (ماں کا بچے کو دودھ پلانا) امام ابو حنیفہ کے نزدیک اڑھائی برس ہے۔ (درمختار: ج2 ص88، قدوری ص410، شرح وقایہ:ج2 ص31)
تبصرہ:
صریح نصِ قرآنی کے خلاف ہے۔ (البقرہ:233)
[7] جو عورتیں ہمیشہ کے لیے حرام ہیں (ماں، بہن، بیٹی، خالہ، پھوپھی وغیرہ) ان سے نکاح کر کے اور حلال جان کر صحبت کرے تو حد نہیں۔
(درمختار: ج 2 ص 472، عالمگیری: ج3/264، عین الہدایہ: ج2 ص457، شرح وقایہ: ج2 ص95،96- کنز: ص411- قدوری: ص495)
تبصرہ:
یاد رہے محرم عورتوں کو قرآن میں ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا گیا ہے۔ (النساء:23) اور رضاخانی قرآنِ مجید میں ہے۔ نصِ قرآنی کا منکر کافر ہے۔ اور حدیث براء بن عازبؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میرے ماموں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے ان کے ساتھ نشان تھا۔ میں نے کہا کدھر کا ارادہ ہے کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ میں اس کا سر تن سے جدا کر کے (اس کا مال) لے کر آؤں۔ (ترمذی و ابوداؤد، النسائی ابن ماجہ اور دارمی) بحوالہ کتاب الظفر المبین ص 203
[8] خلیفہ اور امام اور بادشاہ زنا کرے تو حد نہیں۔ (درمختار: ج2 ص476-عالمگیری: ج3 ص470- شرح وقایہ: ص96- کنز:ص411- عین الہدایہ: ج2 ص463)
تبصرہ:
سراسر قرآن کے خلاف ہے۔ (النور:24)
[9] روزہ میں ہاتھ سے منی نکالنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ اگر زنا کے خوف سے جلق لگا کر منی نکال دے تو توقع ہے کہ وبال نہ ہو، جانور کی فرج کے ہاتھ لگایا، منہ چوما اور انزال ہوا تو روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ سوئی عورت یا مجنونہ سے جماع کیا گیا تو روزے کا کفارہ نہیں۔ (درمختار: ج1 ص 564تا598) جو روزے میں زنا کے ڈر سے جلق لگائے اور منی نکال دے تو امیدِ ثواب ہے۔ (عین الہدایہ: ج3 ص272)
تبصرہ:
اللہ تعالیٰ نے البقرہ 183میں فرمایا کہ: اے مومنو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ اور حنفی فقہ مندرجہ بالا مسائل میں مسلمانوں کو کیسی پرہیزگاری کی راہ دکھا رہی ہے؟ (اللہ کی پناہ)
[10] نماز کے دوران دیکھ کر قرآن کی قرآت کی تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ (عین الہدایہ: ج1 ص640) اور نماز کے دوران اگر متعلقہ رجعیہ کی فرج کو شہوت سے دیکھا تو نماز فاسد نہیں ہو گی۔ (عین الہدایہ: ج1 ص650)
تبصرہ:
اوہ اے تم نے قرآن کا خوب احترام کیا حنیفیو!
[11] قولِ امام وصاحبین کی اتباع واجب ہے حدیث کی نہیں۔ (مقدمہ عین الہدایہ: ج1 ص110)
تبصرہ:
حدیث، رسول اللہ ﷺ کے قول کو کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ، اللہ کے رسول ہیں۔ اور ہم نے ان کا کلمہ پڑھا ہے ان کی اطاعت کو اللہ نے قرآن میں فرض قرار دیا ہے اور ان پر وحی آتی تھی۔ جبکہ امام ابوحنیفہ و صاحبین کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں ہے۔ کیا امام ابوحنیفہ اور صاحبین کا آپ نے کلمہ پڑھا، کیا ان کی طاعت اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے واجب قرار دی؟ کیا وہ صاحبِ وحی تھے؟ یاد رہے تقلید چوتھی صدی ہجری میں شروع ہوئی۔ اس سے پہلے صحابہ اور سب مسلمان صرف قرآن اور حدیث پر عمل کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [فَاسۡتَمۡسِکۡ بِالَّذِیۡۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ] تم مضبوط تھامے رہو اسے جو تمھاری طرف وحی کی گئی ہے بے شک تم سیدھی راہ پر ہو۔ (الزخرف :43) اور وہی قرآن و حدیث ہے۔ نیز دیکھیے: (التوبہ :31)،(الشوریٰ:21)
[12] اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فرماتے ہیں، ترجمہ: اے ایمان والو! مشرک تو پلید ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔ (التوبہ: 28) اور سادات حنفیہ فرماتے ہیں: ترجمہ: اہلِ ذمہ کے مسجد حرام میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ (عین الہدایہ: ج4 ص311)
[13] اے ایمان والو! مقتول کے بارے میں قصاص (خون کے بدلے خون) تم پر فرض کیا گیا ہے۔ (البقرہ:178) لیکن سادات حنفیہ بتاتے ہیں ایک شخص کسی کو زہر کھلا دے اور وہ اس سے مر جائے اس کے منہ میں زبردستی ڈالا ہو یا اسے پکڑوا دیا۔ پھر اسے پینے پر مجبور کیا ہو یہاں تک کہ وہ پی لے یا وہ مجبور کیے بغیر از خود پی لے اور مر جائے تو ان تمام صورتوں میں زہر دینے والے اور پلانے والے سے قصاص نہیں لیا جائے گا تاہم اس کا عاقلہ (قبیلہ) دیت دینے کا ذمہ دار ہے۔ (عالمگیری:ج9 ص300)
[14] قرآن کہتا ہے ترجمہ: پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی تم پر کرے ویسی ہی زیادتی تم اس پر کرو۔ (البقرہ:194) اور فقہ کہتی ہے کہ قصاص صرف تلوار کے ساتھ لیا جائے گا۔ (عین الہدایہ: ج4 ص619-عالمگیری: ج9 ص297)
[15] امام نے آخری حج میں کعبہ شریف کے خادموں سے ایک رات داخل ہونے کی اجازت لی۔ اور اللہ نے فرمایا: ہم نے تجھ کو اور اس کو بخشا جو تیرا تابعدار ہو ان لوگوں میں سے جو تیرے مذہب پر ہیں قیامت تک۔ (درمختار: ج1 ص30) اور سارے قرآن میں لکھا ہے کہ جو اللہ کی اطاعت کرے گا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اس کو اللہ بخش دے گا اور یہ کہ دین رسول پاک ﷺ کی زندگی میں ہی مکمل ہو گیا تھا۔ اور امام صاحب تو بعد اس کے بعد 80ھ میں پیدا ہوئے اور فقہ حنفی کے بہت سارے مسائل قرآن و صحیح احادیث کے خلاف ہیں اس لیے مندرجہ بالا دعویٰ سراسر قرآن و حدیث کے خلاف ہے اور امام ابوحنیفہ کا مکمل شدہ دین میں کہیں ذکر تک نہیں۔
[16] فقہ میں ہے عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر امام ابو حنیفہ کے مذہب پر حکم کریں گے۔ (درمختار: ج1 ص33)
تبصرہ:
وہی جو اوپر والے نمبر میں گزر چکا ہے اس کا مطلب ہے عیسیٰ علیہ السلام امام ابو حنیفہ کی تقلید کریں گے جو سراسر غلط ہے۔ کیا امام ابو حنیفہ پر وحی آئی تھی؟
[17] فقہ میں ہے محمود بن عمر معتزلی تھے۔ ناصر بن عبد الستار معتزلی حنفی تھے مختار بن محمود معتزلی حنفی تھے۔ امام زاہدی معتزلی تھے اور فروع میں حنفی ہیں۔ (مقدمہ عالمگیری: ص76تا84-درمختار: ج1 ص95)
تبصرہ:
یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی قرآن و حدیث کے خلاف بول رہی ہے اور فقہ کے بہت سے مسائل شیعہ حضرات سے ملتے جلتے ہیں جو کہ سراسر قرآن کے خلاف ہے۔ دیکھئے شیعہ سے متعلق باب
[18] صاحبین یعنی امام ابو حنیفہ کے شاگردوں امام محمد و ابو یوسف نے دو تہائی سے زیادہ مسائل میں امام ابو حنیفہ کا خلاف کیا ہے۔ (درمختار: ج1 ص33، مقدمہ عین الہدایہ: ص92) امام ابو حنیفہ کا کوئی قول اس قسم کا نہیں کہ جس کی دلیل قرآن و حدیث سے نہ ہو۔ (شرح وقایہ: ص11)
تبصرہ:
اگر امام ابو حنیفہ کا کوئی قول اس قسم کا نہیں کہ جس کی دلیل قرآن و حدیث سے نہ ہو تو امام صاحب کے شاگرد امام محمد و امام ابو یوسف نے دو تہائی سے زیادہ مسائل میں امام ابو حنیفہ کے خلاف کیوں کیا۔ حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے کلام میں اختلاف نہیں۔ (النساء:82)
[19] فقہ کہتی ہے کہ ہمارا مذہب حق ہے۔ دوسروں کا مذہب خطاء۔ (درمختار: ج1 ص26، ج4 ص272)
تبصرہ:
جب فقہ قرآن و حدیث سے ٹکرا رہی ہے تو حنفی مذہب حق کیسے ہوا؟ حق تو وہ ہے جو اللہ کے قرآن اور نبی ﷺ کے فرمان میں ہے۔
[20] اجماع ہے عوام کے لیے کہ تقلید صحابہ کی آئمہ کے مقابلے میں نہ کی جائے۔ (شرح وقایہ: ص113)
تبصرہ:
پہلے نمبر 16 میں اوپر عیسیٰ علیہ السلام کو امام ابو حنیفہ کا مقلد بنایا گیا اب صحابہ کا درجہ امام ابو حنیفہ سے گرایا جا رہا ہے۔ یہ باتیں قرآن کے خلاف ہیں۔ دیکھئے (البقرۃ: 137)،(النساء:115)
ان دو آیات میں صحابہ کا طریقہ اختیار کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
[21] فقہ کا سیکھنا افضل ہے۔ باقی قرآن کے سیکھنے سے۔ پورے قرآن سے فقہ پڑھنا افضل ہے۔ (عالمگیری: ج9 ص129-درمختار: ج1 ص19)
تبصرہ:
تبصرے کی ضرورت نہیں سارا قرآن تلاوت کے لیے، سمجھنے کے لیے اور اس پر عمل کرنے کے لیے اترا ہے۔
[22] کتاب در مختار باذنِ نبوی تالیف ہوئی۔ (درمختار: ج1 ص11) خواب میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبانِ ماتن کے منہ میں داخل کی اس کے بعد تالیف اس متن کی شروع کی۔ (درمختار: ج1 ص12)
تبصرہ:
اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود مکمل شدہ دین کے بعد بھی در مختار کے مؤلف کو اور کتاب لکھنے کی اجازت دی۔ بتائیے اس سے بڑا بہتان رسول اللہ ﷺ پر کیا ہو گا؟ اور در مختار کا حال حقیقۃ الفقہ کتاب سے آپ کو معلوم ہو جائے گا۔ در مختار: میں 240 سے زیادہ ایسے مسائل درج ہیں جو قرآن و حدیث، تہذیب و اخلاق کے خلاف ہیں۔
[23] در مختار کی اسناد رسول اللہ ﷺ کے واسطے سے اللہ تک پہنچتی ہیں۔ (در مختار: ج1 ص13)
تبصرہ:
رسول اللہ ﷺ کو وحی تو جبریل کے ذریعے پہنچی اور یہاں کوئی اور ہی سند بتلائی جا رہی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ سراسر جھوٹ ہے اور قرآن کے خلاف ہے اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی فقہ کے مسئلے کی سند امام صاحب تک نہیں پہنچتی۔ آپ فقہ کی ساری کتابیں چیک کر کے دیکھ سکتے ہیں۔
[24] جو اہل قبلہ صحابہ کو گالی دینا جائز سمجھے وہ کافر نہیں۔ (درمختار: ج1 ص292)
تبصرہ:
نصِ قرآنی کے خلاف ہے۔ (النساء 115، البقرہ 137، الفتح 29، خاص طور پر 18تا20)
[25] پانچ مسئلے (عین الہدایہ: ج8 ص750تا752) پر درج ہیں۔ جن میں زکوٰۃ نہ دینے کے حیلے بیان کیے گئے ہیں۔
تبصرہ:
اللہ تعالیٰ تو قرآن میں بار بار کہہ رہا ہے کہ زکوٰۃ کو مسلم معاشرے کی بنیادی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ فقہ میں زکوٰۃ نہ دینے کے حیلے بیان کر کے زکوٰۃ نہ دینے کی ترغیب دی جا رہی ہے جو سراسر قرآن کی منشا کے خلاف ہے۔
[26] لونڈے بازی کا جنت میں بھی وجود ہو گا لیکن یہ ضعیف ہے۔ (درمختار: ج2 ص474)
تبصرہ:
یاد رہے کہ قرآن میں ہے کہ قومِ لوط اسی گناہ کی وجہ سے عذابِ الہی میں مبتلا ہوئی۔ (الحجر:57تا76) (فقہ حنفی کا حال قابلِ رحم ہے)
[27] سوائے شراب کے جتنی چیزیں پینے کی حرام ہیں۔ سب کی فروخت جائز ہے (ابوحنیفہ) شیرہ انگور شراب بنانے والے کو فروخت کرے تو جائز ہے۔ (عالمگیری: ج4 ص396-فتاویٰ عالمگیری: ج9 ص191) کتا اور گدھا ذبح کر کے اس کا گوشت فروخت کرنا جائز ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری: ج4 ص 394)
تبصرہ:
قرآنی نص کے خلاف ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو برائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ (المائدہ:2)
[28] کسی شخص نے مسلمان کے واسطے شراب رکھ چھوڑی تو مکروہ نہیں اور کافر کے لیے رکھے تو مکروہ ہے۔ (عالمگیری: ج9 ص119)
تبصرہ:
وہی داؤ پر 27 میں گزر رہا ہے۔
[29] تیمم میں ترتیب شرط نہیں۔ (شرح وقایہ: ج1 ص54) صاف چکنے پتھر پر تیمم جائز ہے اگرچہ دھلا ہوا ہو۔ (بہشتی زیور: ج1 ص4) کیچڑ سے تیمم جائز ہے۔ سور یا کتے کی پیٹھ پر غبار ہو تو تیمم جائز ہے۔ (عین الہدایہ: ج1 ص182-درمختار: ج1 ص428-عالمگیری: ج1 ص40)
تبصرہ:
قرآنی نص کے خلاف ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پاک مٹی سے تیمم کرو۔ (النساء:43)
[30] جمعہ کا خطبہ بیٹھ کر بھی پڑھنا جائز ہے۔ (عین الہدایہ: ج2 ص533)
تبصرہ:
نصِ قرآنی کے خلاف ہے۔ (الجمعہ:11) اور صحیح مسلم کی حدیث کے بھی خلاف ہے۔
[31]مصنف در مختار کے استاد کا نام عبد النبی تھا۔ (درمختار: ج1 ص13)
تبصرہ:
نصِ قرآنی کے خلاف ہے۔ (آل عمران:80،79) اور (مقدمہ عین الہدایہ: ج1 ص86) پر لکھا ہے کہ عبد النبی وغیرہ نام رکھنا ظاہر کفر ہے۔
حنفی فقہ کے وہ مسائل جو صحیح احادیث کے خلاف ہیں۔ ایسے مسائل کی تعداد دو سو سے اوپر ہے جو صحیح احادیث کے خلاف ہیں۔ اختصار کی خاطر ہم آپ کو مشورہ دیں گے کہ اس سلسلے میں دو کتابوں کا ضرور مطالعہ فرمائیں: (1) الظفر المبین (تالیف) مولانا محمد ابوالحسن سیالکوٹی (2) حقیقۃ الفقہ (تالیف) مولانا محمد یوسف جے پوری۔
یہ دونوں کتابیں آپ کو مکتبہ دارالابلاغ غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور سے مل جائیں گی۔ ان کا فون نمبر 7361428-042 ہے۔
نوٹ: یاد رہے یہ سب حنفی فقہ کی کتابیں ہیں جن کے حوالے اس مضمون میں دیے گئے ہیں۔






