تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا: ” اِحْسَانًا “} امر {” أَحْسِنُوْا“} کا مصدر ہے، جو تاکید کے لیے ہے اور امر کی جگہ آتا ہے۔ اس کے ساتھ امر کا لفظ ذکر نہیں ہوتا مگر مراد امر تاکیدی ہوتا ہے، یعنی والدین کے ساتھ بہت نیکی کرو۔ {” اِمَّا “} اصل میں {” إِنْ مَا“ } ہے، {”مَا“} شرط کی تاکید کے لیے ہے، یعنی ”اگر کبھی۔“ ان آیات کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اور والدہ دونوں فوت ہو چکے تھے، ان دونوں یا ایک کا بڑھاپے میں پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دینے کے باوجود اصل حکم ہر شخص کو ہے۔ ماں باپ خواہ بوڑھے ہوں یا جوان، ہر حال میں ان کا ادب کرنا اور ان سے نرمی سے بات کرنا فرض اور انھیں جھڑکنا گناہ ہے، مگر چونکہ بڑھاپے میں خدمت کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے، بلکہ بسااوقات زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے ہوش و حواس بھی ٹھکانے نہیں رہتے، اس لیے خاص طور پر بڑھاپے کا ذکر فرمایا۔
➌ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر صرف اپنی عبادت کی تاکید کے ساتھ والدین سے احسان کا ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۳۶) اور سورۂ بقرہ (۸۳) دوسرے مقامات پر واضح فرمایا کہ ان سے حسن سلوک لازم ہے، خواہ وہ کافر و مشرک ہوں، بلکہ اگرچہ شرک و کفر کی دعوت بھی دیتے ہوں۔ دیکھیے سورۂ لقمان (۱۵) اور سورۂ عنکبوت (۸) احادیث میں بھی والدین سے حسن سلوک کی بہت تاکید آئی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، قِيْلَ مَنْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ] [مسلم، البر والصلۃ، باب رغم من أدرک أبویہ…: 2551/10] ”اس کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو۔“ پوچھا گیا: ”یا رسول اللہ! کس کی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان میں سے ایک کو یا دونوں کو، پھر وہ جنت میں داخل نہ ہوا۔“
➍ {” عِنْدَكَ “} کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تم والدین کے پاس تھے اور ان کے محتاج تھے، اب وہ بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے تمھارے پاس اور تمھارے محتاج ہیں۔ چنانچہ انھیں ”اف“ بھی نہ کہو، جو اکتاہٹ اور بے ادبی کا ہلکے سے ہلکا لفظ ہے، پھر اس سے زیادہ کوئی سخت لفظ بولنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
➎ { قَوْلًا كَرِيْمًا:} بعض اہلِ علم نے اس کی تفسیر میں قول کریم کی نقشہ کشی یوں فرمائی کہ ان سے ایسے بات کر جیسے ایک خطا کار غلام اپنے سخت مزاج آقا سے بات کرتا ہے اور بعض نے فرمایا کہ بچپن میں جس طرح تمھارے پیشاب پاخانہ کو صاف کرتے وقت وہ کوئی کراہت محسوس نہ کرتے تھے، بلکہ محبت ہی سے پیش آتے تھے، اب تم بھی ان سے وہی سلوک کرو۔ (بغوی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اسی عہد کا خلاصہ اس جملہ میں آ گیا ہے یعنی اقرار ایک تو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے موجود ہونے پر تھا اور دوسرے اس بات پر کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں بنایا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خصوصا ان کے بڑھاپے کے زمانے میں ان کا پورا ادب کرنا، کوئی بری بات زبان سے نہ نکالنا یہاں تک کہ ان کے سامنے ہوں بھی نہ کرنا، نہ کوئی ایسا کام کرنا جو انہیں برا معلوم ہو، اپنا ہاتھ ان کی طرف بےادبی سے نہ بڑھانا، بلکہ ادب، عزت اور احترام کے ساتھ ان سے بات چیت کرنا، نرمی اور تہذیب سے گفتگو کرنا، ان کی رضا مندی کے کام کرنا، دکھ نہ دینا، ستانا نہیں، ان کے سامنے تواضع، عاجزی، فروتنی اور خاکساری سے رہنا۔
ان کے لیے ان کے بڑھاپے میں ان کے انتقال کے بعد دعائیں کرتے رہنا۔ خصوصا یہ دعا کہ اے اللہ ان پر رحم کر جیسے رحم سے انہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔ ہاں ایمانداروں کو کافروں کے لیے دعا کرنا منع ہو گئی ہے گو وہ ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں؟
پھر فرمایا اس شخص کی ناک بھی اللہ تعالیٰ خاک آلود کرے جس کی زندگی میں ماہ رمضان آیا اور چلا بھی گیا اور اس کی بخشش نہ ہوئی۔ آمین کہئے چنانچہ میں نے اس پر بھی آمین کہی۔ پھر فرمایا اللہ اسے بھی برباد کرے۔ جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو پا لیا اور پھر بھی ان کی خدمت کر کے جنت میں نہ پہنچ سکا کہئے آمین میں نے کہا آمین۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس حدیث کی ایک سند میں ہے { جس نے اپنے ماں باپ کو یا دونوں میں سے کسی ایک کو پا لیا پھر بھی دوزخ میں گیا اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے۔ } ۱؎ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد]
مسند احمد کی ایک روایت میں { یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوئی ہیں یعنی گردن آزاد کرنا خدمت والدین اور پرورش یتیم۔ } ۱؎ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ]
ایک روایت میں { ماں باپ کی نسبت یہ بھی ہے کہ اللہ اسے دور کرے اور اسے برباد کرے } الخ۔ ۱؎ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ]
ایک روایت میں { تین مرتبہ اس کے لیے یہ بدعا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2551]
ایک روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر درود نہ پڑھنے والے اور ماہ رمضان میں بخشش الٰہی سے محروم رہ جانے والے اور ماں باپ کی خدمت اور رضا مندی سے جنت میں نہ پہنچنے والے کے لیے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بدعا کرنا منقول ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ { میرے ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ میں کوئی سلوک کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں چار سلوک (١) ان کے جنازے کی نماز (٢) ان کے لیے دعا و استغفار (٣) ان کے وعدوں کو پورا کرنا (٤) ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور وہ صلہ رحمی جو صرف ان کی وجہ سے ہو۔ یہ ہے وہ سلوک جو ان کی موت کے بعد بھی تو ان کے ساتھ کر سکتا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:5142،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
{ آپ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تمہیں تمہارے باپوں کی نسبت وصیت فرماتا ہے اللہ تمہیں تمہاری ماؤں کی نسبت وصیت فرماتا ہے۔ پچھلے جملے کو تین بار بیان فرماکر فرمایا اللہ تمہیں تمہارے قرابت داروں کی بابت وصیت کرتا ہے، سب سے زیادہ نزدیک والا پھر اس کے پاس والا۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3661،قال الشيخ الألباني:حسن]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دینے والے کا ہاتھ اونچا ہے اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر جو اس کے بعد ہو اسی طرح درجہ بدرجہ۔ } ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح]
بزار کی مسند میں ضعیف سند سے مروی ہے کہ { ایک صاحب اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے طواف کرا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے لگے کہ اب تو میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ایک شمہ بھی نہیں۔ } ۱؎ [طبرانی صغیر:255:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما نهى تعالى عن الشرك به؛ أمر بالتوحيد، فقال: {وقضى ربُّك}: قضاء دينيًّا، وأمر أمراً شرعيًّا {أن لا تعبُدوا}: أحداً من أهل الأرض والسماوات الأحياء والأموات، {إلاَّ إيَّاه}: لأنَّه الواحد الأحد، الفرد الصمد، الذي له كلُّ صفة كمال، وله من تلك الصفة أعظمها، على وجهٍ لا يشبهه أحدٌ من خلقه، وهو المنعِمُ بالنعم الظاهرة والباطنة، الدافع لجميع النِّقم، الخالق، الرازق، المدبِّر لجميع الأمور؛ فهو المتفرِّد بذلك كلِّه، وغيره ليس له من ذلك شيء. ثم ذكر بعد حقِّه القيام بحقِّ الوالدين، فقال: {وبالوالدين إحساناً}؛ أي: أحسنوا إليهما بجميع وجوه الإحسان القوليِّ والفعليِّ؛ لأنهما سببُ وجود العبد، ولهما من المحبَّة للولد والإحسان إليه، والقرب ما يقتضي تأكُّد الحقِّ ووجوب البرِّ. {إمَّا يَبْلُغَنَّ عندَكَ الكِبَرَ أحدُهما أو كلاهما}؛ أي: إذا وصلا إلى هذا السنِّ الذي تضعُفُ فيه قواهما ويحتاجان من اللُّطف والإحسان ما هو معروفٌ، {فلا تَقُلْ لهما أفٍّ}: وهذا أدنى مراتب الأذى، نبَّه به على ما سواه، والمعنى: لا تؤذِهِما أدنى أذيَّة، {ولا تَنْهَرْهُما}؛ أي: تزجُرهما وتتكلَّم لهما كلاماً خشناً. {وقلْ لهما قولاً كريماً}: بلفظٍ يحبَّانه، وتأدَّب وتلطَّف بكلام ليِّن حسن يلذُّ على قلوبهما، وتطمئنُّ به نفوسهما، وذلك يختلفُ باختلاف الأحوال والعوائد والأزمان.