اپنی قبر کے بارہ رسول اللہ کی دعاء :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت کرتے ہوئے امت کو آگاہ فرمایا کہ کہیں وہ بھی مشرکین اور اہل کتاب کی طرح شرک میں گرفتار نہ ہو جائیں۔ چنانچہ قبور کو عبادت گاہ بنانے سے منع فرمایا، قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے سے روکا، نیز طلوع اور غروب آفتاب کے وقت نماز ادا کرنے سے بھی منع فرمایا تاکہ کفار سے مشابہت پیدا نہ ہو۔ چنانچہ ولید بن عبدالملک کی خلافت میں جب حجرہ مبارک مسجد نبوی میں داخل کیا گیا تو حجرہ کے گرد ایک دیوار چن دی گئی تاکہ قبر مکرم تک کوئی شخص نہ پہنچ سکے۔ موطا امام مالک کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمائی تھی کہ:
اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ، اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
”اے اللہ! میری قبر کو بت معبود نہ بننے دینا کہ اس کی پوجا ہونے لگے، اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا غضب سخت ہو جاتا ہے جو اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیتی ہے۔“
(موطا امام مالك (172/1) كتاب قصر الصلاة في السفر ، مسند احمد (2/ 236)
الحمد للہ کہ رب کریم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرف قبولیت بخشا اور آپ کی قبر کو وثن بننے سے محفوظ رکھا، جیسا کہ عام قبور کو وثن بنا لیا گیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ جب سے حجرہ کے گرد چار دیواری تعمیر ہوئی کسی کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ اندر داخل ہو سکے۔ اگرچہ حجرہ کے گرد چار دیواری سے پہلے بھی اندر داخل ہو کر اس طریقے سے درود و سلام کہنا ممکن نہ تھا جیسا کہ عام قبور پر بدعات کا دور دورہ ہے۔ اسی طرح جاہل لوگ حجرہ مبارک کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں، اپنی آوازوں کو بلند کرتے ہیں اور غیر شرعی اور ممنوع کلام کرتے ہیں، مگر یہ سب کچھ قبر مکرم کے نزدیک نہیں بلکہ حجرہ کے باہر ہو رہا ہے، کیونکہ رب کریم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء کو ایسا شرف قبولیت بخشا ہے کہ اب کوئی شخص قبر مکرم تک پہنچ ہی نہیں سکتا کہ وہاں جا کر درود و سلام یا شرکیہ اعمال کر سکے، جیسا کہ دوسرے انبیاء و صلحاء کی قبور کو وثن بنا لیا گیا ہے۔
ام المومنین کی زندگی میں کسی کو جرات نہ تھی کہ بجز آپ سے علمی استفادے کے اندر داخل ہو سکے اور نہ ہی کسی کے لیے ممکن تھا کہ وہ قبر مکرم کے پاس جا کر غیر شرعی عمل کر سکے، جب سیدہ کی وفات ہو گئی تو حجرہ مبارک کا دروازہ بند کر دیا گیا اور حجرہ کے چاروں طرف ایک دیوار چن دی گئی تاکہ آپ کا گھر میلہ گاہ اور قبر وثن یعنی عبادت گاہ نہ بن جائے۔
یہ بھی معلوم رہے کہ اہل مدینہ مسلمان تھے اور مدینہ منورہ میں غیر مسلم داخل نہیں ہو سکتا تھا اور سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و توقیر کرتے تھے۔ قبر مکرم کے پاس نماز، دعاء اور درود و سلام سے اس لیے منع کر دیا گیا کہ قبر مکرم کی اہانت نہ ہو بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ قبر مکرم کو وثن اور حجرہ مبارک کو عید گاہ بننے سے محفوظ کر دیا گیا ہے، جیسا کہ اہل کتاب یہود و نصاری نے اپنے انبیاء کی قبروں کے ساتھ کیا تھا۔ قبر مکرم پر موٹی موٹی ریت ڈال دی گئی ہے، قبر مکرم پر نہ تو کوئی پتھر ہے اور نہ لکڑی وغیرہ اور نہ ہی وہ مٹی وغیرہ سے لپی ہوئی ہے، جیسا کہ دوسری عام قبور کے ساتھ جاہل عقیدت مند کرتے ہیں۔ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رب کریم سے دعاء کی تھی کہ ان کی قبر کو وثن (معبود و عبادت گاہ) نہ بننے دینا، لہذا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء کو ایسا قبول فرمایا کہ آپ کی قبر مکرم تک پہنچنا ناممکن بنا دیا گیا ہے اور قبر مکرم ایسی قبور کی طرح نہیں ہے جن کو عبادت گاہ بنا لیا گیا ہو یا بنایا جا سکتا ہو۔
مذکورہ دعاء کی اہمیت و ضرورت :
پہلی امتوں میں سے کوئی امت اگر بدعت و گمراہی میں ڈوب جاتی تو اللہ تعالیٰ کسی نئے نبی کو مبعوث فرما دیتا جو ان کو راہ راست پر لے آتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا، اس لیے اللہ نے امت محمدیہ کو اجتماعی طور پر گمراہ ہونے سے محفوظ کر رکھا ہے اور اسی طرح قبر مکرم وثن بننے سے محفوظ ہے۔ اگر اللہ نہ کرے آپ کی قبر (معبود) بن جاتی تو آپ کے بعد کوئی نبی نہیں جو امت کو اس سے روک سکتا۔ پہلی امتوں میں عام طور پر اپنے ہی لوگ غالب آئے تھے جو مشرکانہ رسوم و آداب کی پیروی کرتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرما دی کہ آپ کی امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، جو شخص ان کی مخالفت یا ان کی توہین کا ارادہ کرے گا وہ انہیں تکلیف نہیں پہنچا سکے گا۔
(صحيح بخاري ۔ كتاب المناقب : باب (28) (حدیث : 3641) صحيح مسلم كتاب الامارة : باب قوله لا تزال طائفة من امتى ظاهرين (حدیث : 1920- 1942)
چنانچہ اہل بدعت کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ قبر مکرم پر ایسی بدعات کر سکیں جو دوسرے انبیاء کی قبروں پر روا رکھی گئی ہیں۔